https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، خلیفہ (24-41)

دفعہ نمبر 33:

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 33: (نئے خلیفہ کے تقرر کے سلسلے میں) ایک عبوری (وقتی ) امیر مقرر کیا جائے گا جو مسلمانوں کے امور کی دیکھ بھال کرے اورمنصب خلافت کے خالی ہونے کے بعدنئے خلیفہ کے تقرر کے عمل کا آغاز کرے، جو یہ ہو گا:

  • ا) سابق خلیفہ جب یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے یا وہ سبکدوش ہونے کا ارادہ کرے تو اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ایک عبوری امیر مقرر کرے۔
  • ب) اگر عبوری امیر کے تقرر سے قبل خلیفہ کا انتقال ہو جائے یا وہ مستعفی ہو جائے یا خلیفہ کے انتقال یا استعفیٰ کے علاوہ کسی اور وجہ سے منصب خلافت خالی ہو جائے تو وہ معاون جو معاونین میں سب سے عمر رسیدہ ہو گا وہ عبوری امیر ہو گا سوائے اس کے کہ وہ معاون بذاتِ خود خلافت کا امیدوار ہو ۔ ایسی صورت میں وہ معاون عبوری امیر ہو گا جو عمر میں اس سے کم ہو ،علیٰ ھذالقیاس۔
  • ج) اگر تما م معاونین خلافت کے امیدوار ہوں تب وزراء تنفیذ میں سے سب سے عمر رسیدہ وزیر (معاون) عبوری امیر ہو گا اگر وہ بھی خلافت کا امیدوار ہوتو اس کے بعد والا، علیٰ ھذا لقیاس۔
  • د) اگر تمام تر وزراء ِ تنفیذ خلافت کے امیدوار ہوں تو وزرائِ تنفیذ میں سے سب سے کم عمر وزیر عبوری امیر ہو گا۔
  • ھ) عبوری امیر کو احکام کی تبنی کا اختیار نہیں ہو گا۔
  • و) عبوری امیر تین دن کے اندراندر نئے خلیفہ کے تقرر کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا اور اس مدت میں توسیع کی اجازت نہیں سوائے اس کہ محکمہ المظا لم کسی شدید سبب کی بناء پر اس مدت میں توسیع کردے۔

 

Article 33: A temporary leader is appointed to take charge of the affairs of the Muslims, and to prepare for the election of the new Caliph (Khalifah) after the vacation of the position of the Caliphate (Khilafah) according to the following process:

  1. When the previous Caliph (Khalifah) feels that his life is coming to an end, or is committed to resigning, he has the right to appoint the temporary leader.
  2. If the Caliph (Khalifah) dies or resigns before appointing the temporary leader, or the position of the Caliphate (Khilafah) becomes vacant due to another reason, then the eldest of the assistants becomes the temporary leader unless he intended to be a candidate for the Caliphate (Khilafah) in which case the next senior assistant is to be given the position and so on.
  3. If all of the assistants intend to be candidates, then the eldest of the executive ministers will become the temporary leader or the one after him in seniority if he intends to be a candidate, and so on.
  4. If all of the executive ministers intend to be candidates for the Caliphate (Khilafah), then the position of the temporary leader is given to the youngest executive minister.
  5. The temporary leader does not have the right to adopt rules.
  6. The temporary leader makes all effort to complete the appointment of a new Caliph (Khalifah) within three days, and it is not permitted for this to be extended except due to overwhelming circumstances approved by the Madhalim court.

When the Caliph (Khalifah) feels that his death is close, close to the time that the Caliphate (Khilafah) would become vacant, he may appoint a temporary leader to be responsible for the Muslims’ affairs during the period of steps being taken to appoint the new Caliph (Khalifah). He would undertake his work after the death of the Caliph (Khalifah) and his main work would be to complete the appointment of the new Caliph (Khalifah) within three days.

It is not permitted for the temporary leader to adopt rules, since this is the right of the Caliph (Khalifah) who has been given a pledge by the Ummah. In the same manner, it is not permitted for him to be nominated for the Caliphate (Khilafah) or to support the nominees, since Umar (ra) appointed someone other than those who were nominated for the Caliphate (Khilafah).

The responsibility of this leader ends with the appointment of the new Caliph (Khalifah) since his task was time-constrained to this goal.

The evidence for this is what Umar (ra) did when he was stabbed and this was done without any opposition from the companions and so is considered to be an Ijma’.

Umar (ra) said to the six candidates

«وليصلِّ بكم صهيب هذه الأيام الثلاثة التي تتشاورون فيها»

Let Suhayb lead you in prayers during the three days of your consultation” and then he said to Suhaib, as mentioned in Tarikh Al-Tabari,

«صل بالناس ثلاثة أيام، إلى أن قال: فإن اجتمع خمسة، ورضوا رجلاً، وأبى واحد، فاشدخ رأسه بالسيف ...»

“lead the people in prayer for three days ..until he said: if five of them agree upon a man while one disagreed, then strike his head with a sword..”. This means that Suhaib was appointed as a leader over them – he was appointed as a leader for the prayer and leadership of the prayer meant leadership over the people. Also, he was given the right to apply the punishment (strike his head) and the only one who can establish punishment by death is the leader.

This issue took place in front of the companions without any dissenters and so it is an Ijma’ that the Caliph (Khalifah) can appoint a temporary leader who undertakes the steps to appoint the new Caliph (Khalifah). In the same manner based upon this it is permitted for the Caliph (Khalifah) during his lifetime to adopt an article which would state that if he died without appointing a temporary leader to oversee the appointment of a new Caliph (Khalifah), someone is to be the temporary leader.

Based upon this, it is adopted that if the Caliph (Khalifah) did not appoint a temporary leader during his terminal illness, then the temporary leader would be the eldest of his assistants as long as they are not a candidate, in which case it would be the next senior in age from his assistants, and so on, and then the executive ministers in the same manner.

This is applied in the event of the removal of the Caliph (Khalifah), so the temporary leader would be the eldest assistant as long as he is not a candidate, and if he is a candidate then the next one in seniority and so on until all the assistants are considered, in which case it would then fall to the eldest executive minister and so on. If all of them want to be candidates then the youngest of the executive ministers is compelled to become the temporary leader.

This leader is different from the one the Caliph (Khalifah) appoints in his place when he goes out for Jihad or a journey, as the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم used to do when he went out for Jihad or the final Hajj, or similar. In this situation the one who is delegated in his stead has the powers that the Caliph (Khalifah) defines for him to take care of the affairs necessitated by the delegation.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 140…

دفعہ نمبر 140 : امت کے افراد میںسے ہر فرد کو اسی چیز سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے جو عوامی ملکیت میں داخل ہے ۔ ریاست کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی خاص شخص کو عوامی ملکیت سے فائدہ اٹھانے یا اس کا مالک بننے کی اجازت دے ۔اور باقی رعایا کو اس سے محروم رکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 18:…

دفعہ نمبر 18: حکمران چار ہیں :خلیفہ ، معاون تفویض ، والی اور عامل ، یا وہ جو ان کے حکم میں داخل ہوں۔ ان کے علاوہ کو ئی حکمران نہیں بلکہ صرف اور صرف ملا زمین ہیں ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 54:…

دفعہ نمبر 54: والی کوخلیفہ کے نائب ہونے کی وجہ سے اپنے ولایہ میںحکمرانی اور ولایہ کے محکموں کی نگرانی کااختیا ر حاصل ہے ۔اس کواپنے ولایہ میں محکمہ مالیات ،قضاء ( عدلیہ) اور فوج کوچھوڑکر باقی تمام محکموں کے بارے میں تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔ وہ اہل ولایہ کاامیر ہے اور ولایہ سے متعلق تمام امور کا نگران ہے تاہم پولیس بحیثیت ادارہ اس کے ماتحت نہیں ہوگی لیکن احکامات کی تنفیذ کے لیے اس کے ماتحت ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 180…

دفعہ نمبر 180 : تعلیم کے تمام مراحل میں تا لیف سے فائدہ اٹھانے (کاپی رائٹ) کی اجازت نہیںہوگی۔ کوئی بھی شخص جس نے کتاب لکھ کر شائع کی اس کے بعد اس کو کاپی رائٹ کے حقوق حا صل نہیں ہو ںگے خواہ یہ شخص مولف ہو یا کوئی اور ۔ہاں جب تک افکار اس کے ذہن میں ہیں ان کی نشرو اشاعت نہیں ہوئی تو وہ ایسے افکار لوگوں کودے کر اس پر اجرت لے سکتا ہے جیسا کہ پڑھا کر اجرت لی جاتی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 28:

دفعہ نمبر 28: صرف وہی شخص خلیفہ بن سکتا ہے جسے مسلما ن منتخب کریں ۔ کسی بھی شخص کو خلیفہ کے اختیارات اس وقت حاصل ہوں گے جب دوسرے شرعی عقود کی طرح اس کی بیعت کا عقد شرعی طور پر مکمل ہو جائے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 176:…

دفعہ نمبر 176: فنون اور صنعت ایک لحاظ سے سائنس ہیں جیسے تجارتی فنون، فن جہاز رانی یا فنون زراعت۔ اس قسم (سائنسی نوعیت )کے فنون کو بغیر کسی قید و شرط کے اختیار کیا جائے گا۔ دوسرے پہلو سے یہ فنون جب زندگی کے بارے میں نقطہ نظر سے متاثر ہوتے ہیں تو ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں جیسے تصویر سازی اور آرٹس (پینٹنگ)۔اس صورت میں اگر یہ اسلام کے نقطہ نظر سے مخالفت رکھتے ہوں تو ان علوم کو ہرگز حاصل نہیں کیا جائے…