https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 87: قاضی مظالم

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 87: قاضی مظالم و ہ قاضی ہے جس کوریاست کی جانب سے ہر اس شخص کے ساتھ ہو نے والے ظلم یازیادتی کا ازلہ کر نے کے لیے مقررکیا جا تا ہے،جوریا ست کے زیر سایہ رہتا ہو چاہے وہ شخص ریاست کا شہری ہو یا نہ ہواورخواہ یہ ظلم خلیفہ کی جانب سے ہویااس کے کسی ماتحت حکمران یا ملازم کی طرف سے ہو۔

 

Article 87: The judge of the Court of Injustices (Madhalim)is appointed to remove all injustices which have been inflicted upon any person who lives under the authority of the State, irrespective of whether the person is from the subjects of the State or not, and irrespective of whether the injustice was committed by the Khalifah or anyone below him from the rulers and civil servants.

 This article has the definition of the judge of the Court of Injustices(Madhalim) and the basis for the Judiciary of Injustices (Madhalim) is what was narrated from the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم when he described any act carried out by the ruler on other than the truth while ruling over the subjects as being an injustice (Madhlamah). Anas reported: Prices soared during the time of the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم so they said to him:

«إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ الْمُسَعِّرُ، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلا يَطْلُـبُنِي أَحَدٌ بِمَظْلِمَةٍ ظَلَمْـتُهَا إِيَّاهُ فِي دَمٍ وَلا مَالٍ»

“‘O Messenger of Allah! Set prices for us! He said 'Truly, Allah is the Creator, the Restrainer, the Extender of wealth, the Provider, and the Pricer. And I am hopeful that I will meet Allah and none of you are seeking (recompense from) me for an injustice (I inflicted) involving blood or wealth.” (reported by Ahmad). So he صلى الله عليه وآله وسلم considered price fixing as an injustice (Madhlamah), because if he صلى الله عليه وآله وسلم had done it he صلى الله عليه وآله وسلم would have done something that he صلى الله عليه وآله وسلم had no right to do. In the same manner, he صلى الله عليه وآله وسلم also made the issues that affect the public rights which the State organises for the people as part of the injustices (Madhalim), such as the irrigation of farming lands by common water by taking turns. The Messenger of Allah looked into the dispute over irrigation that took place between Al-Zubayr Bin Al-‘Awwam (ra) and a man of the Ansar. He صلى الله عليه وآله وسلم witnessed it personally and said to Al-Zubayr (ra):

«اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ»

“O Zubayr! water and then let the water flow to your nieghbor” (agreed upon and the wording is from Muslim). Therefore, any injustice (Madhlama) that occurs againstany person, whether perpetrated by the ruler, or as a result of the State’s organisations or orders, would be considered as an injustice (Madhlama), as understood from the two narrations. The matter would be referred to the Khalifah to rule upon it or whoever deputises for the Khalifah from the judges of the Court of Injustices (Madhalim).

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 107:…

دفعہ نمبر 107: ریاست کے ہر اس شہری کو جو بالغ اور عاقل ہو ، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم، مجلس امت اور مجلس ولایہ کا رکن بننے کاحق حاصل ہے،مگرغیر مسلم کی رکنیت حکمرانوں کے ظلم یااسلام کو برے طریقے سے نافذ کر نے کی شکایت کے اظہار تک محدودہو گی۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 151:…

دفعہ نمبر 151: وہ اموال بھی آمدن میں شمار ہوتے ہیں جو ریاست کی سرحدوں پر کسٹم کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں یا عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت سے حاصل ہوتے ہیں یا لاوارث ہونے کی وجہ سے بیت المال میں جمع کیے جاتے ہیں یا پھر مرتدوں کے اموال۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 43:…

دفعہ نمبر 43: معاون کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو خلیفہ کے لیے ہیں یعنی وہ مرد ہو ، آ زاد ہو ، مسلمان ہو ، با لغ ہو ، عاقل ہو، عادل ہو ، قادر ہو اور اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 113

دفعہ نمبر 113: اصل یہ ہے کہ مرد اورعورت الگ الگ ہوں، صرف اس ضرورت کے لیے اکھٹے ہوں جس کے لیے شرع نے اجازت دی ہو یا شرع میں یہ اجتماع ممنوع نہ ہو، جیسا کہ حج اور خریدوفروخت (تجارت)۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 143:…

دفعہ نمبر 143 : مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔ زکوٰۃ ان اموال پر لی جائے گی جن پر زکوٰۃ لینے کو شریعت نے متعین کر دیا ہے جیسا کہ نقد ی،تجارتی مال ، مویشی اور غلہ۔ جن اموال پرزکوۃ لینے کی کوئی شرعی دلیل نہیں ،ان پر زکو ۃ نہیں لی جائے گی۔ زکوٰۃ ہرصاحب نصاب شخص سے لی جائے گی خواہ و ہ مکلف ہو جیسا کہ ایک عاقل بالغ مسلمان یا وہ غیر مکلف ہو جیسا کہ بچہ اور مجنون۔ زکوٰۃ کو بیت المال کی ایک خاص باب (…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 117

دفعہ نمبر 117: عورت کی ایک خاص زندگی ہے اور ایک عام۔عام زندگی میں وہ خواتین،محرم مردوں اور غیر محرم مردوں کے ساتھ اس طرح رہ سکتی ہے کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آنا چاہیے۔بے پردہ اور زینت کا ظہار بھی نہ ہو۔خاص زندگی میں صرف خواتین اور محرم مردوں کے ساتھ رہنا ہی اس کے لیے جائز ہے۔غیر محرم مردوں کے ساتھ رہنا اس کے لیے بالکل جائز نہیں۔دونوں حالتوں میں احکام شرعیہ کی پابندی لازمی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر166:…

دفعہ نمبر166: ریاست اپنی ایک خاص کرنسی،آزادانہ طور پر جاری کرے گی اور اس کو کسی غیر ملکی کرنسی سے منسلک کرنا جائز نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 107:…

دفعہ نمبر 107: ریاست کے ہر اس شہری کو جو بالغ اور عاقل ہو ، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم، مجلس امت اور مجلس ولایہ کا رکن بننے کاحق حاصل ہے،مگرغیر مسلم کی رکنیت حکمرانوں کے ظلم یااسلام کو برے طریقے سے نافذ کر نے کی شکایت کے اظہار تک محدودہو گی۔