https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، خلیفہ (24-41)

دفعہ نمبر 30:

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 30: خلیفہ کے طور پر جس شخص کی بیعت کی جارہی ہو اس کے اندرا نعقاد خلافت کی تمام شرائط کا ہونا لازمی ہے اگر چہ اس کے اندر افضلیت کے شرائط نہ ہوں کیونکہ اعتبار شروط انعقاد کا ہے ۔

Article 30: The only conditions for the one who is given the pledge to be the leader of the State is that he fulfils the contracting conditions of the contract, even if he does not fulfil the preference conditions, since what matters are the contracting conditions of the contract.

The proof for this is the evidences that were narrated regarding the characteristics of the Caliphate. In some oft the narrations regarding his characteristics the request is non-decisive, such as hisصلى الله عليه وآله وسلم words

«إِنَّ هَذَا الأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ»

“The authority of ruling (Al-amr) is in Quraysh” (reported by Al-Bukhari from Mu’awiyah). This narration is informative, and it is in the informative form, and though it conveys the meaning of a request, it is not considered decisive as long as it is not accompanied by an indication that confirms its decisiveness, and there is no such indication from an authentic narration. As for what is transmitted in the narration,

«لاَ يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلاَّ كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ»

“Whoever bears hostility to them, Allah will destroy him as long as they abide by the laws of religion” – this is to do with showing enmity to them and not as a confirmation for hisصلى الله عليه وآله وسلمwords

«إن هذا الأمر في قريش»

“The authority of ruling (Al-Amr) is in the Quraysh”. This is apart from the fact that the word “Quraysh” is a noun and not an adjective, and is called a Laqab (title) in Usul Al-Fiqh, and the understanding (Mafhum) of the noun, or Laqab is not acted upon since the noun or Laqab does not have a Mafhum. For that reason the text about the Quraysh does not mean that other than they cannot be appointed.

Based upon this, this narration indicates a preferred condition and not a condition of contracting due to the absence of an indication that would make the request decisive; rather there is an indication that makes it non-decisive. When the Messengerصلى الله عليه وآله وسلمoffered himself to the tribe of ‘Amir Bin Sa’asa’a who asked

«أَيَكُونُ لَنَا الأَمْرُ مِنْ بَعْدِكَ» قال: «إِنَّ الأَمْرَ للَّهِ يَضَعُهُ حَيْثُ يَشَاءُ»

“Will the matter (authority of ruling) remain with us after you”, to which heصلى الله عليه وآله وسلمsaid “The matter (authority of ruling) is in the Hand of Allah; He gives it to whoever He wills”, narrated by Ibn Ishaq from Al-Zuhri, then this indicates that the request was non-decisive since the reply of the Messengerصلى الله عليه وآله وسلمindicates the permission for the order to be with them after himصلى الله عليه وآله وسلم, and permitted to be with other than them, which indicates that the condition of being from Quraysh is a condition of preference.

As for the conditions of contracting, they are those that are related with a decisive request such that their absence leads to an absence of contracting (as is understood from the definition of what is a condition). In other words, the result of its absence would mean the invalidity of the Caliph for him if he was not from Quraysh. The reply of the Messengerصلى الله عليه وآله وسلمto the tribe of ‘Amir takes the request away from being decisive, as opposed to what has been narrated in the texts for the conditions of contracting. For example, the condition of maturity comes from the fact that the Messengerصلى الله عليه وآله وسلمrefused to take the pledge of allegiance from a child – when he refused to take allegiance from ‘Abd Allah b. Hisham – and the reason was due to his young age. Therefore, it is evidence that it is a condition for the Caliphate to be adult, since if the pledge is not correct from the child then by greater reasoning it would not be correct for the child to be the Caliphate.

Whatever characteristic has been mentioned by a decisive request is considered a condition for the contracting of the Caliph with him, and anything else is not made a condition for contracting even if there is a text which mentions it as long as the request was non-decisive.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 35:

دفعہ نمبر 35: امت ہی خلیفہ کا تقرر کرتی ہے ۔لیکن جس وقت شرعی طریقے سے خلیفہ کو بیعت انعقاد دے دی جائے اس کے بعد امت کو اُس خلیفہ کو معزول کرنے کا اختیار نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر147:…

دفعہ نمبر147: ہر وہ عمل (کام) جس کی انجام دہی کو شرع نے امت پر فرض قرار دیا ہے اگر بیت المال میں اتنا مال موجود نہ ہو جو اس فرض کام کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو تب یہ فرض امت کی طرف منتقل ہوگا۔ ایسی صورت میں ریاست کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ امت سے ٹیکس وصول کر کے اس ذمہ داری کو پورا کرے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 57:…

دفعہ نمبر 57: ایک ولایہ پر ایک ہی شخص کا طویل مدت تک والی رہنا مناسب نہیں ۔خاص طور پرکسی ایک ولایہ میں وہ مرکزی شخصیت بن جائے یا اس کی وجہ سے لوگوں کے فتنے میں پڑنے کا خطرہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 109:…

دفعہ نمبر 109: شوریٰ صرف مسلمانوں کا حق ہے غیر مسلموں کا شوری میں کوئی حق نہیں،تاہم رائے کے اظہار کا حق رعایا کے تمام افراد کو حاصل ہے خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 23:…

دفعہ نمبر 23: ریا ست خلافت کے تیر ہ ادارے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ خلیفہ (ریاست کا سربراہ) معاونین (وزراء تغویض) وزراء تنقید والی (گورنرز) امیر جہاد اندرونی سلامی (داخلی سیکورٹی) خارجہ (خارجہ امور) صنعت قضاء (عدلیہ) مفادعامہ(انتظامی ادارہ) بیت المال میڈیا مجلسِ امت (شوریٰ اور محاسبہ)
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 180…

دفعہ نمبر 180 : تعلیم کے تمام مراحل میں تا لیف سے فائدہ اٹھانے (کاپی رائٹ) کی اجازت نہیںہوگی۔ کوئی بھی شخص جس نے کتاب لکھ کر شائع کی اس کے بعد اس کو کاپی رائٹ کے حقوق حا صل نہیں ہو ںگے خواہ یہ شخص مولف ہو یا کوئی اور ۔ہاں جب تک افکار اس کے ذہن میں ہیں ان کی نشرو اشاعت نہیں ہوئی تو وہ ایسے افکار لوگوں کودے کر اس پر اجرت لے سکتا ہے جیسا کہ پڑھا کر اجرت لی جاتی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 81:…

دفعہ نمبر 81: قاضی کے لیے مجلسِ قضاء کے علاوہ کہیں فیصلہ کرنا جائز نہیں،گواہی اور قسم بھی صرف عدالت کی مجلس میں ہی معتبر ہیں۔