https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، خلیفہ (24-41)

دفعہ نمبر 25: خلافت: کی پسند اور رضا مندی کی ایک معاہدہ ہے

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 25: خلیفہ رضا مندی اور اختیار کا عقد ہے، اس لیے کسی کو اس کے قبول کرنے پر مجبور نہیںکیا جاسکتا نہ ہی کسی کو اس بات پر مجبور کیا جاسکتا ہے کہ فلاح شخص کو ہی تم نے خلیفہ منتخب کرنا ہے۔

 

Article 25: The Khilafah is a contract of choice and consent, so no one is compelled to accept it, and no one is compelled to choose the one who would undertake it.

The proof for this is the evidence that any Shari’ah contract is completed between two parties since it is a contract like all the other contracts. On top of that, the narration of the Bedoin gave the pledge of allegiance to Allah's Prophet صلى الله عليه وآله وسلمfor Islam. Then the Bedoin got fever at Medina, came to Allah's Prophet and said, "O Allah's Prophet! Cancel my Pledge," But Allah's Prophet صلى الله عليه وآله وسلم refused. Then he came to him (again) and said, "O Allah's Prophet! Cancel my Pledge." But the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم refused. Then he came to him (again) and said, "O Allah's Prophet! Cancel my Pledge." But the Prophet refused. The Bedouin finally went out (of Medina) whereupon Allah's Prophet صلى الله عليه وآله وسلم said,

«إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا»

"Medina is like a pair of bellows (furnace): It expels its impurities and brightens and clears its good. (agreed upon by Muslim and Al-Bukhari). As the pledge upon the Khilafah is a pledge upon obedience to the one who has the right to be obeyed from the people of authority, then it is a contract upon choice and consent, and so it is not correct by compulsion; neither compulsion on the one given the pledge nor compulsion upon those who are giving the pledge due to the words of the Messenger :صلى الله عليه وآله وسلم

«إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْـيَانَ وَمَا اسْـتُكْرِهُوا عَلَيْهِ»

“Allah has forgiven my nation (Ummati) for mistakes and forgetfulness, and what they are forced to do.” (reported by Ibn Maja through Ibn ‘Abbas), and this is general for every contract including the contract of the Khilafah. Accordingly, every contract that occurs due to compulsion is void, since it has not been contracted. In the same manner as the other contracts, the Khilafah is not contracted by compulsion.

Likewise, the Khilafah is not completed except with two contracting parties like any other contract; so, someone would not be a Khalifah unless someone appoints him to the Khilafah, and so if someone appoints themselves as Khalifah without a pledge from those whom the Khilafah is contracted through, he would not be a Khalifah unless they gave him the pledge with satisfaction and consent, in which case he becomes Khalifah after this pledge; as for before it then he would not be considered such. If the people are forced to give the pledge, the person would not be the Khalifah after this pledge which was taken by compulsion, and the Khilafah would not be contracted to him since it is a contract which is not contracted through compulsion due to the words of the Messenger :صلى الله عليه وآله وسلم

«إِنَّ اللَّهَ وَضَـعَ عَـنْ أُمَّـتِي الْخَطَأَ وَالنِّـسْـيَانَ وَمَا اسْـتُكْرِهُوا عَلَيْهِ»

“Allah has forgiven my nation (Ummati) for mistakes and forgetfulness, and what they are forced to do.” , and what has been forgiven is considered to be void.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 127:…

دفعہ نمبر 127: ملکیت کی تین قسمیں ہیں: انفرادی ملکیت ، عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 29:

دفعہ نمبر 29: وہ ملک یا خطہ جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت انعقاد کرے، کے لیے شرط ہے کہ اس ملک کا اقتدار اس کا اپنا ہو، جس کا انحصار صرف مسلمانوں پر ہو اور کسی کافر ریاست کا اقتدار میں کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس ملک کی داخلی وخارجی امان اور مسلمانوں کی امن و سلامتی اسلام کی وجہ سے ہو نہ کہ کفار کے بل بوتے پر۔ جو علاقے صرف خلیفہ کی اطاعت کی بیعت کریں ان کے لیے یہ شرط لازم نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 13:…

دفعہ نمبر 13: بر ی الذمہ ہونا اصل ہے ،عدالتی حکم کے بغیر کسی شخص کو سزا نہیں دی جا سکتی ، کسی بھی شخص پر کسی بھی قسم کا تشدد جا ئز نہیں ، جو اس کا ارتکا ب کر ے گا اس کو سزادی جا ئے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 117

دفعہ نمبر 117: عورت کی ایک خاص زندگی ہے اور ایک عام۔عام زندگی میں وہ خواتین،محرم مردوں اور غیر محرم مردوں کے ساتھ اس طرح رہ سکتی ہے کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آنا چاہیے۔بے پردہ اور زینت کا ظہار بھی نہ ہو۔خاص زندگی میں صرف خواتین اور محرم مردوں کے ساتھ رہنا ہی اس کے لیے جائز ہے۔غیر محرم مردوں کے ساتھ رہنا اس کے لیے بالکل جائز نہیں۔دونوں حالتوں میں احکام شرعیہ کی پابندی لازمی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 38

دفعہ نمبر 38: خلیفہ کو اپنی رائے اور اجتہا د کے مطا بق لو گو ں کے امو ار کی دیکھ بھا ل کا پو را حق حاصل ہے ۔ اس کو ان مبا حا ت میں بھی تبنی کا حق حا صل ہے جو ریا ستی امو ر کو چلا نے اور لوگو ں کی دیکھ بھا ل کیلئے ضر وری ہے ۔ تا ہم مصلحت کو دلیل بنا کر کسی حکم شر عی کی خلاف ورزی اس کے لیے بالکل جا ئز نہیں مثا ل کے طو ر پر غذائی قلت کو دلیل بنا کر وہ کسی ایک خاندان کو بھی کثرت اولا د سے منع نہیں کر…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 110:…

دفعہ نمبر 110: وہ مسائل جن میں خلیفہ کی جانب سے مشورہ طلب کیا جائے اور اس مشورے پر عمل بھی لازمی ہو،توان مسائل میں غلط اور صحیح سے قطع نظر اکثریت کی رائے کو اختیار کیا جائے گا،جب کہ وہ مسائل جو شوری ٰکے ماتحت تو ہیں لیکن ان میں مشورے کو اختیار کرنا لازمی نہیں ان میں اکثریت یا اقلیت سے قطع نظر درست کو تلاش کیا جائے گا۔