https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، خلیفہ (24-41)

دفعہ نمبر 32:

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 32: خلافت کا منصب خلیفہ کی موت، سبکدوشی یا اس کو معزول کیے جانے سے خالی ہو جائے تو تین دن (بشمول انکی راتوں کے) کے اندر اندردوسرا خلیفہ مقرر کرنا فرض ہے۔

 

Article 32: If the position of the Caliphate (Khilafah) becomes vacant due to the death of its leader, his resignation or his removal, it is obligatory to appoint a Caliph (Khalifah) within three days from the date that the position of the Caliphate (Khilafah)became vacant.

Appointing the Caliph (Khalifah) becomes obligatory from the moment that the previous Caliph (Khalifah) dies or is removed. However, it is permitted for the appointment to occur within three days with their nights as long as it is due to working to achieve it. If it takes longer than three nights and the Caliph (Khalifah) has still not been appointed, then the issue is considered – if the Muslims are working to establish it but are unable to achieve that during the three night time limit due to overwhelming circumstances that they are unable to overcome, then the sin is lifted from them since they are busy working to establish the obligation and are compelled to delay its establishment due to whatever forced them. It is reported from Ibn Hibban and Ibn Maja from Ibn Abbas: the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم said:

«إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْـتُكْرِهُوا عَلَيْهِ»

Verily Allah has pardoned for my Ummah: their mistakes, their forgetfulness, and that which they have been forced to do. If they were not made busy with such overwhelming issues, then the most time allowed for the appointment is three days with their nights.

The evidence for the obligation of immediately working to establish the pledge of allegiance (Bay’a) to the Caliph (Khalifah) due only to the vacation of the position of the Caliphate (Khilafah) is the Ijma’ of the companions. They immediately hurried to gather at Saqifa Bani Sa‘idah after the death of the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم on the same day and before his صلى الله عليه وآله وسلم burial, and the pledge of contracting (Bay'at Al-In‘iqad) was completed on the same day with Abu Bakr (ra), and the next day the people gathered in the mosque to give the pledge of obedience (Bay'at Al-ta‘ah).

Limiting the time to establish the appointment of the Caliph (Khalifah) to three days is due to that when it became apparent that Umar (ra) was going to die from his stab wound, he delegated the issue of appointment of his successor to the people of Shura, and limited them to three days, and then commissioned that if the Caliph (Khalifah) was not agreed upon within the three days, those who differed after the three days should be killed. He appointed fifty men from the Muslims in order to execute this - in other words, to kill the dissenter, even though they were from the senior companions, and all of this was seen and heard by the companions and none of them rebuked it even though normally anything similar to it would have been reproachable, so it is considered an Ijma’ of the companions that it is not permitted for the position of Caliph (Khalifah) to be left vacant for more than three days, and the Ijma’ of the companions is an Islamic evidence in the same manner as the Quran and the Sunnah.

Al-Bukhari reported through Al-Miswar Bin Makhramah who said:

«طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعٍ مِنْ اللَّيْلِ، فَضَرَبَ الْبَابَ حَتَّى اسْـتَـيْقَظْتُ، فَقَالَ أَرَاكَ نَائِمًا، فَوَاللَّهِ مَا اكْتَحَلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِكَبِيرِ نَوْمٍ»

“Abdur-Rahman called on me after a portion of the night had passed and knocked on my door till I got up, and he said to me, "I see you have been sleeping! By Allah, during the last three nights I have not slept enough”. And Ibn Kathir mentioned in the book Al-Bidayah wa ’l-Nihayah

(فلما كانت الليلة التي يسفر صباحها عن اليوم الرابع من موت عمر، جاء - عبد الرحمن بن عوف - إلى منزل ابن أخته المسور بن مخرمة فقال: أنائم يا مسور؟ والله لَم أغتمض بكثير نوم منذ ثلاث ...)

“When the night whose morning would have been the fourth day after the death of Umar, ‘Abd Al-Rahman Bin ‘Auf came to the house of his nephew Al-Miswar Bin Makhramah and said “You are sleeping O Miswar? By Allah I did not get much sleep for the last three” - in other words, the last three nights and when the people prayed the Morning Prayer the pledge with ‘Uthman (ra) was completed.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 179…

دفعہ نمبر 179 : اسکولوں اور یونیورسٹی کے علاوہ بھی ریاست لائبریریاں لیبارٹریاں اور علم حاصل کرنے کے تمام وسائل مہیا کرے گی۔ تا کہ ایسے لوگوں کو مواقع حاصل ہوں جو لوگ مختلف علوم و معارف جیسے فقہ ، اصول فقہہ ،حدیث، تفسیر یا دوسرے افکارجیسے میڈیکل ، انجینئرنگ، کمسٹری، وغیرہ میں بحث و تحقیق کرنا چا ہیں اور تجربات ، ایجادات اور انکشافات کرسکیں ۔ تا کہ امت کے اندر مجتہدین اور موجدین کی ایک بڑی تعداد ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 105:…

دفعہ نمبر 105: وہ اشخاص (افراد) جو رائے میں مسلمانوں کی نمائندگی کر تے ہیں اور خلیفہ ان سے رجوع کرتا ہے ان کو مجلس امہ کہا جا تا ہے،وہ اشخاص جو اہل ولایہ (صوبے کے لوگوں) کی نمائندگی کرتے ہیں ان کو مجالس ولایات ( مجلس ولایہ کی جمع) کہا جا تا ہے،غیر مسلموں کے لیے حکمرانوں کے ظلم یا احکام ِشرعیہ کی غلط تنفیذکی شکا یت کی غرض سے مجلس امہ میں شامل ہونا جائز ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 69:…

دفعہ نمبر 69: یہ بھی فرض ہے کہ فوج کے پا س و افر مقدارمیں اسلحہ ، آلاتِ جنگ ،سازو سامان اور جنگی مہمات کے لیے لازمی اور ضروری چیزیں ہوں تاکہ ایک اسلامی فوج ہونے کی حیثیت سے وہ باآ سا نی اپنی ذمہ داری کو اداکر سکے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 152:…

دفعہ نمبر 152: بیت المال کے نفقات (اخراجات) کو چھ مصارف میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ (۱) وہ آٹھ اصناف جو زکوۃ کے اموال کے مستحق ہیں ان پر زکوۃ کی مد سے خرچ کیا جائے گا۔ (ب) فقراء ، مساکین، مسافر اجہاد فی سبیل اللہ اور قرضداروں پر خرچ کرنے کے لیے اگر زکوۃ کے شعبے میں مال نہ ہو تو بیت المال کی دائمی آمدنی سے ان پر خرچ کیا جائے گا۔ اگر اس میں بھی کوئی مال نہ ہو تو قرضداروں کو تو کچھ بھی نہیں دیا جائے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 93:…

دفعہ نمبر 93: ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خصومت (جھگڑے یا لڑائی) میںیا اپنے دفاع میںجس کو چاہے اپنا وکیل مقرر کرے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، مرد ہو یا عورت،اس میں وکیل اور موکل کے درمیان کوئی فرق نہیں اوروکیل کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اجرت لے کر وکالت کرے وہ اس اجرت کا حقدار ہے جو اس نے اپنے موکل کے ساتھ باہمی رضامندی سے طے کیا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 160:…

دفعہ نمبر 160: ریاست صنعت کے شعبے کی تمام معاملات کی نگرانی کرے گی اور عوامی ملکیت سے تعلق رکھنے والی صنعتوں کی براہ راست نگرانی اور دیکھ بھال کرے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 173:…

دفعہ نمبر 173: تعداد اور وقت کے لحاظ سے دوسرے علوم کی طرح اسلامی اور عربی علوم کے بھی لازمی ہفتہ وار پیریڈ محضوص ہونے چاہیں۔