https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر141 : عوامی مفاد کے لئے عوام کی جائیداد کی حفاظت کرو

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر141 : ریاست کے لئے جائز ہے کہ وہ بنجر زمین یا عوامی ملکیت میں داخل کسی بھی چیز کو رعایا کے مفادات کی خاطر محفوظ کرے ( اس کے استعمال کو ممنوع قرار دے)

 

 

Article 141: The State is allowed to protect some of the dead land and any part of public property for any public interest.

The evidence is the report that the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم said:

«لا حِمَى إِلاَّ للهِ وَلِرَسُولِهِ»

There is no Hima (for grazing the animals of Zakah) except for Allah and His Messenger.” reported by Al-Bukhari from Al-Sa’ab Bin Jathama, and the protection is to protect something that was for the general Muslims which then prevents the people from it, and to take it for themselves and so the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم prohibited that, or in other words, he صلى الله عليه وآله وسلم forbade it. Therefore, it is not permitted for any person to do it including the Khalifah for himself, because he cannot permit what Allah (swt) forbade. From this understanding, it is prohibited for the State to give ownership to someone for anything that is part of public property, which would lead to the prevention of others benefiting from it. As for the State itself, in other words, the Khalifah, it is permitted for him to take something from the dead land and public property for the sake of the interests of the Muslims, and not his own, and the evidence for this is what was reported from Ibn Umar who said:

«حَمَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم النَّقِيعَ لِخَيْلِ الْمُسْلِمِينَ»

The Prophet صلى الله عليه وآله وسلم protected (made it Hima) Al-Naqi’ for Muslims’ horses.” (reported by Ibn Hibban), and Al-Naqi’ is the place where the water settles and so there are a lot of plants due to the water; in other words, it is a fertile place for grazing. And it is reported from Abu ‘Ubayd from Amir b. ‘Abd Allah b. Al-Zubayr, I consider it to be from his father, who said:

«أَتَى أَعْرَابِيٌّ عُمَرَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، بِلادُنَا قَاتَلْنَا عَلَيْهَا فِي الجَّاهِلِيَّةِ، وَأَسْلَمْنَا عَلَيْهَا فِي الإِسْلاَمِ، عَلامَ تَحْمِيهَا؟ قَالَ: فَأَطْرَقَ عُمَرُ، وَجَعَلَ يَنْفُخُ وَيَفْتُلُ شَارِبَهُ، وَكَانَ إِذَا كَرِبَهُ أَمْرٌ فَتَلَ شَارِبَهُ وَنَفَخَ، فَلَمَّا رَأَى الأَعْرَابِيُّ مَا بِهِ جَعَلَ يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: الْمَالُ مَالُ اللهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللهِ، واللهِ لَوْلاَ مَا أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا حَمَيْتُ مِنَ الأَرْضِ شِبْراً فِي شِبْرٍ»

A Bedouin came to Omar and said: O Amir of the believers, we fought on our land in Jahiliyyah, and we became Muslims while it is still under our possession, – Why are you protecting it (make it Hima)? Umar bowed his head, blew and twisted his moustache – would do so when distressed – so when the Bedouin saw what he was doing, he repeated what he said again. Then Umar said: The property is Allah’s property, and the slaves are Allah’s; I swear by Allah- had I not been charged with that in the cause of Allah, would I not have protected (made Hima) a hand-span of land”. The narration is explicit in the permissibility of the State protecting; in other words, it is permitted for the State to do something specific with what falls under public property such as the grazing pastures in order to fulfil the interests of the Muslims, and the companions after the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم used to do the same, and so it has become a normal practice for every Khalifah.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 139…

دفعہ نمبر 139 : ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ انفرادی ملکیت کی چیز کو عوامی ملکیت کی طرف منتقل کرے کیو نکہ عوامی ملکیت میں ہونا مال کی طبیعت اور فطرت اور اسکی صفت میں پائیدار طور پر ہوتا ہے، ریاست کی رائے سے نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 43:…

دفعہ نمبر 43: معاون کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو خلیفہ کے لیے ہیں یعنی وہ مرد ہو ، آ زاد ہو ، مسلمان ہو ، با لغ ہو ، عاقل ہو، عادل ہو ، قادر ہو اور اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 183:…

دفعہ نمبر 183: مقصد کا نیک ہونا(اس مقصد کے حصول کے) ذریعے کو جائز نہیں بناتا، کیونکہ طریقہ بھی فکر کی جنس سے ہے اس وجہ سے حرام ذریعہ اختیار کر کے واجب (فرض) کو ادا نہیں کیا جائے گااورنہ ہی مباح کام کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ سیاست کے ذرائع کاسیاست کے طریقے سے متناقض ہوناجائز نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 73:…

دفعہ نمبر 73: دفتر خارجہ ہی اسلامی ریاست (خلافت) اور دوسرے ممالک کے درمیان تعلقات سے متعلقہ تمام امور کا ذمہ دار ہے خواہ یہ تعلقات سیاسی پہلو سے ہوں یا اقتصادی اور صنعتی یا زرعی اور تجارتی یا پھرمواصلاتی رابطے ہوںجیسے ڈاک سسٹم یا ٹیلی کمیونیکیشن یا موبائل سسٹم وغیرہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 158:…

دفعہ نمبر 158: ریاست رعایا کے افراد کے لیے اس بات کو آسان اور ممکن بنائے گی کہ وہ اپنی آسائشوں Luxuries کو جہاں تک ممکن ہوپورا کرسکیں اور درجہ ذیل طریقے سے معاشرے میںدولت کاتوازن پیدا کریگی۔ (الف) بیت المال میں موجود منقول اور غیر منقول اموال اور مال فئے وغیرہ رعایامیں بانٹے گی۔ (ب) جن لوگوں کے پاس زمین نہ ہو، ان کو آباد اور غیر آباد زمین دے گی البتہ جن کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے فائدہ نہ…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 100:…

دفعہ نمبر 100: تمام مفادات، دفاتر اور محکموں کے مدیران کو کسی سبب سے انتظامی نظام کے ضمن میںہی معزول کیا جا سکتا ہے، تا ہم ان کو ایک کام سے دوسرے کام کی طرف منتقل کرنا جائز ہے۔ ان کو کام سے روکنا بھی جائز ہے، ان کی تعیناتی ،منتقلی، کام سے روکنا ،تادیب اوران کو معزول کرنا ان مفادات، محکموں اور اداروں کے اعلیٰ انتظامی ذمہ داران کی طرف سے ہی ہو گا۔