https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، خلیفہ (24-41)

دفعہ نمبر 29:

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 29: وہ ملک یا خطہ جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت انعقاد کرے، کے لیے شرط ہے کہ اس ملک کا اقتدار اس کا اپنا ہو، جس کا انحصار صرف مسلمانوں پر ہو اور کسی کافر ریاست کا اقتدار میں کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس ملک کی داخلی وخارجی امان اور مسلمانوں کی امن و سلامتی اسلام کی وجہ سے ہو نہ کہ کفار کے بل بوتے پر۔ جو علاقے صرف خلیفہ کی اطاعت کی بیعت کریں ان کے لیے یہ شرط لازم نہیں۔

 

Article 29: It is stipulated that the authority of the region or the country that gives the Caliph a contracting pledge is autonomous dependent upon the Muslims alone, and not upon any disbelieving state; besides the security of the Muslims in that country, both internally and externally, is by the security of Islam not the security of the disbelief. With respect to the pledge of obedience taken from other countries, there are not such conditions.

The evidence is the forbiddance of the disbelievers having authority over the Muslims, in accordance with the His (swt) words

((وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا (141)))

And never will Allah give the disbelievers over the believers a way [to overcome them].(TMQ 4:141), so if the authority of the disbelievers over the Muslims is present in any part of the Islamic lands, then that land would not be suitable to establish the Caliph, since the establishment of a Caliph is simply the establishment of an authority. Since that land does not possess the authority it ,therefore, cannot give it. Also its authority is an authority of disbelief, and the Caliph is not established with the authority of disbelief.

This is from the angle of the authority; as for the issue of security, its evidence is the evidence for Dar Al-Islam and Dar Al-Kufr, since the establishment of the Caliph would make the abode into an abode of Islam, and it is not possible for an abode to be an abode of Islam simply by establishing the rule of Islam but rather it is imperative that its security is by the security of Islam and not that of disbelief, since the conditions for the abode to be considered an abode of Islam are: firstly, to be ruled by Islam and secondly, for its security to be the security of Islam and not the security of disbelief.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 182:…

دفعہ نمبر 182: کسی فرد، حزب گروہ یا جماعت کے لئے جائز نہیں کہ اس کے کسی بھی اجنبی ریاست سے کسی بھی قسم کے تعلقات ہوں۔ریاستوںکے ساتھ تعلقات صرف اور صرف ریاست کا کام ہے۔ کیو نکہ صرف ریاست کوہی عملی طور پر امت کے معاملات کی دیکھ بھال کا حق حاصل ہے۔ امت اور پارٹیوں( جماعتوں) کا کام ان خارجہ تعلقات کے حوالے سے ریاست کا محاسبہ کرنا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 19:…

دفعہ نمبر 19: حکمرانی یا حکمرانی میں داخل کو ئی بھی کا م کی ذمہ داری صرف اور صرف مر د، آزاد ، با لغ، عاقل ،قا در اور با صلا حیت شخص اٹھائے گا اور اس کا مسلما ن ہو نا بھی لا زمی شرط ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 84:…

دفعہ نمبر 84: محتسب وہ قاضی ہے جو اُن تمام مقدمات پر نظر رکھتا ہے جن کا تعلق عام حقوق سے ہواور اس میں کوئی مدعی نہیں ہوتا،بشرطیکہ یہ حدود اور جنایات(جرائم) میں داخل نہ ہوں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 73:…

دفعہ نمبر 73: دفتر خارجہ ہی اسلامی ریاست (خلافت) اور دوسرے ممالک کے درمیان تعلقات سے متعلقہ تمام امور کا ذمہ دار ہے خواہ یہ تعلقات سیاسی پہلو سے ہوں یا اقتصادی اور صنعتی یا زرعی اور تجارتی یا پھرمواصلاتی رابطے ہوںجیسے ڈاک سسٹم یا ٹیلی کمیونیکیشن یا موبائل سسٹم وغیرہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 163:…

دفعہ نمبر 163: افراد کو ایسی تجربہ گاہوں کے مالک بننے سے روک دیا جائے گا جو ایسا مواد تیار کریں جن کا افراد کی ملکیت میں ہونا امت یا ریاست کے لیے نقصان یا ضرر کا سبب ہوسکتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 43:…

دفعہ نمبر 43: معاون کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو خلیفہ کے لیے ہیں یعنی وہ مرد ہو ، آ زاد ہو ، مسلمان ہو ، با لغ ہو ، عاقل ہو، عادل ہو ، قادر ہو اور اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 158:…

دفعہ نمبر 158: ریاست رعایا کے افراد کے لیے اس بات کو آسان اور ممکن بنائے گی کہ وہ اپنی آسائشوں Luxuries کو جہاں تک ممکن ہوپورا کرسکیں اور درجہ ذیل طریقے سے معاشرے میںدولت کاتوازن پیدا کریگی۔ (الف) بیت المال میں موجود منقول اور غیر منقول اموال اور مال فئے وغیرہ رعایامیں بانٹے گی۔ (ب) جن لوگوں کے پاس زمین نہ ہو، ان کو آباد اور غیر آباد زمین دے گی البتہ جن کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے فائدہ نہ…