https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 90: کسی بھی حکمران کو برطرف کرنے کا حق

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 90: محکمہِ مظالم کو ریاست کے کسی بھی حکمران یا ملازم کو برطرف کرنے کا حق حا صل ہے جیسا کہ اس کو خلیفہ کو معزول کر نے کا حق حاصل ہے اور یہ اس وقت ہو گا جب کسی ظلم کے ازالے کا تقاضا ہو۔

 

Article 90: The Court of Injustice Acts (Madhalim) has the right to remove any ruler or civil servant in the State, in the same way that it has the right to remove the Khalifah, if the elimination of the Madhlamah required this removal.

 This article clarifies the powers of the Court of Injustices (Madhalim) with respect to removal of the rulers, since the ruler is appointed by a contract, known as the Contract of Assignment which is also called the Contract of Empowerment. The Khalifah has the right of the governorship which is the ruling, and he has the right of empowerment which is the appointment, and the empowerment is a contract that can only be completed with direct wording. Therefore, the removal of the ruler appointed by the Khalifah would be a termination of that contract, and the Khalifah undoubtedly reserves that right since the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم appointed the governors and removed them. The righteously guided Khulafaa’ also appointed the governors and removed them. In the same manner the Khalifah could also delegate to those whomhe appointed the right to appoint and remove. However, the Court of Injustices (Madhalim) does not have the right to remove the rulers on behalf of the Khalifah, for it does not act on his behalf in appointing and removal; it rather acts on his behalf in looking into the injustices (Madhalim). So if the presence of that ruler in his province was an injustice (Madhlama), the court has the right to remove that injustice (Madhlamah); in other words, it has the right to remove that ruler from office. Therefore, its power to remove the rulers is not done on behalf of the Khalifah, rather it is only removing the injustice (Madhlamah), and accordingly those who have been ruled upon to be removed are removed even if the Khalifah is not pleased with it, since his removal in this situation is the ruling upon the removal of an injustice (Madhlamah), and this applies to everyone including the Khalifah, since the ruling of the judge is a ruling for everyone.

As for its powers to remove the Khalifah, in the same manner it is ruling upon the removal of an injustice (Madhlamah), since if one of the circumstances where the Khalifah is removed automatically or necessitated his removal occurs, then his remaining in office would be an injustice (Madhlamah). And it is the Court of Injustices (Madhalim)which rules upon the removal of the injustices (Madhalim), so it is the one who rules upon his removal. Therefore, the judgement of the Court of Injustices (Madhalim) to remove the Khalifah would be a judgement aimed at removing an injustice (Madhlamah), and so if removal of the Madhlamah necessitated his removal, the judgement for his removal would be given.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 110:…

دفعہ نمبر 110: وہ مسائل جن میں خلیفہ کی جانب سے مشورہ طلب کیا جائے اور اس مشورے پر عمل بھی لازمی ہو،توان مسائل میں غلط اور صحیح سے قطع نظر اکثریت کی رائے کو اختیار کیا جائے گا،جب کہ وہ مسائل جو شوری ٰکے ماتحت تو ہیں لیکن ان میں مشورے کو اختیار کرنا لازمی نہیں ان میں اکثریت یا اقلیت سے قطع نظر درست کو تلاش کیا جائے گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 155:…

دفعہ نمبر 155: یہ جائز ہے کہ اجرت کام کے فائدے کے مطابق ہو یا کام کرنے والے سے حاصل ہونے والے نفع کے مطابق ہو۔ ملازم کی معلومات یا اس کی علمی اسناد (ڈگریوں) کی بنیاد پر نہ ہو۔ ملازمین کی ترقی نہیں ہوگی بلکہ ان کو وہ اجرت پوری پوری دی جائے گی جس کے وہ مستحق ہیں، خواہ یہ کام کے لحاظ سے ہو یا کام کرنے والے کے لحاظ سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 24:…

دفعہ نمبر 24: خلیفہ ہی اختیار اور شریعت کے نفاذ میں امت کا نمائندہ ہوتا ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 95:…

دفعہ نمبر 95: وہ معاہدے ،معاملات اور فیصلے جو پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہوںاور خلافت کے قیام سے قبل ان کا نفاذ ہوچکا ہو تو خلافت کی قضائ(عدالت)ان کو کلعدم نہیں کرے گی اور نہ ہی نئے سرے سے ان کو دوبارہ کھولے گی سوائے اس کے کہ ان میں مندرجہ ذیل تین با تیں ہو: ا ) ان کا اسلام کے خلاف کوئی دائمی اورمسلسل اثر ہو تب ان کو نئے سرے سے کھولنا واجب ہے۔ ب) یا ان کا تعلق اسلام یا مسلمانوں کی ایذا رسانی سے ہو جن…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 80:…

دفعہ نمبر 80: کسی بھی عدالت کا ایک سے زیادہ ایسے قاضیوں پر مشتمل ہو نا جائز نہیں جس کے پاس مسئلوں کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو،ہاں قاضی کے ساتھ ایک یا زیادہ ایسے قاضی ہو سکتے ہیں جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو،ان کے پاس مشورہ اور رائے دینے کا اختیار ہو تا ہے اور ان کی رائے کا وہ پابند بھی نہیں ہو تا۔