https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، خلیفہ (24-41)

دفعہ نمبر 27: بیعت سے خلافت کا انعقاد

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 27: جن لوگوں کی بیعت سے خلافت کا انعقاد ہوتاہے اگر وہ لوگ بطورِ خلیفہ کسی ایک شخص کی بیعت کرلیں تو باقی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی بیعت، بیعتِ اطاعت ہوگی اور یہ بیعتِ انعقاد نہیں ہوگی۔  چنانچہ جس شخص کے اندر سرکشی کے امکانات نظر آئیں اور وہ مسلمانوں کی وحدت کو توڑنے کی کوشش کرے ،تو اسے بیعت پر مجبور کیا جائے گا

 

Article 27: If the Khilafah is contracted to an individual by the pledge of those it is valid to be contracted with, the pledge of the remainder of the people is a pledge upon obedience and not a pledge of contracting; and so, any one who is seen to have the potential of rebellion is forced to give the pledge.

The evidence for this is what happened in the pledge of the four Khulafaa’, because it was an Ijma’ of the companions. In the pledge of Abu Bakr (ra), the people of power and influence (Ahl Al-Hal wal-‘Aqd) of Madinah alone were sufficient, and that was the case in the pledge of Umar (ra), and in the pledge of ‘Uthman (ra) it was enough to take the opinion of the Muslims in Madinah, and take the pledge from them, and in the pledge of Ali (ra) the pledge of the majority of the people of Madinah and Kufa was enough. All of this indicates that it is not necessary that all the Muslims have to give the pledge in order to contract the Khilafah; rather the pledge of most of their representatives is enough. As for the remainder, then if they gave a pledge their pledge is upon obedience.

With respect to forcing those whom may rebel to take the pledge after the pledge of the majority of the representatives, the evidence is the resolve of our master Ali (ra) to make Mu’awiyah give him the pledge and agree with what the people had agreed, and his forcing of Talha and Az-Zubayr to take his pledge, and none of the companions rebuked him for doing so, though some of them gave him advice not to remove Mu’awiyah from the governorship of As-Sham. The silence of the companions upon the actions of one of them, if it was from the actions that are rebuked – such as forcing someone to take the pledge whereas it is a contract upon satisfaction and consent – is considered to be an Ijma’ of silent consent, and is considered a Shari’ah evidence.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 170:…

دفعہ نمبر 170: تعلیمی نصاب کا اسلامی عقیدہ کی بنیاد پر استوار ہونا فرض ہے، چنانچہ تمام تدریسی مواد اور تدریسی طریقے کو اس طرح وضع کیا جائے گا کہ اس بنیاد سے روگردانی نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 43:…

دفعہ نمبر 43: معاون کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو خلیفہ کے لیے ہیں یعنی وہ مرد ہو ، آ زاد ہو ، مسلمان ہو ، با لغ ہو ، عاقل ہو، عادل ہو ، قادر ہو اور اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 37

دفعہ نمبر 37: خلیفہ تبنی میں احکا م شر عیہ کا پا بند ہے چنا نچہ اس کیلئے کسی ایسے حکم کی تبنی حر ام ہے جس کا اس نے ’ادلہ شریعہ‘ سے صحیح طریقے سے استنباط نہ کیا ہو۔ وہ اپنے تبنی کردہ احکامات اور طریقہ استنباط کا بھی پابند ہے۔ چنانچہ اس کے لیے جائز نہیںکہ وہ کسی ایسے حکم کی تبنی کرے جس کے استنباط کا طریقہ اس سے متناقض ہو جسے خلیفہ تبنی کر چکا ہے، اور نہ ہی اس کے لیے جائز ہے کہ وہ کوئی ایسا حکم دے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 140…

دفعہ نمبر 140 : امت کے افراد میںسے ہر فرد کو اسی چیز سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے جو عوامی ملکیت میں داخل ہے ۔ ریاست کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی خاص شخص کو عوامی ملکیت سے فائدہ اٹھانے یا اس کا مالک بننے کی اجازت دے ۔اور باقی رعایا کو اس سے محروم رکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 98:…

دفعہ نمبر 98: ہر وہ شخص جو ریاست کا شہری ہو اور باصلاحیت ہو، کو کسی بھی مفاد،محکمہ یا ڈپارٹمنٹ کاملازم یا اس کامدیر (ڈائریکٹر) مقرر کیا جا سکتا ہے،خواہ وہ مرد ہو یا عورت،مسلمان ہو یا غیر مسلم۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 97:…

دفعہ نمبر 97: مفادات (Public Interests)کی نگرانی اور محکموںکے انتظام کی پالیسی نظام میں سادگی،اعمال کو انجام دینے میں جلدی اورمحکموں کے لیے قابل ذمہ داران کے تقررکی بنیاد پر ہو گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 35:

دفعہ نمبر 35: امت ہی خلیفہ کا تقرر کرتی ہے ۔لیکن جس وقت شرعی طریقے سے خلیفہ کو بیعت انعقاد دے دی جائے اس کے بعد امت کو اُس خلیفہ کو معزول کرنے کا اختیار نہیں۔