https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، خلیفہ (24-41)

دفعہ نمبر 26: خلیفہ منتخب کرنے کا حق

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 26: ہر مسلمان با لغ عا قل مرد ہویا عورت کو ریا ست کا سربراہ منتخب کرنے اوراس کی بیعت کرنے کا حق حا صل ہے، غیر مسلم ذمی کو یہ حق حا صل نہیں ۔

 

Article 26: Every sane, adult Muslim, a male or a female, has the right to elect the leader of the State and to give him the pledge of allegiance; while the non-Muslims do not have such right.

The reality of the Khilafah is evidence that every Muslim has the right to elect the Khalifah and to give him the pledge, since there are narrations which indicate that it is the Muslims who give the pledge of allegiance to the Khalifah, irrespective of whether they were male or female; it is narrated by ‘Ubadah b. Samit

«بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم ...»

“We gave the oath of allegiance to the Messenger of Allah…” reported by Al-Bukhari, and narrated from Um Attiyya who said

«بايعنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ...»

“We have the oath of allegiance to the Messenger of Allah…” also from Al-Bukhari, and what Ibn Kathir reported in Al-Bidayah Wal-Nihayah when ‘Abd al Rahman b. ‘Auf was appointed to take the opinion of the Muslims as to who should be the Khalifah he said “He took men’s and women’s opinions”, and not one of the companions rebuked him over this. So every Muslim, a male or a female, has the right to elect the Khalifah and to give him the pledge of allegiance. As for the non-Muslims they have no right in these issues since the pledge of allegiance is upon the Book and the Sunnah and he does not believe in either of them, since if he believes in them he would be a Muslim.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 25:…

دفعہ نمبر 25: خلیفہ رضا مندی اور اختیار کا عقد ہے، اس لیے کسی کو اس کے قبول کرنے پر مجبور نہیںکیا جاسکتا نہ ہی کسی کو اس بات پر مجبور کیا جاسکتا ہے کہ فلاح شخص کو ہی تم نے خلیفہ منتخب کرنا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 145:…

دفعہ نمبر 145: خراجی زمین پر خراج اس زمین کے مطابق لیا جائے گا جبکہ عشری زمین پر زکوۃ اس کی عملی پیداوار پر لی جائے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 22:…

دفعہ نمبر 22: نظا مِ حکومت مندرجہ ذیل چا ر بنیا دوں پر قا ئم ہو تا ہے : ا۔ با لا دستی (حا کمیت اعلیٰ Sovereignity-) شرع کو حاصل ہے عوام کو نہیں ۔ ب ۔ اقتدار امت کا ہے ۔ ج۔ ایک ہی خلیفہ کا تقرر مسلما نو ں پر فرض ہے ۔ د۔ صر ف خلیفہ کو ہی احکا م شرعیہ کی تبنی کا حق حا صل ہے اور وہی دستور اور قوانین مرتب کر سکتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 69:…

دفعہ نمبر 69: یہ بھی فرض ہے کہ فوج کے پا س و افر مقدارمیں اسلحہ ، آلاتِ جنگ ،سازو سامان اور جنگی مہمات کے لیے لازمی اور ضروری چیزیں ہوں تاکہ ایک اسلامی فوج ہونے کی حیثیت سے وہ باآ سا نی اپنی ذمہ داری کو اداکر سکے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 126:…

دفعہ نمبر 126: مال صرف اللہ تعالیٰ کا ہے اسی نے بنی نوع انسان کو اس مال میں اپنا جانشین بنایا ہے اور اسی عمومی جانشینی کی وجہ سے انسان کو ملکیت کا حق حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہی نے فرد کو اس مال کا مالک بننے کی اجازت دی ہے، اسی خاص اجازت کی وجہ سے انسان بالفعل(عملی طور پر) مال کا مالک بن گیا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 53:…

دفعہ نمبر 53: خلیفہ کی جانب سے ہی والیوں کا تقررہوتاہے اور عمال کا تقرر بھی خلیفہ ہی کرتاہے یا اگر وہ والیوں کو یہ ذمہ داری دے تو وہ بھی عمال مقررکرسکتے ہیں۔ والیوں اور عمال کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو معاونین کے لیے ہیں اس لئے ان کا مسلمان ، مرد ، آ زاد، بالغ، عاقل، عادل ، اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کی صلاحیت رکھنے والا ہونا ضروری ہے۔ ان کا انتخاب متقی اور طاقتور شخصیت والوں میں سے ہوگا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 90:…

دفعہ نمبر 90: محکمہِ مظالم کو ریاست کے کسی بھی حکمران یا ملازم کو برطرف کرنے کا حق حا صل ہے جیسا کہ اس کو خلیفہ کو معزول کر نے کا حق حاصل ہے اور یہ اس وقت ہو گا جب کسی ظلم کے ازالے کا تقاضا ہو۔