https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، والی ( گورنر ) (52-60)

دفعہ نمبر 52: ملک کی انتظامی تقسیم

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 52: جن علاقوں پر اسلامی ریاست کی حکمرانی ہوتی ہے ان علاقوں کو کئی ایک اکایئوں میںتقسیم کیا جاتاہے اور ہر ا کائی کوولا یہ (صوبہ ) کہا جاتاہے پھر ہر ولا یہ کوکئی ایک اکا یئوں میں تقسیم کیا جا تاہے اور ہر اکائی کو عما لہ ( ضلع ) کہا جا تاہے ۔ ہر ولایہ کے سربراہ کو والی یا امیر کہاجاتاہے اور ہر عمالہ کے سر برہ کو عامل یا حاکم کہا جاتاہے ۔

 

Article 52: The lands which are ruled by the State are divided into units, where each unit is called a Wilayah (province). Each province is divided into units and each unit is called an ’Imalah (district). The one who governs the province is called the Wali (governor) or Amir and the one who governs the ’Imalah is called the ’Aamil (worker) or Hakim (ruler).

The governors are rulers since the governorship is ruling; it is mentioned in the Al-Muhit dictionary: And to govern something and upon it governorship (Wilayah) and guardianship (Wilayah), or it is the root and wilayah is the plan and leadership and authority, and requires empowerment by the Khalifah or one whom he delegated to empower and so the governor is not appointed except by the Khalifah. The origin of governorship or leadership, in other words, in the governors and leaders, is the action of the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم . It is confirmed that he  صلى الله عليه وآله وسلم appointed governors over lands, and gave them the right to rule over the regions. He appointed Mu’adh Bin Jabal over Al-Jund, Ziyad Bin Labid over Hadramout and Abu Musa Al-Ash’ari over Zabid and ’Aden. The governor is the representative of the Khalifah and he undertakes whatever actions he represents the Khalifah in according to what he has been delegated. The governorship does not have a specific limit according to the Shari’ah so everyone who acts on behalf of the Khalifah in any action of ruling is considered to be a governor in that action according to the words which the Khalifah specified during his appointment. However, the governorship of the lands or the leadership is over a defined area, since the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم used to define the area which he would be a governor over or empower the leadership for the leader.

This governorship is of two types - general or specific; general encompasses all of the issues of ruling in the governorship and being empowered in this manner means that the Khalifah delegates to him the leadership of the city or region of the governorship over all of its people, and the handling of the issues in all of his actions, and so he has a general control. As for the specific leadership, this is when the leader’s leadership is limited to the management of the Army, governing of the subjects, protection of the borders and defence of the sanctities in that region or city. He cannot interfere with the judiciary and the collection of taxes.

The Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم appointed general governorships, such as the appointment of Amr b. Hazm over Yemen. He also appointed specific governorships, such as the appointment of ’Ali Bin Abi Talib (ra) over the judges in Yemen. The Khulafaa’ after him  صلى الله عليه وآله وسلم continued in the same manner, and so they used to appoint general governorships such as Umar Bin Al-Khattab (ra) appointing Mu’awiyah Bin Abi Sufyan to a general governorship. They would also appoint specific governorships, such when ’Ali Bin Abi Talib (ra) appointed ’Abdullah Bin ’Abbas over Basra in everything other than the finances and appointed Ziyaad over the finances.

The governorship in the first eras was of two types: governorship of the prayer and the governorship of the land taxes. Accordingly, in the history books they use two expressions when talking about the governorship of the leaders: the first being the leadership over the prayer and the second being the leadership over the prayer and the land taxes. In other words, the leader could either be a leader of the prayer and the land taxes or the leader of the prayer alone.  The meaning of the word prayer in the governorship or leadership is not that he was the Imam of the people in their prayer alone; rather its meaning was the governorship over them in all of their affairs except the finances. So the word prayer meant the ruling with the exception of the collection of the taxes.

If the governor was both over prayer and land taxes, his governorship was general, and if it was limited to the prayer or to the land taxes, then his governorship was specific. In every case, this returns back to the arrangements of the Khalifah in the specific governorship, so he can make it specific to the land taxes, or the judiciary, or to make it specific to everything other than the finances, judiciary and Army; he does whatever he thinks is good for the administration of the State or the administration of the province. This is since the Shari’ah did not limit specific work for the governor, but rather limited the work of the governor or leader to ruling and authority, and that he is acting on behalf of the Khalifah and is a leader over a specific place, and this is according to what the Messenger did.

Rather the Shari’ah gave the Khalifah the right to appoint general and specific governorships, according to what he sees from the actions, and that is apparent from the action of the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم . Built upon the limiting of the leadership of the leader or the governorship of the governor to a city or region by the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم , article fifty-two was drafted which divided the State into provinces and districts.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 114

دفعہ نمبر 114: عورت کو بھی وہی حقوق دیئے جائیں گے جو مردوں کو دیئے جاتے ہیں،اس کے بھی وہی فرائض اور ذمہ داریاں ہیں جو مردوں کی ہیں۔ تاہم اسلام نے کچھ احکامات خصوصی طور پر عورتوں کے ساتھ مخصوص کیے ہیں یاشرعی دلیل کے مطابق مردوں کے ساتھ خاص کیے ہیں وہ الگ ہیں۔ عورت کویہ حق حاصل ہے کہ وہ تجارت کرے،زراعت یا صنعت سے وابستہ ہو جائے،معاہدات اور معاملات کو نبھائے ،وہ ہر قسم کی املاک کی مالک بن سکتی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 44:…

دفعہ نمبر 44: معاون تفویض کو اختیارات سونپنے کی یہ شرط ہے کہ اختیارات دیتے وقت دوباتوں کو مدِنظر رکھنا چاہیے ، پہلی بات یہ کہ اختیارات عمومی ہونے چاہیے ، دوسری با ت یہ کہ وہ خلیفہ کا نائب بنا دیا جائے یا اس سے ملتے جلتے اور کوئی الفاظ استعمال کرے جن سے یہ واضح ہوتا ہو کہ معاون کو ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک ذمہ داری سے دوسری ذمہ داری کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے اور اس کا م کے لیے نئے سرے سے اختیا…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 74:…

دفعہ نمبر 74: محکمہ صنعت وہ محکمہ ہے جو صنعت سے متعلق تمام معاملات کا ذمہ دار ہے خواہ یہ صنعت بھاری صنعت ہو جیسے انجن اور آلات سازی ، گاڑیوں کی باڈی اور کیمیکل اور الیکڑونک مصنوعات یا پھر ہلکی(چھوٹی) صنعت ہو۔ وہ کارخانے جن کا تعلق حربی شعبے سے ہے اس شعبے کے تحت آئیں گے۔ خواہ ان کارخانوں میں تیار مال عوامی ملکیت میں آتا ہو یاانفرادی ملکیت میں ، تمام کارخانے جنگی پالیسی کی بنیاد پر استوارہونے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 97:…

دفعہ نمبر 97: مفادات (Public Interests)کی نگرانی اور محکموںکے انتظام کی پالیسی نظام میں سادگی،اعمال کو انجام دینے میں جلدی اورمحکموں کے لیے قابل ذمہ داران کے تقررکی بنیاد پر ہو گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 171:…

دفعہ نمبر 171: تعلیمی پالیسی کا مقصد اسلامی عقلیہ اور اسلامی نفسیہ کی تعمیر ہے، اسی حکمت عملی کی بنیاد پر تمام تدریسی مواد وضع کیا جائے گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 4:…

دفعہ نمبر 4: خلیفہ عبا دات میں سے سوائے زکوٰ ۃ ، جہا د اور اس چیز کے جو مسلمانوں کی وحدت کی حفاظت کے لیے ضروری ہو کسی اور عبا دت میں کسی خا ص شرعی حکم کی تبنی نہیں کرے گا ۔ اور اسلامی عقیدے سے متعلقہ افکا ر میں سے بھی کس خا ص فکر کی تبنی نہیں کر ے گا ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 191:…

دفعہ نمبر 191: ریاست کے لیے ان تنظیموں (آرگنائزیشنز) میں شمولیت جائز نہیں جن کی بنیاد اسلام نہیں یا وہ غیر اسلامی احکامات کو نافذ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی ادارے جیسا کہ اقوامِ متحدہ، عالمی عدالت انصاف، عالمی مالیاتی فنڈ (ای۔ ایم۔ایف) عالمی بنک (ورڈبینک) یا علاقائی تنظیمیں جیسے عرب لیگ۔