https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خارجہ پالیسی (181-191)

دفعہ نمبر 185: سیاسی اساليب

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 185: ریاستوں کے جرائم کو بے نقاب کرنے میںجرأ ت و بہادری کا مظاہرہ کرنا ، جھوٹی پالیسیوں کے خطرے کو بیان کرنا ،خبیث سازشوں کو طشت ازبام کرنا،گمراہ کن شخصیات کو زمیں بوس کرنا؛یہ سب سیاست کے اہم اسالیب میں سے ہیں۔

 

Article 185: Some of the most important political means are exposing the crimes of other states, demonstrating the danger of erroneous politics, exposing harmful conspiracies and undermining misleading personalities.

This article is part of the styles, and is part of the permitted issues, and the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم used to expose the crimes of Bani Quraythah when they broke the treaty on the day of Al-Ahzaab, and when the Quraysh attacked him because ‘Abd Allah Bin Jahsh (ra) took two men as prisoners and killed another during the sacred month and so they claimed that Muhammad  صلى الله عليه وآله وسلم and his  صلى الله عليه وآله وسلم companions had made the sacred month permitted (and so violated the custom), and spilt blood, seized wealth and captured men during it. When the Quraysh attacked him with that, Allah (swt) revealed verses which exposed their false politics trying to turn the Muslims away from their religion. He (swt) said:

((يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ))

They ask you about the sacred month - about fighting therein. Say, "Fighting therein is great [sin], but averting [people] from the way of Allah and disbelief in Him and [preventing access to] Al-Masjid Al-Haram and the expulsion of its people therefore are a greater [evil] in the sight of Allah. And Fitnah is greater than killing."(TMQ 2:217).

And when the Jews of Bani Quraythah conspired to kill the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم by throwing a rock upon him  صلى الله عليه وآله وسلم when he  صلى الله عليه وآله وسلم was sitting next to a wall, the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم exposed their conspiracy and their being exiled was punishment for it. Ibn Ishaq said:

«خَرَجَ رَسُولُ اللّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم إلَى بَنِي النّضِيرِ يَسْتَعِينُهُمْ فِي دِيَةِ ذَيْنِك الْقَتِيلَيْنِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ اللّذَيْنِ قَتَلَ عَمْرُو بْنُ أُمَيّةَ الضّمْرِيّ، لِلْجِوَارِ الّذِي كَانَ رَسُولُ اللّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم عَقَدَ لَهُمَا، كَمَا حَدّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، وَكَانَ بَيْنَ بَنِي النّضِير وَبَيْنَ بَنِي عَامِر ٍ عَقْدٌ وَحِلْفٌ. فَلَمّا أَتَاهُمْ رَسُولُ اللّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم يَسْتَعِينُهُمْ فِي دِيَةِ ذَيْنِك الْقَتِيلَيْنِ قَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، نُعِينُك عَلَى مَا أَحْبَبْت مِمّا اسْتَعَنْت بِنَا عَلَيْهِ ثُمّ خَلا بَعْضُهُمْ بِبَعْضِ فَقَالُوا: إنّكُمْ لَنْ تَجِدُوا الرّجُلَ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ هَذِهِ -وَرَسُولُ اللّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم إلَى جَنْبِ جِدَارٍ مِنْ بُيُوتِهِمْ قَاعِدٌ- فَمَنْ رَجُلٌ يَعْلُو عَلَى هَذَا الْبَيْتِ فَيُلْقِي عَلَيْهِ صَخْرَةً فَيُرِيحُنَا مِنْهُ؟ فَانْتَدَبَ لِذَلِكَ عَمْرُو بْنُ جَحّاشِ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: أَنَا لِذَلِكَ، فَصَعِدَ لِيُلْقِيَ عَلَيْهِ صَخْرَةً كَمَا قَالَ... فَأَتَى رَسُولَ اللّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم الْخَبَرُ مِنْ السّمَاءِ بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ فَقَامَ وَخَرَجَ رَاجِعًا إلَى الْمَدِينَةِ... وَأَمَرَ رَسُولُ اللّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم بِالتّهَيُّؤِ لِحَرْبِهِمْ وَالسّيْرِ إلَيْهِمْ... ثم أجلاهم  صلى الله عليه وآله وسلم »

The Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم went out to Bani Nadir seeking their help pay the blood money for the two dead men of Bani ‘Amir who were killed by ‘Amru b. Umiyyah Al-Damri. They had a promise of protection from the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم according to Yazid b. Ruman. Bani Nadir and Bani ‘Amir had a treaty and were allies. When Allah's Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم went to Bani Nadir asking them for help to pay the blood money for the two men, they said, ‘Yes, O Abu’l-Qasim! We will help you, since you asked us for help.’ Yet, when they met each other in secret, they said, ‘You will not find a better chance with this man than this- while the Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم was sitting next to a wall of one of their houses. They said: ‘who will ascend this wall and drop a stone on this man and rid us of his trouble’ ‘Amr b. Jahsh b. Ka`b volunteered and ascended the wall of the house to drop a stone on the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم …The news of this plot was conveyed to the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم from heaven, and he stood up and went back to Madinah. The Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم ordered the preparation of war and marched forth to them…then he exiled them”.  

And the Quran attacked Abu Lahab by name:

((تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ (1)))

May the hands of Abu Lahab be ruined, and ruined is he.(TMQ 111:1) and others by their characteristics, all of which is considered undermining harmful personalities.

These are the evidences for this article.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 170:…

دفعہ نمبر 170: تعلیمی نصاب کا اسلامی عقیدہ کی بنیاد پر استوار ہونا فرض ہے، چنانچہ تمام تدریسی مواد اور تدریسی طریقے کو اس طرح وضع کیا جائے گا کہ اس بنیاد سے روگردانی نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 119:…

دفعہ نمبر 119: مرد اور عورت دونوں کو ایسے کسی بھی کام سے روکا جائے گاجواخلاقی لحاظ سے تباہ کن ہویا معاشرے میں فساد کا باعث ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 113

دفعہ نمبر 113: اصل یہ ہے کہ مرد اورعورت الگ الگ ہوں، صرف اس ضرورت کے لیے اکھٹے ہوں جس کے لیے شرع نے اجازت دی ہو یا شرع میں یہ اجتماع ممنوع نہ ہو، جیسا کہ حج اور خریدوفروخت (تجارت)۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر148:…

دفعہ نمبر148: ریاستی بجٹ کے دائمی ابواب (مدات) ہیں جن کو شرع نے متعین کیا ہے۔ جہاں تک بجٹ سیکشنز کا تعلق ہے یا ہر سیکشن میں کتنا مال ہوتا ہے یا ہونا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر سیکشن میں موجود مال سے متعلقہ امور کا تعلق خلیفہ کی رائے اور اجتہاد پر منحصر ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 142:…

دفعہ نمبر 142 : مال کو خزانہ ( جمع کرکے رکھنا) بنانے سے روکا جائے گا۔ اگر چہ اس پر زکوۃ دی جاتی ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 29:

دفعہ نمبر 29: وہ ملک یا خطہ جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت انعقاد کرے، کے لیے شرط ہے کہ اس ملک کا اقتدار اس کا اپنا ہو، جس کا انحصار صرف مسلمانوں پر ہو اور کسی کافر ریاست کا اقتدار میں کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس ملک کی داخلی وخارجی امان اور مسلمانوں کی امن و سلامتی اسلام کی وجہ سے ہو نہ کہ کفار کے بل بوتے پر۔ جو علاقے صرف خلیفہ کی اطاعت کی بیعت کریں ان کے لیے یہ شرط لازم نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر146:…

دفعہ نمبر146: مسلمانوں سے وہ ٹیکس وصول کیا جائے گا جس کی شرع نے اجازت دی ہے اور جتنا بیت المال کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو۔ شرط یہ ہے کہ یہ ٹیکس اس مال پر وصول کیا جائے گا جو صاحبِ مال کے پاس معروف طریقے سے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد زائد ہواور یہ ٹیکس ریاست کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی بھی ہو۔