https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 76: قاضی القضاۃ (چیف جسٹس)

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 76: خلیفہ ایسے شخص کو قاضی القضاۃ مقرر کرے گا جو مرد ، با لغ، آزاد ، مسلمان ، عاقل، عادل اور فقیہ ہو ۔ پھر اگر اس کو قاضی المظالم مقرر کرنے اور اس کو بر طرف کرنے اور مظالم میں فیصلے کرنے کا اختیار بھی دیا جائے تب اس کے لیے مجتہد ہونا ضروری ہے ۔اور انتظامی قوانین کے اندر رہتے ہوئے اس کے پاس قاضیوں کے تقرر، ان کو سمجھانے اور ان کو بوقت ضرورت برطرف کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔تا ہم عدلیہ کے باقی ملازمین اس محکمے کے انچارج کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں جو عدلیہ کے تمام امور کی دیکھ بھال کر تا ہے۔

 

Article 76: The Khalifah appoints a supreme judge to the judiciary from the male, adult, free, Muslim, sane, just people who know jurisprudence, and if he was given the power to appoint and remove the Madhalim judge, and had the power of judgement in the Madhalim, then he would have to be a Mujtahid. He would have the power to appoint judges, discipline them, and remove them as part of the administrative systems. As for the remainder of the civil servants of the courts, they are connected to the Department Manager who is responsible for the courts’ affairs.

 

The origin is that the Khalifah can appoint governors to a specific governorship upon one of the issues in all the parts of the State, just as he can appoint a governor to a specific governorship upon one of the issues in a specific location, similar to how he can appoint a governor to a general governorship in a specific location. So, just as the Khalifah can empower a leader for Jihad, and one for Hajj, and one over the land taxes, he can also empower a leader for the judiciary. He can give that leader the right to appoint judges, remove them and discipline them, in the same way that he can give the leader of Jihad the right to appoint Majors and Corporals over the soldiers, and discipline them and remove them. Due to this it is permitted for the Khalifah to appoint a Supreme Judge, or in other words, a leader over the judiciary. This Supreme Judge, or leader of the judiciary, would be a ruler and not a civil servant, since he is a governor who has undertaken a governorship - in other words, ruling - just like any leader or governor over any of the issues. However, he is not considered to be an assistant for the Khalifah in the judiciary because he was given a specific appointment, in other words, in all the issues of judiciary, and so his appointment is in the judiciary and does not go beyond that. As for the assistant, he is given a general appointment in all the issues, so the Khalifah can seek his help in all issues, unlike the Supreme Judge who can assist in the judiciary alone.

 It is not confirmed that the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلمappointed a Supreme Judge, in the same way that it is not confirmed that any of the righteous guided Khulafaa’ appointed a Supreme Judge. There is nothing that indicates that the judiciary in the territories used to have deputies who would carry out the judiciary in the towns and villages, neither in the time of the righteous guided Khulafaa’, and not even by the time of the Ummayads. The first appointment of a supreme judge by the Khalifah was at the time of Harun Al-Rashid, and the first judge to be given this description was the judge Abu Yusuf, the famous Mujtahid, who was a companion of Abu Hanifah. Accordingly, it is permitted for the Khalifah to appoint a judge who is given the power to appoint and remove judges; so it is from the permitted actions.

 Based upon this it is permitted for the Khalifah to appoint a “Supreme Judge”. However, his pre-conditions are the same of those of the judge and the ruler, since he is a judge and a ruler since he has been given the power to appoint judges and to adjudicate in court cases. In other words, it is a condition for the Supreme Judge to be male, adult, free, Muslim, sane, just, and from the people who know the jurisprudence, since the condition of capability in this case means that he should know jurisprudence since his work is responsibility over the judiciary in addition to his powers of judging. The Messenger صلى الله عليه وآله وسلم has blamed whoever judges with ignorance and informed us that they would be from the people of the hellfire; he صلى الله عليه وآله وسلم said

 «وَرَجُلٌ قَضَى لِلنَّاسِ عَلَى جَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ»

 “And a man who passess judgement on the people in ignorance will be in hellfire” (reported by the authors of the Sunan and Al-Hakim who authenticated it from Buraydah). From this evidence it is has been made a condition that the judge should be from the people who know the jurisprudence. The Supreme Judge should be a Mujtahid if he was given the power to appoint and remove the Madhalim judge, and the powers to judge in the Madhalim, since such a judgement requires Ijtihad as is explained in article 78.

As for what is mentioned in the article about the appointment of civil servants for the courts, these people are employees and the evidence for the permission of their appointment is the evidence for the hiring of an employee.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 120:…

دفعہ نمبر 120: ازدواجی زندگی اطمینان کی زندگی ہو تی ہے،میاں بیوی کا رہن سہن(میل جول) ساتھیوں (دوستوں) کا ہو تا ہے۔ مرد کی بالادستی دیکھ بھا ل کے لحاظ سے ہو تی ہے حکمرانی کے لیے نہیں ۔ عورت پر اطاعت فرض ہے جبکہ مرد پر اس کے لیے رواج(عرف)کے مطابق نفقہ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 179…

دفعہ نمبر 179 : اسکولوں اور یونیورسٹی کے علاوہ بھی ریاست لائبریریاں لیبارٹریاں اور علم حاصل کرنے کے تمام وسائل مہیا کرے گی۔ تا کہ ایسے لوگوں کو مواقع حاصل ہوں جو لوگ مختلف علوم و معارف جیسے فقہ ، اصول فقہہ ،حدیث، تفسیر یا دوسرے افکارجیسے میڈیکل ، انجینئرنگ، کمسٹری، وغیرہ میں بحث و تحقیق کرنا چا ہیں اور تجربات ، ایجادات اور انکشافات کرسکیں ۔ تا کہ امت کے اندر مجتہدین اور موجدین کی ایک بڑی تعداد ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 72:…

دفعہ نمبر 72: داخلی امن و سلامتی کے لیے بنیادی خطرات ،جن کی شعبۂ داخلی امن و سلامتی روک تھام کرے گا، وہ یہ ہیں: ارتداد، بغاوت اور حرابہ ، لوگوں کی مال ودولت پر حملہ،لوگوں کی جان اور عزت پر دست درازی اوران مشتبہ لوگوں سے نبٹنا، جوحربی کفار کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 130:…

دفعہ نمبر 130: ہر وہ مال جسے خرچ کرنا خلیفہ کی رائے اور اجتہاد پر موقوف ہے وہ ریاست کی ملکیت سمجھی جائے گی مثلاً ٹیکس، خراج اور جزیہ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 132:…

دفعہ نمبر 132: ملکیت میں تصرف شارع کی اجازت سے مشروط ہے، خواہ یہ تصرف خرچ کرنے سے متعلق ہو یا ملکیت کی نشوونما کے حوالے سے ہو۔ چنانچہ اسراف، نمودو نمائش ، کنجوسی، سرمایہ دار کمپنیاں، کو آپریٹو سو سائٹیز اور تمام خلاف ِ شرع معاملات ممنوع ہیں۔ اسی طرح سود، غبن فاحش(ٹھگی)،ذخیرہ اندوزی ، جوا اور اس جیسی دیگر چیزیں سبھی ممنوع ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 52:…

دفعہ نمبر 52: جن علاقوں پر اسلامی ریاست کی حکمرانی ہوتی ہے ان علاقوں کو کئی ایک اکایئوں میںتقسیم کیا جاتاہے اور ہر ا کائی کوولا یہ (صوبہ ) کہا جاتاہے پھر ہر ولا یہ کوکئی ایک اکا یئوں میں تقسیم کیا جا تاہے اور ہر اکائی کو عما لہ ( ضلع ) کہا جا تاہے ۔ ہر ولایہ کے سربراہ کو والی یا امیر کہاجاتاہے اور ہر عمالہ کے سر برہ کو عامل یا حاکم کہا جاتاہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 123:…

دفعہ نمبر 123: اقتصادی پالیسی یہ ہے کہ (ریاست کے شہر یوں کی) ضروریات کو پورا کرتے وقت معاشرے کی بنیاد(حکم شرعی)کو مدنظر رکھا جائے گا یعنی ضروریات کو پورا کرنے کی اساس حکم شرعی ہو گی۔