https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

مجلسِ امت (شوری اور محاسبہ) (105-111)

دفعہ نمبر 105: مجلس امہ

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 105: وہ اشخاص (افراد) جو رائے میں مسلمانوں کی نمائندگی کر تے ہیں اور خلیفہ ان سے رجوع کرتا ہے ان کو مجلس امہ کہا جا تا ہے،وہ اشخاص جو اہل ولایہ (صوبے کے لوگوں) کی نمائندگی کرتے ہیں ان کو مجالس ولایات ( مجلس ولایہ کی جمع) کہا جا تا ہے،غیر مسلموں کے لیے حکمرانوں کے ظلم یا احکام ِشرعیہ کی غلط تنفیذکی شکا یت کی غرض سے مجلس امہ میں شامل ہونا جائز ہے۔

 

Article 105: The individuals who represent the Muslims’ views to the Khalifah are the Ummah Council, and the individuals who represent the people in the provinces are the Provincial Councils. It is permitted for non-Muslims to be members in the Shura council for the sake of raising any complaints against any oppression by the rulers or misapplication of the laws of Islam.

This is a Council formed by individuals representing the opinion of the Muslims at large, to which the Khalifah can refer to, in order to consult on various issues. They in turn are the representatives of the Ummah in holding the rulers accountable. This is deduced from the Messenger of Allah’s صلى الله عليه وآله وسلم consultation with some men from the Ansar and the emigrants who represented their people. It is also derived from the Messenger’s صلى الله عليه وآله وسلم assigning some of his companions for consultation (Shura). He used to refer to them more than others for seeking opinion, such as Abu Bakr (ra), Umar (ra), Hamza (ra), ‘Ali (ra), Salman Al-Farisi (ra), Hudhayfah (ra)….

It is also deduced from the fact that Abu Bakr (ra) designated some men from the Muhajir and the Ansar for seeking their opinion when something happened. The people of the consultation (Shura) at the time of Abu Bakr (ra) were the scholars and the people capable of giving legal edicts. Ibn Sa’ad reported from Al-Qasim:

«أن أبا بكر الصديق كان إذا نزل به أمر يريد مشاورة أهل الرأي وأهل الفقه فيه، دعا رجالاً من المهاجرين والأنصار، دعا عمر، وعثمان، وعلياً، وعبد الرحمن بن عوف، ومعاذ بن جبل، وأُبَيّ بن كعب، وزيد بن ثابت، وكل هؤلاء كان يُفْتي في خلافة أبي بكر، وإنما تصير فتوى الناس إلى هؤلاء، فمضى أبو بكر على ذلك، ثم وَلِيَ عمرُ فكان يدعو هؤلاء النَّفَرَ»

when something happened and Abu Bakr wanted to consult the people of opinion and the people of jurisprudence, he called from the emigrants and the Ansar. Umar, ‘Uthman, ‘Ali, ‘Abd Al-Rahman b. ‘Awf, Mu’adh b Jabal, ‘Ubay b. Ka‘b and Zayd Bin Thabit. They all used to give their opinion during the Khilafah of Abu Bakr. People would also take their legal edicts (fatwa) from them. When Umar became Khalifah, he also called these people. There are also evidences that call upon the Muslims to account the rulers. Muslims exercised such accounting as happened at the time of the Righteous Khulafaa’. As the Ummah is allowed to be represented in consultation (Shura), she is also allowed to be represented in accounting. All of this indicates that it is allowed to have a special council that represents the Ummah in accounting and in the consultation that is established by the text of the Quran and Sunnah. It is called the Ummah Council because it represents the Ummah in consultation and accounting.

It is permitted for non-Muslim citizens to be members of the Council, in order to file complaints against any injustice perpetrated against them by the rulers or against any misimplementation of Islam upon them or the lack of services to them or the like.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 107:…

دفعہ نمبر 107: ریاست کے ہر اس شہری کو جو بالغ اور عاقل ہو ، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم، مجلس امت اور مجلس ولایہ کا رکن بننے کاحق حاصل ہے،مگرغیر مسلم کی رکنیت حکمرانوں کے ظلم یااسلام کو برے طریقے سے نافذ کر نے کی شکایت کے اظہار تک محدودہو گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 139…

دفعہ نمبر 139 : ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ انفرادی ملکیت کی چیز کو عوامی ملکیت کی طرف منتقل کرے کیو نکہ عوامی ملکیت میں ہونا مال کی طبیعت اور فطرت اور اسکی صفت میں پائیدار طور پر ہوتا ہے، ریاست کی رائے سے نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 96:…

دفعہ نمبر 96: ریا ستی امور(معاملات) کو چلانے اور لوگوں کے مفادات کی نگرانی کے لیے ڈپارٹمنٹس (محکمے) اور ادارے ہو تے ہیں جو ریاست کی ترقی اور لو گوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 155:…

دفعہ نمبر 155: یہ جائز ہے کہ اجرت کام کے فائدے کے مطابق ہو یا کام کرنے والے سے حاصل ہونے والے نفع کے مطابق ہو۔ ملازم کی معلومات یا اس کی علمی اسناد (ڈگریوں) کی بنیاد پر نہ ہو۔ ملازمین کی ترقی نہیں ہوگی بلکہ ان کو وہ اجرت پوری پوری دی جائے گی جس کے وہ مستحق ہیں، خواہ یہ کام کے لحاظ سے ہو یا کام کرنے والے کے لحاظ سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 84:…

دفعہ نمبر 84: محتسب وہ قاضی ہے جو اُن تمام مقدمات پر نظر رکھتا ہے جن کا تعلق عام حقوق سے ہواور اس میں کوئی مدعی نہیں ہوتا،بشرطیکہ یہ حدود اور جنایات(جرائم) میں داخل نہ ہوں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 49:…

دفعہ نمبر 49: خلیفہ معاون تنفیذ مقرر کرے گا اور اس کا کام انتظامی ہوگا حکومتی نہیں۔ اس کا محکمہ خلیفہ کی جانب سے داخلی اور خارجی امور سے متعلق صادر ہونے والے احکامات کو نافذ کرنے کا ادارہ ہوتا ہے اور داخلی و خارجی پہلوؤں سے اٹھنے والے معاہدات کو خلیفہ تک پہنچاتاہے گو یا وہ خلیفہ اور دوسروں کے درمیان واسطہ ہوتاہے، خلیفہ کے احکامات لوگوں تک پہنچاتا ہے اور لوگوں کے مسائل خلیفہ تک پہنچاتا ہے۔ وہ…