https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، داخلی امن, محکمہ خارجی امور , محکمہ صنعت (70-74)

دفعہ نمبر 71: پولیس

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 71: پولیس دوقسم کی ہوتی ہے : ملٹری پولیس جوامیر جہاد یعنی شعبہ حرب کے ماتحت ہوتی ہے دوسرے قسم وہ پولیس ہے جوامن وامان برقرار رکھنے کے لیے حکمران کے پاس ہوتی ہے اور محکمہ داخلی امن کے تابع ہوتی ہے ۔پولیس کے دونوںقسموں کو خاص قسم کی تربیت ثقافت (تعلیم وتربیت) دی جاتی ہے تاکہ وہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریوں کو اداکرسکے۔

 

Article 71: The police (Shurtah) have two branches: the military police, who are under the command of the Amir of Jihad, in other words, the war department, and the police who are under the control of the Ruler to protect the security, and they are under the authority of the Department of Internal Security. The two branches have specific training and specific culture in order for them to carry out their responsibilities in the best manner.

Police forces are divided into two parts: the military police and the police that work under the command of the Ruler, who must have a special uniform and special signs specific for keeping security.

Al-Azhari said: “Shurtah of any thing is its best. This includes Shurat because they are the best soldiers. It is also said that Shurtah are the first group that come ahead of the Army. It is also mentioned that they are called Shuratan because they have signs that characterise them, in terms of uniform and status”, this is also chosen by Al-Asma’i. It is also mentioned in Al-Qamus: “Shurtah, where the individual is called Shurat, would mean the first battalion that attend the war and is ready for death, it is also the helper of the governors; and they were called so because they announced themselves through signs that characterise them.”

In regards to the military police, which is one of the divisions of the Army that has its sign, it comes ahead of the Army to control its matters, it is a part of the Army and follows the Amir of Jihad; in other words, it follows the war department.

Regarding the police that are put under the service of the rulers, they follow the Department of Internal Security. Al-Bukhari narrated from Anas:

«إِنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ كَانَ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ  صلى الله عليه وآله وسلم بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الأَمِيرِ»

“Qais bin Sa`d was to the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم like a chief police officer to an Amir”. What is meant here is Qays Ibn Sa’d Ibn ’Ubadah Al-Ansari Al-Khazraji. Al-Tirmidhi narrated it with the wording:

«كَانَ قَـيْسُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ النَّبِيِّ  صلى الله عليه وآله وسلم بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الأَمِيرِ، قَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَعْنِي مِمَّا يَلِي مِنْ أُمُورِهِ»

“Qais bin Sa`d was to the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم like a chief police officer to an Amir. Al-Ansari said: It means he was one that discharged his issues”.

The Khalifah is allowed to make all the police that are responsible for internal security part of the Army, in other words, that they are placed within the war department, and he is also permitted to make an independent department, in other words, an internal security department.

In this article it is adopted that this section will be independent; in other words, the police that are placed under the service of the rulers to protect their security must follow the Internal Security Department as an independent organisation that answer directly to the Khalifah like other State organisations. This is due to the narration from Anas mentioned previously about Qays Ibn Sa'd, and following the independence of the four departments related to Jihad as mentioned before. Each one of them would follow the Khalifah, rather than to be left all together as one organisation.

Thus the Shurtah would follow the Department of Internal Security.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 44:…

دفعہ نمبر 44: معاون تفویض کو اختیارات سونپنے کی یہ شرط ہے کہ اختیارات دیتے وقت دوباتوں کو مدِنظر رکھنا چاہیے ، پہلی بات یہ کہ اختیارات عمومی ہونے چاہیے ، دوسری با ت یہ کہ وہ خلیفہ کا نائب بنا دیا جائے یا اس سے ملتے جلتے اور کوئی الفاظ استعمال کرے جن سے یہ واضح ہوتا ہو کہ معاون کو ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک ذمہ داری سے دوسری ذمہ داری کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے اور اس کا م کے لیے نئے سرے سے اختیا…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 45:…

دفعہ نمبر 45: معاون تفویض پرلازم ہے کہ وہ اپنی تدبیر اور احکامات کے نفاذ کے بارے میں خلیفہ کو با خبر رکھے تا کہ وہ اپنے اختیارات کی وجہ سے خلیفہ کی طرح نہ بن جائے بلکہ برابر خلیفہ کو اطلاع دیتا رہے اور خلیفہ اس کو جو حکم دے وہ اسی کو نا فذ کرے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 46:…

دفعہ نمبر 46: خلیفہ پر فرض ہے کہ وہ معاون تغویض کے اعمال اور اس کی جانب سے امور کی تدبیر کا جائزہ لیتا رہے تا کہ صحیح کی توثیق کرے اور غلطی کا ازالٰہ کرے ، کیونکہ امت کے معاملات کی تدبیرکی ذمہ داری خلیفہ کی ہے اور اسی کی رائے اور اجتہاد پر مو قوف اور منحصر ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 56:…

دفعہ نمبر 56: ہر ولایہ میں اہل ولایہ کی ایک منتخب اسمبلی ہوگی جس کے سربراہ خود والی ہوں گے اور اس اسمبلی کے پاس صرف انتظامی امور کے حوالے سے رائے دینے کا اختیار ہوگا حکمرانی کے معاملات میںاس کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ یہ اختیار بھی دو مقاصد کے لیے ہوگا۔ پہلامقصد: ولایہ کی زمینی حقائق اور ضروریات کے بارے میں والی کو ضروری معلومات مہیا کرنا اور اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا۔ دوسرا مقصد: والی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 158:…

دفعہ نمبر 158: ریاست رعایا کے افراد کے لیے اس بات کو آسان اور ممکن بنائے گی کہ وہ اپنی آسائشوں Luxuries کو جہاں تک ممکن ہوپورا کرسکیں اور درجہ ذیل طریقے سے معاشرے میںدولت کاتوازن پیدا کریگی۔ (الف) بیت المال میں موجود منقول اور غیر منقول اموال اور مال فئے وغیرہ رعایامیں بانٹے گی۔ (ب) جن لوگوں کے پاس زمین نہ ہو، ان کو آباد اور غیر آباد زمین دے گی البتہ جن کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے فائدہ نہ…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 40

دفعہ نمبر 40: وہ امور جن سے خلیفہ کی حالت بدل جاتی ہے اوروہ خلیفہ کے منصب سے خارج ہو جاتا ہے وہ تین ہیں۔ ا) انعقاد خلافت کی شرائط میں سے کسی شرط میں خلل (نقص) آجائے ،جیسا کہ وہ مر تد ہو جائے، کھلم کھلا فسق پر اتر آئے ، پاگل ہو جائے یا اسی قسم کی کوئی دوسری صورت پیش آئے۔کیونکہ یہ شرائط انعقاد کی شرائط بھی ہیں اور شرائطِ دوام (تسلسل کی شرائط) بھی ہیں۔ ب) کسی بھی سبب سے وہ خلافت کی ذمہ داری سے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 4:…

دفعہ نمبر 4: خلیفہ عبا دات میں سے سوائے زکوٰ ۃ ، جہا د اور اس چیز کے جو مسلمانوں کی وحدت کی حفاظت کے لیے ضروری ہو کسی اور عبا دت میں کسی خا ص شرعی حکم کی تبنی نہیں کرے گا ۔ اور اسلامی عقیدے سے متعلقہ افکا ر میں سے بھی کس خا ص فکر کی تبنی نہیں کر ے گا ۔