https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، والی ( گورنر ) (52-60)

دفعہ نمبر 55: والی (گورنر) اور خلیفہ کے درمیان سمنوی

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 55: والی کے اوپر ان امور کے بارے میں خلیفہ کو مطلع کرنا واجب نہیں جو اس کی امارت کے دائرہ اختیار میں ہیں اور وہ اپنے اختیار ات کے مطابق اقدامات کرے ان کے بارے میں خلیفہ کو آگاہ کرنا اختیاری ہے لازمی نہیں۔ اگر ایسا کوئی مسئلہ درپیش ہو جو پہلے کبھی نہیں ہو ا تو اس کے بارے میں خلیفہ کو آگاہ کرنا ضروری ہے اور خلیفہ کو آگاہ کرنے کے بعد ہی اس کے بارے میںقدم اٹھا سکتا ہے تاہم انتظار کی صورت میں فساد کا خطرہ ہو تو خودا س کام کو نمٹائے گا اور اس کے بعد لازمی طور پر خلیفہ کو آگاہ کرے گا اور اس کام کی انجام دہی سے قبل خلیفہ کو خبر نہ دینے کی وجہ بھی بتائے گا ۔

 

Article 55: The governor is not obliged to inform the Caliph (Khalifah) of what he has carried out within his authorised command. If a new problem arises which has no precedent, he has to inform the Khalifah about it first, and he then proceeds according to the instructions of the Khalifah. If he was afraid that the problem would be exacerbated if delayed, he carries out the action and then must inform the Khalifah later on about the reason for not informing him beforehand.

The evidence is that the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم empowered his governors and did not request them to inform him of what actions they undertook and they did not use to report to him about anything. Rather, they used to undertake their actions with full independence, each of them ruling in his leadership by his opinion; this was the manner of Mu’adh, and ’Attab Bin Asid, Al-’Ala’ b. Al-Hadrami, and of all of the governors of the Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم – which indicates that the governor does not inform the Khalifah about anything from his actions. And in this regard, he is different from the assistant, since the assistant must inform the Khalifah about every action that he undertakes, whereas it is not obligatory upon the governor to inform the Khalifah about any of his actions.

It is obligatory that the Khalifah scrutinise every action the assistant undertakes, whereas it is not necessary for him to scrutinise every action of the governor, though he studies the situation of the governors and scrutinises the news from them. Accordingly, the governor has unrestricted action in his governorship, which is why Mu’adh said to the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم when he was sent to Yemen I will exert my own opinion.”; so this is evidence that the governor does not inform the Khalifah, rather he exercises his opinion. It is not forbidden to take the opinion of the Khalifah in the important issues, but he does not seek his opinion in unimportant issues in order that the interests of the people are not delayed. If something new occurs, he leaves it to the opinion of the Khalifah, because the empowerment of the governorship is that the Khalifah delegates the leadership of a city or region to the governor which is a governorship over all its people, and control in the known issues from his actions. So if a new issue which was not previously known occurred, it is left for the examination of the Khalifah, unless it was feared that this would be detrimental, in which case the governor undertakes the issue and then informs the Khalifah, since it was an issue that was unprecedented.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 171:…

دفعہ نمبر 171: تعلیمی پالیسی کا مقصد اسلامی عقلیہ اور اسلامی نفسیہ کی تعمیر ہے، اسی حکمت عملی کی بنیاد پر تمام تدریسی مواد وضع کیا جائے گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 75:…

دفعہ نمبر 75: عدلیہ کسی معاملے پر فیصلہ صادر کرتی ہے تاکہ اسے نافذ کیا جائے ۔یہی ادارہ لوگو ں کے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے یا جماعت کو پہنچنے والے نقصان سے منع کرتا ہے یا لوگوں اور حکمرانوں کے درمیا ن پیدا ہونے والے تنازعات کو ختم کرتا ہے خواہ یہ حکمران کوئی بھی ہو ، خلیفہ ہو ، اداروں کے ملازمین ہوں یا خلیفہ کے ماتحت کوئی حکمران ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 21:…

دفعہ نمبر 21: حکام کے احتساب یا امت کے ذریعے حکو مت تک پہنچنے کے لیے سیاسی جماعتیں بنانے کا حق مسلما نوں کو حا صل ہے، بشر طیکہ ان پا رٹیوں کی بنیا د اسلا می عقیدہ ہواوریہ جماعتیں جن احکامات کی تبنی کر تی ہوں وہ اسلا می احکا ما ت ہوں ۔ کو ئی پا رٹی بنا نے کے لیے کسی N.O.C(اجا زت ) کی ضرو رت نہیں ، ہا ں ہر وہ پارٹی ممنو ع ہو گی جس کی اسا س اسلا م نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 164:…

دفعہ نمبر 164: ریاست اپنے عام شہریوں کو ہر قسم کی طبی سہولتیں مفت فراہم کرے گی۔ تاہم ڈاکٹروں کو فیس پر بلوانے یا ادویات کی خرید و فروخت پر پابندی نہیں لگائے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 172:…

دفعہ نمبر 172: تعلیم کا مقصد اسلامی شخصیت پیدا کرنا اور لوگوں کو زندگی کے معاملات سے متعلق علوم و معارف سے لیس کرنا ہے۔چنانچہ طریقہ تعلیم کو اس طرح بنایا جائے گا کہ جس سے یہ مقصد حاصل ہو اور ہر وہ طریقہ ممنوع ہو گا جو اس مقصد سے ہٹاتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 2:…

دفعہ نمبر 2: دارالاسلام وہ ملک ہے جہاں اسلا می احکامات نافذ ہوں اور اُس کی امان اسلام کی امان کی وجہ سے ہو ۔ دار الکفر وہ ہے جہاں کفریہ قوانین نافذ ہوں یا اس کی امان اسلام کی امان کے بغیر ہو۔