https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، والی ( گورنر ) (52-60)

دفعہ نمبر 54: گورنر (والى) کی قوتیں

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 54: والی کوخلیفہ کے نائب ہونے کی وجہ سے اپنے ولایہ میںحکمرانی اور ولایہ کے محکموں کی نگرانی کااختیا ر حاصل ہے ۔اس کواپنے ولایہ میں محکمہ مالیات ،قضاء ( عدلیہ) اور فوج کوچھوڑکر باقی تمام محکموں کے بارے میں تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔ وہ اہل ولایہ کاامیر ہے اور ولایہ سے متعلق تمام امور کا نگران ہے تاہم پولیس بحیثیت ادارہ اس کے ماتحت نہیں ہوگی لیکن احکامات کی تنفیذ کے لیے اس کے ماتحت ہے ۔

 

Article 54: The governor has the mandatory powers of ruling and responsibility over the tasks of the departments in his governorship as a delegate of the Khalifah, so he has all the powers in his province that the assistant has in the State. He has leadership over the people of his province and control over everything that is connected with it apart from the finances, judiciary and Army. However, the police come under his leadership from the angle of implementation not administration.

Its evidence is that the governor is the delegate of the Khalifah in the position that he was appointed to and so he has the mandatory powers of the Khalifah in that position, and he is similar to the assistant with respect to the general control if his governorship was a general one; in other words, he has been given the general control in that position. He has specific control in the issues that he was appointed to alone if his governorship was specific, and he has no mandatory powers for control in other than that.

The Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم used to appoint the governors to unrestricted governorships in ruling, such as when he  صلى الله عليه وآله وسلم sent Mu’adh to Yemen and made him in charge of the prayer and Sadaqah. And some were appointed a specific governorship in a particular aspect, such as when he appointed Farwah Bin Masyak over the tribes Murad and Mathij and Zabid, and sent Khalid Bin Said Bin Al-’Aas with him over the charity. Accordingly, Mu’adh had a general governorship over the prayer and charity, whereas the governorship of Farwah Bin Masyak was specific to the prayer, and that of Khalid Bin Said to the charity.

In the same manner, the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم would send some governors and not teach them how to proceed - he sent ’Ali b. Abi Talib (ra) to Yemen and did not teach him anything due to his  صلى الله عليه وآله وسلم knowledge of him and his capability. He would send others and teach them how to proceed - he  صلى الله عليه وآله وسلم sent Mu’adh to Yemen and he said to him

«كَيْفَ تَقْضِي إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ قَالَ أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سَنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو قَالَ فَضَرَبَ صَدْرِي فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَهُ»

“What will you rule by?” He said: “By the Book of Allah.” He  said: “What if you do not find the rule?” He said: “By the Sunnah of the Messenger of Allah.” He said: “What if you do not find the rule?” He said: “I will exert my own opinion.” Upon this the Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم said: “Praise be to Allah Who guided the envoy of the Messenger of Allah to what satisfies His Messenger” (reported by Ahmad, Al-Tirmidhi, Al-Darimi and Abu Dawud, with the wording from Ahmad). Ibn Qudama mentioned similar to it in Al-Mughni and Al-Amidi in Al-Ihkam, so the narration is mashhur, and recognised scholars have taken it, and so from this angle it is considered Hasan.

Accordingly, it is permitted to appoint governors to general governorships or specific ones, as it is permitted to explain to them how to carry out their work in detail or in general.

Though it is permitted for the Khalifah to appoint governors to a general governorship, and to a specific governorship, it is confirmed from the general governorship of Mu’awiyah that he become independent of the Khalifah at the time of ’Uthman (ra), and the authority of ’Uthman over him was not apparent. After the death of ’Uthman (ra), the Fitnah occurred because Mu’awiyah had powers of ruling in all issues in the land of Al-Sham. And it is confirmed since the days of the weakness of the Abbasid Khulafaa’ that independence of governorates occurred, to the point that the Khalifah had no authority over them except for prayers being made and money being stamped in his name. From this, the bestowing of general governorships caused harm to the Islamic State, and for that reason the governorship of the governor is specific to that which does not lead to independence from the Khalifah. Since it is the Army, finances, and judiciary which enable the independence, because the Army is the power, and the finance is the support for life, and the judiciary makes apparent the protection of the rights and the establishment of the punishments, so accordingly the governorship for the governors is a specific governorship in other than the judiciary, Army and finance, since if they are in the hands of the governor, they can cause the danger of independence, and what that entails for the security of the State. Based upon this the second part of this article was drafted.

As for the final part, the governor is a ruler and it is imperative that he has the power of execution and for this reason the police are under his leadership and his leadership over it is comprehensive in the same manner it is comprehensive over all issues apart from the three just mentioned. However, the police are considered a part of the Army, so its administration is under them, but it is under the control of the governor. 

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 88:…

دفعہ نمبر 88: قاضی مظالم کی تقرری خلیفہ یا قاضی القضاء کی طرف سے ہوتی ہے، تاہم اس کا محاسبہ، اس کو تنبیہ یا اس کی بر طرفی خلیفہ کی طرف سے ہوتی ہے یا پھر قاضی القضاء کی جانب سے بشرطیکہ خلیفہ کی طرف سے اس کو اس کا اختیار دیا گیا ہو۔مگر اس کی برطرفی اس حالت میںدرست نہیں ہو تی جس وقت وہ خلیفہ یا معاون تفویض یا پھرمذکورہ قاضی القضاء کی طرف سے کیے گیے کسی زیادتی کے با رے میں چھان بین کر رہا ہو،اس حالت…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 126:…

دفعہ نمبر 126: مال صرف اللہ تعالیٰ کا ہے اسی نے بنی نوع انسان کو اس مال میں اپنا جانشین بنایا ہے اور اسی عمومی جانشینی کی وجہ سے انسان کو ملکیت کا حق حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہی نے فرد کو اس مال کا مالک بننے کی اجازت دی ہے، اسی خاص اجازت کی وجہ سے انسان بالفعل(عملی طور پر) مال کا مالک بن گیا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 67:…

دفعہ نمبر 67: فوج کے لیے انتہا ئی اعلی سطح کی عسکری تعلیم کا بندوبست کر نا فر ض ہے اور جہاں تک ممکن ہو فوج کو فکر ی لحاظ سے بھی بلند رکھا جا ئے گا۔ فوج کے ہر ہر فرد کو اسلامی ثقا فت سے مزین کیا جائے گا تاکہ وہ اسلام کے با رے میں مکمل بیدار اور باشعور ہو اگرچہ اس کی سطح عام ہی کیوں نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 13:…

دفعہ نمبر 13: بر ی الذمہ ہونا اصل ہے ،عدالتی حکم کے بغیر کسی شخص کو سزا نہیں دی جا سکتی ، کسی بھی شخص پر کسی بھی قسم کا تشدد جا ئز نہیں ، جو اس کا ارتکا ب کر ے گا اس کو سزادی جا ئے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 188:…

دفعہ نمبر 188: اسلامی دعوت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہی سیاست کا محور ہے جس کے گرد خارجہ سیاست گھومے گی اور اسی کی بنیاد پر ریاست دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 164:…

دفعہ نمبر 164: ریاست اپنے عام شہریوں کو ہر قسم کی طبی سہولتیں مفت فراہم کرے گی۔ تاہم ڈاکٹروں کو فیس پر بلوانے یا ادویات کی خرید و فروخت پر پابندی نہیں لگائے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 106:…

دفعہ نمبر 106: مجلس ولایہ کے اراکین کو معین ولایہ(صوبہ) کے لو گوں کی جانب سے براہِ راست انتخاب کے ذریعے سے منتخب کیا جائے گا اور مجلس ولایات (صوبوں) کے اراکین کی تعدادریاست کی ہر ولایہ کی آبادی (افراد)کی تعدادکی نسبت سے ہو گی۔ مجلسِ امت کے اراکین کو مجلس ولایات کے براہِ راست انتخابات کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔ مجلس امت کی ابتدا اور انتہا کی مدت وہی ہو گی جو مجلس ولایہ کی ہے۔