https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، خلیفہ (24-41)

دفعہ نمبر 39

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 39: خلیفہ کے لیے کوئی محدود مدت نہیں ،جب تک خلیفہ شریعت کی حفاظت اور اس کے احکامات کو نافذ کرتا ہے ، ریا ستی امور کی انجام دہی پر قادر ہے تب تک خلیفہ ہے اور اس وقت تک خلیفہ رہے گا جب تک اس کی حالت میں ایسی کوئی تبدیلی رونما ہو جائے جو اس کو خلافت کے منصب سے خارج کر دے ۔ جیسے ہی اس کی حالت بدل گئی تو فوراً اس کو بر طرف کرنا فرض ہو جاتا ہے۔

 

 

Article 39: The Caliph (Khalifah) does not have a fixed term of office; as long as the Caliph (Khalifah) preserves the Shari’ah and he implements its rules, and is capable of carrying out the affairs of the State, he remains as a Caliph (Khalifah) as long as his situation does not change to one that would remove him from the leadership of the State. If his state changes in this manner, then it is obligatory to remove him from his position at that time.

The proof for this is that the text of the pledge of allegiance mentioned in the narrations came in an absolute form and was not restricted by any specific period. Additionally, the righteously guided Khulafaa’ were each contracted upon a pledge in an absolute form, which was the pledge mentioned in the narrations, and their terms were not fixed. So each one of them undertook the Caliphate (Khilafah) from the time they were contracted until they died, which is an Ijma’ of the companions that the Caliphate (Khilafah) does not have a fixed term, rather it is absolute, and if someone is contracted, they remain as Caliph (Khalifah) until they die. This is the case unless something occurs to the Caliph (Khalifah) which would remove him, or make it necessary to remove him at that time. But this is not a limit upon the term of the Caliphate (Khilafah), rather it would be something that occurred which led to a deficiency in the conditions of the Caliphate (Khilafah), since the form of the pledge of allegiance which has been determined by the Shari’ah texts and the Ijma’ of the companions made the Caliphate (Khilafah) an indeterminate term. However, it is limited by the undertaking of what he was contracted upon, which was the Book and the Sunnah, in other words, the implementation of the Shari’ah; if he did not protect the Shari’ah or did not implement it, then he would display open disbelief which would make resistance against him obligatory upon the Ummah due to the narration

«إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا»

“Unless you witness open Kufr” (agreed upon narration from ’Ubadah b. Al-Samit).

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 86:…

دفعہ نمبر 86: محتسب کو اپنے ایسے نائبین مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے جن کے اندر محتسب کی شرائط پائی جاتی ہوں،جن کو مختلف علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ان نائبین کو اس علاقے یا محلے میں ان مسائل میں حسبہ کی ذمہ داری ادا کرنے کا اختیار ہو گاجو ان کو سپرد کیے گئے ہوں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 110:…

دفعہ نمبر 110: وہ مسائل جن میں خلیفہ کی جانب سے مشورہ طلب کیا جائے اور اس مشورے پر عمل بھی لازمی ہو،توان مسائل میں غلط اور صحیح سے قطع نظر اکثریت کی رائے کو اختیار کیا جائے گا،جب کہ وہ مسائل جو شوری ٰکے ماتحت تو ہیں لیکن ان میں مشورے کو اختیار کرنا لازمی نہیں ان میں اکثریت یا اقلیت سے قطع نظر درست کو تلاش کیا جائے گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 117

دفعہ نمبر 117: عورت کی ایک خاص زندگی ہے اور ایک عام۔عام زندگی میں وہ خواتین،محرم مردوں اور غیر محرم مردوں کے ساتھ اس طرح رہ سکتی ہے کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آنا چاہیے۔بے پردہ اور زینت کا ظہار بھی نہ ہو۔خاص زندگی میں صرف خواتین اور محرم مردوں کے ساتھ رہنا ہی اس کے لیے جائز ہے۔غیر محرم مردوں کے ساتھ رہنا اس کے لیے بالکل جائز نہیں۔دونوں حالتوں میں احکام شرعیہ کی پابندی لازمی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 104:…

دفعہ نمبر 104: نشرو اشاعت کے ایسے ادارے (میڈیا) کے لیے لائسنس (این او سی) کی کوئی ضرورت نہیں، جس کا مالک ریاست کا شہری ہو، بلکہ صرف متعلقہ ریاستی ادارے کے آفس کو خبر کرنا اور اس کے علم میں لانا کافی ہے کہ کس قسم میڈیا بنایا جارہا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کے مالکان اورلکھنے والے (صحافی) اپنے ہر رپورٹ اور مواد کے بارے میںذمہ دار ہوںگے، کسی قسم کے خلاف شرع مواد پر ان کا محاسبہ ہوگاجیسا کہ ریاست کے کسی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 167:…

دفعہ نمبر 167: ریاست کی نقدی (کرنسی) سونے اور چاندی کی ہوگی، خواہ اسے کرنسی کی شکل میں ڈھالا گیا ہو یا نہ ڈھالا گیا ہو۔ ریاست کے لیے سونے چاندی کے علاوہ کوئی نقدی جائز نہیں۔ تاہم ریاست کے لئے سونا چاندی کے بدل کے طور پر کوئی اورچیز جاری کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ کہ ریاست کے خزانے میں اتنی مالیت کا سونا چاندی موجود ہو۔ پس ریاست کے لیے پیتل، کانسی یا کاغذی نوٹ وغیرہ اپنے نام کی مہر لگا کرجاری کرنا جائز…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 119:…

دفعہ نمبر 119: مرد اور عورت دونوں کو ایسے کسی بھی کام سے روکا جائے گاجواخلاقی لحاظ سے تباہ کن ہویا معاشرے میں فساد کا باعث ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر136:…

دفعہ نمبر136: ہر زمیندار کو زمین سے فائدہ اٹھانے ( کاشت کرنے) پر مجبور کیا جائے گا۔ زمین سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہوتو بیت المال سے ہر ممکن طریقے سے اس کی مدد کی جائے گی۔ہر وہ شخص جو زمین سے تین سال تک کوئی فائدہ اٹھائے بغیر اسے بیکار چھوڑ رکھے تو زمین اس سے لے کر کسی اور کو دے دی جائے گی۔