https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 88: قاضى مظالم کے کی تقرری اور احتساب

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 88: قاضی مظالم کی تقرری خلیفہ یا قاضی القضاء کی طرف سے ہوتی ہے، تاہم اس کا محاسبہ، اس کو تنبیہ یا اس کی بر طرفی خلیفہ کی طرف سے ہوتی ہے یا پھر قاضی القضاء کی جانب سے بشرطیکہ خلیفہ کی طرف سے اس کو اس کا اختیار دیا گیا ہو۔مگر اس کی برطرفی اس حالت میںدرست نہیں ہو تی جس وقت وہ خلیفہ یا معاون تفویض یا پھرمذکورہ قاضی القضاء کی طرف سے کیے گیے کسی زیادتی کے با رے میں چھان بین کر رہا ہو،اس حالت میں اس کو برطرف کر نے کا اختیار محکمۃ المظالم کے پاس ہو گا۔

Article 88: The judge of the Court of Injustices (Madhalim) is appointed by the Khalifah, or by the Supreme Judge. His accounting, discipline and removal are done by the Khalifah or by the Supreme Judge if the Khalifah had given him the powers to do so. However he cannot be removed during his investigation of a Madhlamah against the Khalifah, or the executive assistants, or the Supreme Judge; rather the power to remove him in these circumstances is for the Court of Injustice Acts (Madhalim).

The judge of Madhalim is appointed by the Khalifah, or by the Supreme Judge. This is because the Madhalim is part of the judiciary, for they are the conveying of the Shari’ah rule by way of enforcement, and all the types of judges must be appointed by the Khalifah. This is confirmed by the Messenger of Allah’s صلى الله عليه وآله وسلم actions since he صلى الله عليه وآله وسلم used to appoint the judges as was explained previously. All this means that it is the Khalifah who appoints the judge of Madhalim, yet the Supreme Judge could appoint the judge of Madhalim if the Khalifah made provisions for this in his appointment clause. It is allowed for the main court of injustices (Mahkamat Al-Madhalim) in the centre of the State to examine only the Madhalim that occurred from the Khalifah, his assistants and the Supreme Judge. However, the branches of the court of injustices in the provinces examine the Madhalim that occur from the governors and the other State employees. The Khalifah has the right to give the Central Court of Injustices the authority of appointment and removal of the Madhalim judges in the branch Madhalim courts that come under its authority in the provinces.

The Khalifah is the one that appoints and removes the members of the main court of injustices in the centre of the State. As for the removal of the head of the central court of injustices - in other words, the Madhalim judge responsible in examining the removal of the Khalifah - it should in principle be the right of the Khalifah to remove him, as it is he who has the right to appoint him like all the judges. However, it is possible, if the power of removing the judge were left to the Khalifah during a case, then this power would lead to something prohibited. In such a situation the principle of

(الوسيلة إلى الحرام حرام)

the means to something forbidden is also forbidden”

would apply. The strong likelihood of such a scenario arising is enough for applying this principle.

This situation is when there is a case against the Khalifah or his assistants or his Supreme Judge (in case the Khalifah was given the mandatory power of appointing and removing the Madhalim judge). This is because keeping the mandatory power of removing the Madhalim judge in the hands of the Khalifah in this case would influence the verdict by the judge and accordingly it would limit the capability of the judge to remove the Khalifah or his assistants if deemed necessary. This mandatory power of removing the judge in this case is a means for Haram, or in other words, leaving it in the hand of the Khalifah in this case is prohibited.

As for the remaining cases, the rule remains as it is; in other words, the power of removing the Madhalim judge is left to the Khalifah, just like his appointment.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 47:…

دفعہ نمبر 47: جب معاون ِ تفویض کسی معاملے کی تدبیر کرے اور خلیفہ اس کو برقرار رکھے تو معاون کو چاہیے کہ جس طرح خلیفہ نے اس کا م کو بر قرار رکھا تھا اسی طرح اس کو نافذ بھی کرے اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے ، اس کے بعد اگر خلیفہ اس کا دوبارہ جائزہ لے کر اپنی رائے بدلے اور معاون کی مخالفت کرے اور اس نے جو کچھ نافذ کیا تھا اس کو مسترد کرے تو دیکھا جائے گا کہ اگر معاون نے اس کو خلیفہ کے حکم کے عین مطابق…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 158:…

دفعہ نمبر 158: ریاست رعایا کے افراد کے لیے اس بات کو آسان اور ممکن بنائے گی کہ وہ اپنی آسائشوں Luxuries کو جہاں تک ممکن ہوپورا کرسکیں اور درجہ ذیل طریقے سے معاشرے میںدولت کاتوازن پیدا کریگی۔ (الف) بیت المال میں موجود منقول اور غیر منقول اموال اور مال فئے وغیرہ رعایامیں بانٹے گی۔ (ب) جن لوگوں کے پاس زمین نہ ہو، ان کو آباد اور غیر آباد زمین دے گی البتہ جن کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے فائدہ نہ…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 188:…

دفعہ نمبر 188: اسلامی دعوت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہی سیاست کا محور ہے جس کے گرد خارجہ سیاست گھومے گی اور اسی کی بنیاد پر ریاست دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 18:…

دفعہ نمبر 18: حکمران چار ہیں :خلیفہ ، معاون تفویض ، والی اور عامل ، یا وہ جو ان کے حکم میں داخل ہوں۔ ان کے علاوہ کو ئی حکمران نہیں بلکہ صرف اور صرف ملا زمین ہیں ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 58:…

دفعہ نمبر 58: والی کا ایک ولایہ سے دوسرے ولایہ میں تبادلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی ولایت ایک خاص جگہ کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کی اس کو برطرف کرکے دوبارہ کسی دوسرے صوبے کا و الی مقرر کیا جائے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 143:…

دفعہ نمبر 143 : مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔ زکوٰۃ ان اموال پر لی جائے گی جن پر زکوٰۃ لینے کو شریعت نے متعین کر دیا ہے جیسا کہ نقد ی،تجارتی مال ، مویشی اور غلہ۔ جن اموال پرزکوۃ لینے کی کوئی شرعی دلیل نہیں ،ان پر زکو ۃ نہیں لی جائے گی۔ زکوٰۃ ہرصاحب نصاب شخص سے لی جائے گی خواہ و ہ مکلف ہو جیسا کہ ایک عاقل بالغ مسلمان یا وہ غیر مکلف ہو جیسا کہ بچہ اور مجنون۔ زکوٰۃ کو بیت المال کی ایک خاص باب (…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 68:…

دفعہ نمبر 68: ہر چھائونی میں ایسے کمانڈروں کی موجود گی انتہا ئی ضروری ہے جو جنگی منصوبہ بندی اور حکمت عملی ترتیب دینے میں اعلیٰ قسم کی مہارت اور تجربہ رکھتے ہوں اور پوری فوج میں بھی ایسے کمانڈروں کی تعداد ممکن حد تک زیاد ہ ہونی چاہئے ۔