https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، والی ( گورنر ) (52-60)

دفعہ نمبر 60: والیوں (گورنرز) کے اعمال سے باخبر رہنا

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 60: خلیفہ کا فرض ہے کہ وہ والیوںکے اعمال پر نظر رکھے اور ان کی کڑی نگرانی کرے۔ وہ ان پر نظر رکھنے کے لیے نائب بھی مقرر کر سکتا جو ان کے حالات سے خلیفہ کو باخبر رکھے اور ان کے بارے میںتفتیش کرتا رہے۔ کبھی کبھار ان سب والیوں کا اجتماعی یا پھر الگ الگ جلاس بلاتا رہے اور ان کے بارے میں رعایا کی شکایتوں سے ان کو باخبر کرتا رہے۔

 

Article 60: The Khalifah must examine the actions of the governors and continually assess their performance strictly. He must deputise people to monitor their situations, investigate them, and periodically gather all or some of them, and listen to the complaints of the subjects regarding them.

It is confirmed that the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم used to test the governors when he appointed them as he did with Mu’adh and Abu Musa, and explained to them how they should proceed as he did with Amr b. Hazm in his message famous amongst the people of knowledge as mentioned by Ibn ’Asakir in Tarikh Damascus and Al-Hafiz said in Al-Isaba

«... واسـتعمل النبي  صلى الله عليه وآله وسلم عمرو بن حزم على نجـران ... »

“…and the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم appointed Amr Bin Hazam over Najran…” and it is reported from him that the message he  صلى الله عليه وآله وسلم wrote to him was regarding the obligations and blood money and other issues, as narrated by Abu Dawud and Al-Nasa’i, Ibn Hibban and Al-Darimi and others.

Likewise he  صلى الله عليه وآله وسلم would make them aware of some important issues as he did with Abaan Bin Said when he appointed him over Bahrain as has been mentioned in Al-Tabaqatof Ibn Sa’d from Al-Waqidi when it was said to him

«اسْـتَـوْصِ بَعَـبْـدِ قَـيْسٍ خَيْراً، وَأَكْرِمْ سَرَاتَهِمْ»

“Take good care of ’Abd Qays and honour their leaders”. In the same way, it is confirmed that he  صلى الله عليه وآله وسلم used to account the governors, investigate their circumstances and listen to what was narrated to him regarding their news. He  صلى الله عليه وآله وسلم also used to account the governors over the taxation and expenditures; it is narrated by Abu Hamid Al-Sa’idi

«اسْـتَعْمَلَ النَّبِيُّ  صلى الله عليه وآله وسلم رَجُلاً مِنْ بَنِي أَسْدٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتَبِيَّةِ عَلَى صَـدَقَـةٍ فَلَمَّا قَـدِمَ قَـالَ هَـذَا لَكُمْ وَهَـذَا أُهْدِيَ لِي فَقَامَ النَّبِيُّ  صلى الله عليه وآله وسلم عَلَى الْمِنْـبَرِ قَالَ سُفْيَانُ أَيْضًا فَصَعِدَ الْمِنْـبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ الْعَامِلِ نَـبْـعَـثُـهُ فَيَأْتِي يَقُولُ هَذَا لَكَ وَهَذَا لِي فَهَلاَّ جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَـنْـظُـرُ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لاَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَأْتِي بِشَيْءٍ إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَـبَـتِـهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ثَلاَثاً»

The Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم employed a man from the tribe of Al-Azd named Ibn Lutbiyyah as collector of Zakat. When the employee returned (with the collections) he said: " O Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم ! This is for you and this is mine because it was presented to me as gift." Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم rose to the pulpit and praised Allah and extolled Him. Then he said, "I employ a man to do a job and he comes and says: 'This is for you and this has been presented to me as gift'? Why did he not remain in the house of his father or the house of his mother and see whether gifts will be given to him or not? By Allah in Whose Hand is the life of Muhammad, if any one of you took anything wrongfully, he will bring it on the Day of Resurrection, carrying it on (his back), I will not recognize anyone of you, on the Day of Resurrection with a grunting camel, or a bellowing cow, or a bleating ewe." Then he raised his hands till we could see the whiteness of his armpits. Then he said thrice, ''O Allah ! have I conveyed (Your Commandments(agreed upon narration).

Umar (ra) used to be severe in his monitoring of the governors and appointed Muhammad Bin Maslamah (ra) to examine their circumstances and investigate them. He would gather the governors in the pilgrimage season in order to look into what they had done, listen to the complaints of the subjects regarding them and to remind them of the affairs of the governorship and establish their circumstances. It is narrated from Umar (ra) that one day he said to those around him

"أرأيتم إذا استعملت عليكم خير من أعلم ثم أمرته بالعدل، أكنت قضيت الذي علي قالوا: نعم، قال: لا، حتى أنظر في عمله، أعمل بما أمرته به أم لا"

“Do you think if I appointed over you the best whom I know, and then commanded him to be just, that have I completed what was upon me?” They replied, yes. He said “No, until I looked into his actions – did he act according to what I commanded him to or not” (reported from Al-Bayhaqi in Al-Sunan and Al-Shi’ab from Tawus).Umar (ra) used to strictly account his governors and ’Ummal, and his severity in accounting them would lead to him sometimes removing one of them due to a doubt for which there was no definite evidence and he used to remove them due to suspicion which did not reach the level of doubt. He was once asked about that and so said

"هان شيء أصلح به قوماً أن أبدلهم أميراً مكان أمير"

“The simplest thing I do to make things right for people is to relplce a leader (Amir) they have by another” (reported by Abu Shabah in Al-Tarikh Al-Madinah, and by Ibn Sa’d in Al-Tabaqat from Al-Hasan).

However, even with his strictness over them he used to allow them freedom of conduct, would protect their standing in government, listen to them and be attentive to their proofs. If the proof convinced him, he would not hide his conviction of it and his praise of the ’Amil. One day, it reached him that his ’Amil over Hims, ’Umayr b. Sa’d, said while upon the pulpit,

"لا يزال الإسلام منيعاً ما اشـتـد السلطان. وليسـت شـدة السلطان قتلاً بالسـيـف أو ضرباً بالسوط، ولكن قضاءً بالحق وأخذاً بالعدل"

“Islam will remain strong as long as the authority is rigorously strong. But strength in authority is not killking by sword or striking by whip, but it is judging according to Truth and applying justice” as mentioned by Ibn Sa’d in Al-Tabaqat from Said b. Suwayd. So Umar (ra) said regarding him,

"وددت لو أن لي رجلاً مثل عمير بن سعد أستعين به على أعمال المسلمين"

“I wish I had a man like ’Umayr Bin Sa’d who I could rely upon in Muslims’ matters”.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 170:…

دفعہ نمبر 170: تعلیمی نصاب کا اسلامی عقیدہ کی بنیاد پر استوار ہونا فرض ہے، چنانچہ تمام تدریسی مواد اور تدریسی طریقے کو اس طرح وضع کیا جائے گا کہ اس بنیاد سے روگردانی نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ 124:…

دفعہ 124: اقتصادی مسئلہ اموال اور منافع کورعایا کے تمام افراد کے درمیان تقسیم کرنا ہے، اسی طرح اس مال سے نفع اٹھانے یعنی دولت کو اکٹھا کرنے اور اس کیلئے کوشش کرنے کو ان کے لیے آسان بنانا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 174:…

دفعہ نمبر 174: تعلیم میں تجرباتی علوم یا ان سے ملحقہ علوم جیسے ریاضی اور ثقافتی علوم کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا لازمی ہے۔ تجرباتی اور اس سے ملحقہ علوم حسب ضرورت پڑھائے جائیں گے۔ تعلیمی مراحل میں سے کسی بھی مرحلے میں ان کو لازمی قرار نہیں دیا جائے گا ۔ جبکہ ثقافتی علوم کو ابتدائی مرحلے میں رکھا جائے گا، یعنی اعلیٰ تعلیم سے پہلے اور اس میں ایک خاصل حکمت عملی کی پیروی کی جائے گی جو اسلامی افکار و…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 113

دفعہ نمبر 113: اصل یہ ہے کہ مرد اورعورت الگ الگ ہوں، صرف اس ضرورت کے لیے اکھٹے ہوں جس کے لیے شرع نے اجازت دی ہو یا شرع میں یہ اجتماع ممنوع نہ ہو، جیسا کہ حج اور خریدوفروخت (تجارت)۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 67:…

دفعہ نمبر 67: فوج کے لیے انتہا ئی اعلی سطح کی عسکری تعلیم کا بندوبست کر نا فر ض ہے اور جہاں تک ممکن ہو فوج کو فکر ی لحاظ سے بھی بلند رکھا جا ئے گا۔ فوج کے ہر ہر فرد کو اسلامی ثقا فت سے مزین کیا جائے گا تاکہ وہ اسلام کے با رے میں مکمل بیدار اور باشعور ہو اگرچہ اس کی سطح عام ہی کیوں نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 51:…

دفعہ نمبر 51: معاون تنفیذ بھی معاون تفویض کی طرح بلاواسطہ براہِ راست خلیفہ سے رابطے میں ہوتا ہے وہ بھی معاون ہے لیکن حکمرانی میں نہیں صرف تنفیذ میں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 25:…

دفعہ نمبر 25: خلیفہ رضا مندی اور اختیار کا عقد ہے، اس لیے کسی کو اس کے قبول کرنے پر مجبور نہیںکیا جاسکتا نہ ہی کسی کو اس بات پر مجبور کیا جاسکتا ہے کہ فلاح شخص کو ہی تم نے خلیفہ منتخب کرنا ہے۔