https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، والی ( گورنر ) (52-60)

دفعہ نمبر 56: ولايہ اسمبلى

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 56: ہر ولایہ میں اہل ولایہ کی ایک منتخب اسمبلی ہوگی جس کے سربراہ خود والی ہوں گے اور اس اسمبلی کے پاس صرف انتظامی امور کے حوالے سے رائے دینے کا اختیار ہوگا حکمرانی کے معاملات میںاس کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ یہ اختیار بھی دو مقاصد کے لیے ہوگا۔

  • پہلا مقصد: ولایہ کی زمینی حقائق اور ضروریات کے بارے میں والی کو ضروری معلومات مہیا کرنا اور اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا۔
  • دوسرا مقصد: والی کی حکمرانی کے حوالے سے اپنی رضا مندی یا ناراضگی کا اظہار کرنا۔

          پہلے مقصد کے حوالے سے اس اسمبلی کی رائے لازمی نہیںجبکہ دوسرے مقصد میں اس اسمبلی کی رائے لازمی اور واجب العمل ہے جب اس مجلس نے والی کی شکایت کی تو اس کو معزول کر دیا جائے گا۔

 

Article 56: Every province has an assembly elected from its people and championed by the governor. The assembly has the authority to participate in expressing opinions on administrative matters and not on ruling; and this would be for two objectives:

  • Firstly - providing the necessary information about the situation of the governorate and its needs to the governor and to express their opinion about that.
  • Secondly - in order to express their contentment or complaint about the rule of the governor over them.

The opinion of the assembly is not binding in the first instance and is binding in the second – if they complain about the governor he is removed.

It is not known that the governors of the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم used to have a provincial assembly and it is not known from the actions of the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم that he selected a provincial assembly, and in the same way, nothing similar is known from the righteously guided Khulafaa’. From this, the provincial assembly is not part of the ruling apparatus or the Shari’ah rules, since the ruling apparatus is every action from the acts of ruling that has a Shari’ah evidence and anything which has no evidence is not from the ruling apparatus. Rather it is examined, and if it is a branch action that is derived from a root, then it follows that root and is from the styles and means that are permitted to be acted upon - in other words, from what is called administration; and if the root or branch action has evidence, then it is not correct to undertake it except in accordance with the Shari’ah evidence.

The provincial assembly is a branch action that is derived from the actions of the governorship, since the governor undertakes the ruling and administration, and the people of the province are more knowledgeable than him regarding the reality of their province and what occurs within it. Accordingly, it is vital that he has information that he can rely upon in order to undertake his actions and this information is present amongst the people of the province. Based upon this, it is imperative for him to refer to the people of the province while he is governing them.

This is from one angle, and from another angle his ruling of the province must be upon a basis that the people of the province are not angered, since if they are angry with him, then it would be upon the Khalifah to remove him, since the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم removed Al-’Ala’ b. Al-Hadrami as his ’Amil over Bahrain since the delegation of ’Abd Qays complained about him as mentioned by Ibn Sa’d in Al-Tabaqat. Accordingly, it is imperative that the opinion of the people of the province regarding his undertaking the ruling over them is known as to whether they are content or not.

Additionally, it is imperative for him to refer to the people of his province while he is governing them, due to the following two reasons: to gather the information which the governor requires and for his knowledge of what the people of his province think about his ruling – ,therefore, it is necessary for him to refer to the people of his province. To facilitate this reference, the governor establishes a provincial assembly which is elected from the people of his province, so that he can refer to it for the two issues: gathering information and knowing the opinion of the people of the province regarding the rule of the governor. Accordingly, this assembly does not have any consultation (Shura) or taking of opinion and nothing to do with the practice of ruling; rather it is to look into the administrative action. Its opinion is not binding but rather it is present in order to assist the governor. The first one who created this assembly was Umar b. ’Abd Al-’Aziz, since before he became the Khalifah, he was the governor over Madinah, and if he conducted a leadership assembly, he would meet two men of the opinion formers and leaders of their tribes, and said to them “It is an assembly of evil and strife, and you two have no action other than to examine me (monitor me), so if you see something which does not agree with the Truth, then remind me of Allah and make me fear Him”. So the origin is to refer to the people of the province and the observation of the governor from their side and in order to achieve this reference, a provincial assembly is created beside the governor.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 4:…

دفعہ نمبر 4: خلیفہ عبا دات میں سے سوائے زکوٰ ۃ ، جہا د اور اس چیز کے جو مسلمانوں کی وحدت کی حفاظت کے لیے ضروری ہو کسی اور عبا دت میں کسی خا ص شرعی حکم کی تبنی نہیں کرے گا ۔ اور اسلامی عقیدے سے متعلقہ افکا ر میں سے بھی کس خا ص فکر کی تبنی نہیں کر ے گا ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 21:…

دفعہ نمبر 21: حکام کے احتساب یا امت کے ذریعے حکو مت تک پہنچنے کے لیے سیاسی جماعتیں بنانے کا حق مسلما نوں کو حا صل ہے، بشر طیکہ ان پا رٹیوں کی بنیا د اسلا می عقیدہ ہواوریہ جماعتیں جن احکامات کی تبنی کر تی ہوں وہ اسلا می احکا ما ت ہوں ۔ کو ئی پا رٹی بنا نے کے لیے کسی N.O.C(اجا زت ) کی ضرو رت نہیں ، ہا ں ہر وہ پارٹی ممنو ع ہو گی جس کی اسا س اسلا م نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 22:…

دفعہ نمبر 22: نظا مِ حکومت مندرجہ ذیل چا ر بنیا دوں پر قا ئم ہو تا ہے : ا۔ با لا دستی (حا کمیت اعلیٰ Sovereignity-) شرع کو حاصل ہے عوام کو نہیں ۔ ب ۔ اقتدار امت کا ہے ۔ ج۔ ایک ہی خلیفہ کا تقرر مسلما نو ں پر فرض ہے ۔ د۔ صر ف خلیفہ کو ہی احکا م شرعیہ کی تبنی کا حق حا صل ہے اور وہی دستور اور قوانین مرتب کر سکتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 177:…

دفعہ نمبر 177: ریاست میں منہج تعلیم (نصاب اور طریقہ تدریس) ایک ہی ہو گا۔ ریاست کے منہج کے علاوہ کسی دوسرے منہج کی اجازت نہیں ہو گی۔ پرائیویٹ اسکول کی اجازت صرف اس صورت میں ہوگی جب تک وہ ریاستی منہج پر کاربندرہے ، تعلیمی پالیسی کی بنیاد(یعنی عقیدہ) پررکھے، تعلیم کے مقصد اور حکمت عملی کو ملحوظ خاطر رکھے اوران میں طلباء اور اساتذہ دونوںکے لحاظ سے مردو زن کا اختلاط نہ ہو اور ان مدارس کا تعلق کسی خاص…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 105:…

دفعہ نمبر 105: وہ اشخاص (افراد) جو رائے میں مسلمانوں کی نمائندگی کر تے ہیں اور خلیفہ ان سے رجوع کرتا ہے ان کو مجلس امہ کہا جا تا ہے،وہ اشخاص جو اہل ولایہ (صوبے کے لوگوں) کی نمائندگی کرتے ہیں ان کو مجالس ولایات ( مجلس ولایہ کی جمع) کہا جا تا ہے،غیر مسلموں کے لیے حکمرانوں کے ظلم یا احکام ِشرعیہ کی غلط تنفیذکی شکا یت کی غرض سے مجلس امہ میں شامل ہونا جائز ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 127:…

دفعہ نمبر 127: ملکیت کی تین قسمیں ہیں: انفرادی ملکیت ، عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 186:…

دفعہ نمبر 186: افراد ، امتوں اور ریاستوں کے معاملات کی دیکھ بھال کے حوالے سے اسلامی افکار کی عظمت کو نمایاں کرنا،خارجہ سیاست کا اعلیٰ طریقہ ہے ۔