https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 165: غیر ملکی سرمایہ کاری، ترقی اور فرنچائزز

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 165: غیر ملکی سرمائے کا استعمال اور ملک کے اندر اس کی سرمایہ کاری کرنا ممنوع ہوگی نہ کسی غیر ملکی شخص کو کئی امتیازی رعایت دی جائے گی۔

 

 

Article 165: Development and investment by foreign funds within the State are forbidden. It is also prohibited to grant franchises to foreigners.

The two words: “investment”and: “development” are Western terms. The term investment means that the money itself produces profit, which is by yielding interest. As for the term development, it means to use the money in industry, agriculture or trade, in order to produce profit.

Based upon this understanding, all investment is not allowed, since it is interest and interest is forbidden (Haram). Although the text regarding foreign investment is explained by the rule that it is prohibited to engage in interest with a Harbi, in the same way as a Dhimmiand a Muslim without any difference between them due to the generality of His (swt) words:

((وَحَرَّمَ الرِّبَا))

And has forbidden interest (usury).(TMQ 2:275), and since there is no authentic text which specifies it then it remains general. It cannot be said that the narration:

«لاَ رِبًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَهْلُ الْحَرْبِ فِي دَارِ الْحَرْبِ»

there is no interest (usury) between the Muslims and the enemy in Dar Al-Harb” specifies it since the narration is weak as it is Mursalfrom Makhul. Shafi’i said in Al-Umm that it is not confirmed and it is not an evidence, and Ibn Muflih said the report is unknown - so it is not suitable as an evidence to prove the permission of interest, and nor does it specify/restrict the verse, and so the verse remains general. Therefore, foreign investment is forbidden in the same way as investment from the subjects (Muslims and Dhimmis) because it is interest and thus it is forbidden.

As for the prohibition of development through foreign funds this is because it leads to Haram in agreement with the rule: “The means to something forbidden is also forbidden, and the strongest possibility is enough to make something prohibited, so what about when foreign development leads to a confirmed Haram? It is confirmed by the senses and by information whose authenticity is trusted that the use of foreign funds for development in the country is the method to extend the influence of the disbelievers over them, and extending their influence in the land is Haram.

As for concessions, it is also a Western term, and has two meanings. Firstly, that a particular foreign State is given special rights with the consideration that they are an obligation for that state upon the Islamic State, such as the concessions that the Islamic State gave in the nineteenth century while it was weak, and such as the concessions that Britain and France used to have in Egypt, such as the foreign subjects being judged according to the laws of their country rather than the laws of Islam, and the example of the State having no authority over the foreigners. These concessions, with this meaning, are forbidden from two angles; firstly: they take away from the sovereignty of the Islamic State, and give the disbelieving States authority over the Islamic lands, which is something decisively forbidden (Haram Qat’an); secondly: they prevent the rule of Islam being applied upon the non-Muslims in the Islamic State and make the rule of disbelief (Kufr) applicable in its stead, which is also decisively forbidden. Due to this, concessions according to the meaning mentioned are prohibited.

As for the second meaning of concessions, it means to give a permit to carry out a permitted action, and those without the permit would be forbidden. This is all forbidden, irrespective of whether it was being applied to the foreigner or not, since any permitted issue is permitted for everyone, and so to restrict it to a particular individual while prohibiting others, is forbidding something which is permitted for the people. It is correct that the State can organise the permitted issues according to the styles which would enable it to benefit from them in the best manner; however it is not correct that this organisation would prohibit anyone from something that was permitted.

Accordingly, concessions according to this meaning are also prohibited for the foreigner and the one who was not a foreigner, and the text mentions foreigner since giving the concession to him is a cause of harm, since it gives him control over the country, as is the case with the oil concessions.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 92:…

دفعہ نمبر 92: مظالم کے قضائ(فیصلے) کے لیے مجلس قضاء کی شرط نہیں،نہ ہی مدع علیہ کو بلانا اور نہ ہی مدعی کی موجودگی شرط ہے بلکہ محکمہ مظالم کو کسی بھی ظلم کو دیکھنے کا حق ہے چاہے کوئی دعوی کرے یا نہ کرے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 44:…

دفعہ نمبر 44: معاون تفویض کو اختیارات سونپنے کی یہ شرط ہے کہ اختیارات دیتے وقت دوباتوں کو مدِنظر رکھنا چاہیے ، پہلی بات یہ کہ اختیارات عمومی ہونے چاہیے ، دوسری با ت یہ کہ وہ خلیفہ کا نائب بنا دیا جائے یا اس سے ملتے جلتے اور کوئی الفاظ استعمال کرے جن سے یہ واضح ہوتا ہو کہ معاون کو ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک ذمہ داری سے دوسری ذمہ داری کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے اور اس کا م کے لیے نئے سرے سے اختیا…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 79:…

دفعہ نمبر 79: قاضی ،محتسب اور قاضی مظالم کو تمام علاقوں میں تمام مسائل کے فیصلے کرنے کی عمومی ذمہ داری سونپ دینا بھی جائز ہے اور کسی مخصوص علاقے میں کچھ مخصوص قسم کے مسائل کے فیصلے کرنے کی خصوصی ذمہ داری سونپنا بھی جائز ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 106:…

دفعہ نمبر 106: مجلس ولایہ کے اراکین کو معین ولایہ(صوبہ) کے لو گوں کی جانب سے براہِ راست انتخاب کے ذریعے سے منتخب کیا جائے گا اور مجلس ولایات (صوبوں) کے اراکین کی تعدادریاست کی ہر ولایہ کی آبادی (افراد)کی تعدادکی نسبت سے ہو گی۔ مجلسِ امت کے اراکین کو مجلس ولایات کے براہِ راست انتخابات کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔ مجلس امت کی ابتدا اور انتہا کی مدت وہی ہو گی جو مجلس ولایہ کی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 162:…

دفعہ نمبر 162: رعایا کے تمام افراد کو زندگی کے ہر مسئلے سے متعلق علمی تجربہ گاہیں بنانے کا حق حاصل ہے اور ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ لیبارٹریاں قائم کرے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 76:…

دفعہ نمبر 76: خلیفہ ایسے شخص کو قاضی القضاۃ مقرر کرے گا جو مرد ، با لغ، آزاد ، مسلمان ، عاقل، عادل اور فقیہ ہو ۔ پھر اگر اس کو قاضی المظالم مقرر کرنے اور اس کو بر طرف کرنے اور مظالم میں فیصلے کرنے کا اختیار بھی دیا جائے تب اس کے لیے مجتہد ہونا ضروری ہے ۔اور انتظامی قوانین کے اندر رہتے ہوئے اس کے پاس قاضیوں کے تقرر، ان کو سمجھانے اور ان کو بوقت ضرورت برطرف کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔تا ہم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 30:

دفعہ نمبر 30: خلیفہ کے طور پر جس شخص کی بیعت کی جارہی ہو اس کے اندرا نعقاد خلافت کی تمام شرائط کا ہونا لازمی ہے اگر چہ اس کے اندر افضلیت کے شرائط نہ ہوں کیونکہ اعتبار شروط انعقاد کا ہے ۔