https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 128: انفرادی ملکیت

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 128: انفرادی ملکیت عین (اصل) یا منفعت(فائدہ) کے بارے میں وہ حکم شرعی ہے جو مالک کو اس چیز سے نفع اُٹھانے یا اس کے عوض (متبادل) کسی دوسری چیزکے لینے کا اختیار دیتا ہے۔

 

 

Article 128: Private property is Shari’ah rule determined by the property itself or the benefit from it. This qualifies the one that owns a property to benefit of it or gets an exchange for it.

 

The evidence of this article is the Shari’ah evidences which indicate that the definition of private ownership is the permission of the Legislator (swt) for the utilisation of the property itself, which encompasses His (swt) permission with respect to utilisation, which in turn requires an evidence for every utilisation since it is the action of the worshipper, and so it is imperative that there is an address from the Legislator (swt) regarding it. In the same way it also encompasses His (swt) permission with respect to whether the property itself can be utilised or not, which does not require an evidence for every item. Rather, the origin in every property is that it has been permitted to be owned due to the general evidence in His (swt) words:

((وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا))

And He has subjected to you whatever is in the heavens and whatever is on the earth - all from Him.” (TMQ 45:13), and so the prohibition of owning a specific property requires a text.

Accordingly the evidences for the permission of utilisation permitted the possession of the property, and the evidences which permitted every thing for human beings gave him the general permission to own anything, and so it has been deduced from these two issues that the definition of ownership is the permission of the Legislator (swt) for the utilisation of the property itself. This is the meaning of the definition mentioned in this article.

If we take the example of the ownership of a loaf of bread, it would be said that the loaf of bread is the property, and it is determined that the Shari’ah rule regarding it is that the Legislator (swt) gave permission for people to utilise it, through consumption, benefiting from it and exchanging it. This permission for utilisation necessitates that the owner, who is the one whom the permission relates to, is enabled to eat the loaf of bread and similarly is enabled sell it. So the determined Shari’ah rule for the property, in other words, the loaf of bread, is that there is permission to consume and exchange it.

The definition mentioned in this article was based upon this, and this definition means the permission of the Legislator for the utilisation of the property. The article was drafted upon this basis.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 96:…

دفعہ نمبر 96: ریا ستی امور(معاملات) کو چلانے اور لوگوں کے مفادات کی نگرانی کے لیے ڈپارٹمنٹس (محکمے) اور ادارے ہو تے ہیں جو ریاست کی ترقی اور لو گوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 6:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 189:…

دفعہ نمبر 189: دنیا میں موجود دوسری ریاستوں سے اسلامی ریاست کے تعلقات چاربنیادوںپر استوار ہوں گے۔ اول: وہ ریاستیں جو عا لمِ اسلام میں قائم ہیں،ان سب کو یہ حیثیت دی جائے گی کہ گویا یہ ایک ہی ریاست کے اندر ہیں۔ اس لیے یہ خارجہ سیاست کے زمرے میں نہیں آتیں۔ نہ ہی ان سے تعلقات خارجہ سیاست کے اعتبار سے قائم کئے جائیں گے، بلکہ ان سب کو ایک ریاست میں یکجا کرنا فرض ہے۔ دوم: وہ ریاستیں جن سے ہمارے اقتصادی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 53:…

دفعہ نمبر 53: خلیفہ کی جانب سے ہی والیوں کا تقررہوتاہے اور عمال کا تقرر بھی خلیفہ ہی کرتاہے یا اگر وہ والیوں کو یہ ذمہ داری دے تو وہ بھی عمال مقررکرسکتے ہیں۔ والیوں اور عمال کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو معاونین کے لیے ہیں اس لئے ان کا مسلمان ، مرد ، آ زاد، بالغ، عاقل، عادل ، اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کی صلاحیت رکھنے والا ہونا ضروری ہے۔ ان کا انتخاب متقی اور طاقتور شخصیت والوں میں سے ہوگا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 117

دفعہ نمبر 117: عورت کی ایک خاص زندگی ہے اور ایک عام۔عام زندگی میں وہ خواتین،محرم مردوں اور غیر محرم مردوں کے ساتھ اس طرح رہ سکتی ہے کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آنا چاہیے۔بے پردہ اور زینت کا ظہار بھی نہ ہو۔خاص زندگی میں صرف خواتین اور محرم مردوں کے ساتھ رہنا ہی اس کے لیے جائز ہے۔غیر محرم مردوں کے ساتھ رہنا اس کے لیے بالکل جائز نہیں۔دونوں حالتوں میں احکام شرعیہ کی پابندی لازمی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 80:…

دفعہ نمبر 80: کسی بھی عدالت کا ایک سے زیادہ ایسے قاضیوں پر مشتمل ہو نا جائز نہیں جس کے پاس مسئلوں کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو،ہاں قاضی کے ساتھ ایک یا زیادہ ایسے قاضی ہو سکتے ہیں جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو،ان کے پاس مشورہ اور رائے دینے کا اختیار ہو تا ہے اور ان کی رائے کا وہ پابند بھی نہیں ہو تا۔