https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 169: سٹیٹ بنک

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 169: بنک کھولنے کی مکمل ممانعت ہو گی اور صرف اسٹیٹ بنک موجود ہوگا۔ کوئی سودی لین دین نہ ہو گا اور اسٹیٹ بنک بیت المال کے محکموں میں سے ایک محکمہ ہو گا اوراسٹیٹ بنک احکام کے مطابق قرضے جاری کرے گااور مالیاتی اور کرنسی کے معاملات میں سہولیات فراہم کرے گا۔

 

 

Article 169: It is completely prohibited to open banks, and the only one permitted will be the State bank, and there are no transactions upon interest. This will be dealt with by a particular department of the Bayt Al-Mal. Financial loans will be undertaken in accordance with the rules of the Shari’ah and the financial and currency transactions will be facilitated.

 

The work of the bank falls under three types: interest based transactions such as bonds and credits, transferral transactions such as cheques and deposits.

The transferral transactions and deposits are both permitted according to the Shari’ah and the evidence for that are the evidences for transfers and the evidences for trusts. So it is permitted for a Muslim to open a bank in order to provide transferral transactions and services for deposits and whatever else that are similar from whatever are permitted by the Shari’ah such as currency transactions. In such a case, opening a bank would not be considered forbidden, since only the bank which operates with interest is forbidden. However, these transactions do not make large profits or its profits could only help in establishing something similar to the shops for currency traders. It would not be possible for anyone to open a bank with such money due to the lack of capability to make enough profits for it, since the profits from transfers and deposits, and the profits from currency exchange transactions are very small compared to the profits from interest, and the large profits are the profits which are from investments in interest based transactions and so these are the profitable investments. Accordingly the profits from transfers, deposits and currency exchange transactions would not be sufficient to open banks in the meaning they are known as in the world today, but rather it would only be sufficient to open shops with limited services, such as the shops of currency traders, which is not applicable to what are known as banks today. The opening of banks could not occur except with interest based transactions, and the bank is only opened for the sake of interest based transactions, and interest is forbidden (Haram) according to decisive Qur’anic text:

((وَحَرَّمَ الرِّبَا))

And has forbidden interest (usury), and for that reason opening a bank according to its current understanding is forbidden.

However, the giving of loans is permitted without restriction, due to the words of the Messenger :

«مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُقْرِضُ مُسْلِماً قَرْضاً مَرَّتَيْنِ إِلاَّ كَانَ كَصَدَقَتِهَا مَرَّةً»

There is no Muslim who gives a loan twice to another Muslim, but it will be like giving charity once.(reported by Ibn Maja from ‘Abd Allah b. Mas’ud), and it is reported from Anas who said:

«رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوباً: الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنْ الصَّدَقَةِ؟ قَالَ: لأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ، وَالْمُسْتَقْرِضُ لا يَسْتَقْرِضُ إِلاَّ مِنْ حَاجَةٍ»

On the night on which I was taken on the Night of ascent (Isra), I saw written at the gate of Paradise: 'Charity brings a tenfold reward and a loan brings an eighteen fold reward.' I said: 'O Jibril! Why is a loan better than charity?' He said: 'Because the beggar asks when he has something, but the one who asks for loan does so only because he is in need (reported by Ibn Maja).

Likewise, deposits are permitted due to the words of Allah (swt):

((إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا)) [النساء 58] وقال: ((فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ))

Indeed, Allah commands you to render trusts to whom they are due.” (TMQ 4:58), and He (swt) said: “And if one of you entrusts another, then let him who is entrusted discharge his trust [faithfully].” (TMQ 2:283), and due to the words of the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم :

«أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنْ ائْتَمَنَكَ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ»

Give the trust to the one who entrusted you, and don't betray who betrays you” (reported by Al-Tirmidhi from Abu Hurayrah, and he said: that the narration is Hasan Gharib). And it is reported about him  صلى الله عليه وآله وسلم :

«أَنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ وَدَائِعُ، فَلَمَّا أَرَادَ الهِجْرَةَ أَوْدَعَهَا عِنْدَ أُمِّ أَيْمَنَ، وَأَمَرَ عَلِيّاً أَنْ يَرُدَّهَا عَلَى أَهْلِهَا»

that he had some deposits with him, and when he wanted to make migration (Hijrah), he gave them to Um Ayman and ordered Ali to return them to their owners.” (as reported by Ibn Qudamah in Al-Mughni).

Transfer of loans is permitted due to the words of the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم :

«مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ»

The delay (of payment) by a rich person is injustice, but when one of you is referred for payment to a wealthy man, let him be referred.” (reported by Muslim),and in a version by Ahmad in Al-Musnad:

«وَمَنْ أُحِيلَ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَحْتَلْ»

whoever is referred for payment to a wealty man, then accept it.”.

These three transactions which the bank undertakes are permitted by the Shari’ah and the only thing forbidden is taking interest upon loans. The bank cannot be opened and operate except with interest, so, therefore, it is imperative to provide these services to people without interest, since they have become part of peoples’ affairs and accordingly it is necessary for the State to open a bank as a branch of the Bayt Al-Mal. Then it would undertake these three transactions according to the opinion and Ijtihad of the Imam, because they are part of the permitted issues whose management is run according to his opinion and Ijtihad, and so this is the evidence that the State must open a bank which would undertake the settling of peoples’ affairs.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر166:…

دفعہ نمبر166: ریاست اپنی ایک خاص کرنسی،آزادانہ طور پر جاری کرے گی اور اس کو کسی غیر ملکی کرنسی سے منسلک کرنا جائز نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 159:…

دفعہ نمبر 159: ریاست زرعی معاملات اور زرعی پیدوار کی نگرانی اُس زرعی پالیسی کے مطابق کرے گی جس کی رو سے زمین سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے جو کہ اعلیٰ درجہ کی پیداوار کی صورت میں حاصل ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 43:…

دفعہ نمبر 43: معاون کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو خلیفہ کے لیے ہیں یعنی وہ مرد ہو ، آ زاد ہو ، مسلمان ہو ، با لغ ہو ، عاقل ہو، عادل ہو ، قادر ہو اور اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 25:…

دفعہ نمبر 25: خلیفہ رضا مندی اور اختیار کا عقد ہے، اس لیے کسی کو اس کے قبول کرنے پر مجبور نہیںکیا جاسکتا نہ ہی کسی کو اس بات پر مجبور کیا جاسکتا ہے کہ فلاح شخص کو ہی تم نے خلیفہ منتخب کرنا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 68:…

دفعہ نمبر 68: ہر چھائونی میں ایسے کمانڈروں کی موجود گی انتہا ئی ضروری ہے جو جنگی منصوبہ بندی اور حکمت عملی ترتیب دینے میں اعلیٰ قسم کی مہارت اور تجربہ رکھتے ہوں اور پوری فوج میں بھی ایسے کمانڈروں کی تعداد ممکن حد تک زیاد ہ ہونی چاہئے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 158:…

دفعہ نمبر 158: ریاست رعایا کے افراد کے لیے اس بات کو آسان اور ممکن بنائے گی کہ وہ اپنی آسائشوں Luxuries کو جہاں تک ممکن ہوپورا کرسکیں اور درجہ ذیل طریقے سے معاشرے میںدولت کاتوازن پیدا کریگی۔ (الف) بیت المال میں موجود منقول اور غیر منقول اموال اور مال فئے وغیرہ رعایامیں بانٹے گی۔ (ب) جن لوگوں کے پاس زمین نہ ہو، ان کو آباد اور غیر آباد زمین دے گی البتہ جن کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے فائدہ نہ…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 75:…

دفعہ نمبر 75: عدلیہ کسی معاملے پر فیصلہ صادر کرتی ہے تاکہ اسے نافذ کیا جائے ۔یہی ادارہ لوگو ں کے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے یا جماعت کو پہنچنے والے نقصان سے منع کرتا ہے یا لوگوں اور حکمرانوں کے درمیا ن پیدا ہونے والے تنازعات کو ختم کرتا ہے خواہ یہ حکمران کوئی بھی ہو ، خلیفہ ہو ، اداروں کے ملازمین ہوں یا خلیفہ کے ماتحت کوئی حکمران ہو۔