https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، معاون تفویض (42-48)

دفعہ نمبر 47: معاون تفويض کے کی پابندیاں

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 47: جب معاون ِ تفویض کسی معاملے کی تدبیر کرے اور خلیفہ اس کو برقرار رکھے تو معاون کو چاہیے کہ جس طرح خلیفہ نے اس کا م کو بر قرار رکھا تھا اسی طرح اس کو نافذ بھی کرے اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے ، اس کے بعد اگر خلیفہ اس کا دوبارہ جائزہ لے کر اپنی رائے بدلے اور معاون کی مخالفت کرے اور اس نے جو کچھ نافذ کیا تھا اس کو مسترد کرے تو دیکھا جائے گا کہ اگر معاون نے اس کو خلیفہ کے حکم کے عین مطابق نا فذ کیا ہو جیسے کوئی مال تھا جس کو صحیح مصرف پر خرچ کیا ہو تب معاون کی رائے کو نافذ سمجھا جائے گا کیونکہ دراصل یہی خلیفہ کی رائے تھی اورخلیفہ احکامات کو نافذ کرنے کے بعد اس سے رجوع نہیں کر سکتا۔ اگر معاون نے ان امور کے علاوہ کوئی حکم نافذ کیا ہو تو اس کی رائے کو مسترد کر کے اپنی رائے نا فذ کرنا جائز ہے کیونکہ ان معاملات میں خلیفہ کو اپنی رائے تبدیل کرنے کا حق ہے لہٰذا وہ اپنے معاون کے فعل کو بھی تبدیل کر سکتا ہے۔

 

Article 47: If the assistant conducted an issue, and the Khalifah ordered him to do it, then he must implement it as the Khalifah ordered him to do so, without any addition or deletion. If the Khalifah returned to oppose the assistant rejecting what he has already executed, then the matter is examined; if it was a rule that he had implemented properly, or wealth that he placed in  of its right place, then the opinion of the assistant is implemented, since it is in origin the opinion of the Khalifah, and the Khalifah cannot revoke what he himself had implemented of rules and spent of wealth. If what the assistant had executed was in anything else, such as appointing a governor or preparation of an army, then it is permitted for the Khalifah to oppose the assistant, and the opinion of the Khalifah is implemented, and the actions of the assistant are cancelled because the Khalifah has the right to redress his own action so he may redress the actions of the assistant.

This article is a description of how the assistant carries out his work, and how the Khalifah scrutinises the actions of the assistant, and this is taken from what is permitted for the Khalifah to reverse, and what is not permitted for him to reverse from the actions, since the action of the assistant is considered to be the action of the Khalifah. The explanation for this is that the assistant is permitted to rule independently, as is the Khalifah, since the conditions for ruling are considered in him, and it is permitted for him to look into the Madhalim (injustices) and to appoint others to look into them, since the condition for the Madhalim are considered in him, and he is permitted to undertake the Jihad by himself and to empower those who will undertake it, since the conditions of war are considered in him, and he is permitted to undertake the implementation of the issues personally or to appoint someone else to implement them since the conditions of opinion and management of affairs are considered in him. However, this does not mean that it is not correct for the Khalifah to cancel whatever the assistant carries out as long as the report has been raised to him, rather what it means is that he possesses what the Khalifah does in terms of mandatory powers, but this is on behalf of the Khalifah and not independent of him.

Accordingly, it is permitted for the Khalifah to oppose the assistant by rejecting what he has done and cancelling what has been carried out, but within the limits of what it is permitted for the Khalifah to reverse if he had done it himself.  Therefore, if the assistant had implemented a rule in the correct manner, or gave wealth where it was necessitated, and subsequently the Khalifah came and opposed the assistant in this after its implementation, then there is no value in his opposition; rather the action of the assistant is implemented, and the opinion and opposition of the Khalifah is rejected, since in origin it is his opinion, and in issues similar to these situations it is not correct for him to reverse his own opinion or cancel whatever implementation had been completed. Consequently, it is not correct for him to cancel the action of his assistant in these issues. If the assistant had empowered a governor, an administrator, a commander of the Army, or any other appointment, or had laid down the running of economic issues, military plans, plans for industrialisation, or anything similar, then it is permitted for the Khalifah to cancel it. This is because it is considered to be the opinion of the Khalifah, but is from the issues that are permitted for the Khalifah to reverse if he had undertaken them himself, and so it is permitted to cancel the work of his representative in them. Therefore, in this situation, it is permitted to cancel the actions of the assistant.

The rule in this is: Everything that the Khalifah is able to correct from his own actions, is permitted for him to correct from the actions of his assistant, and everything that the Khalifah is not permitted to correct from his own actions, he is not permitted to correct from the actions of his assistant.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 93:…

دفعہ نمبر 93: ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خصومت (جھگڑے یا لڑائی) میںیا اپنے دفاع میںجس کو چاہے اپنا وکیل مقرر کرے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، مرد ہو یا عورت،اس میں وکیل اور موکل کے درمیان کوئی فرق نہیں اوروکیل کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اجرت لے کر وکالت کرے وہ اس اجرت کا حقدار ہے جو اس نے اپنے موکل کے ساتھ باہمی رضامندی سے طے کیا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 127:…

دفعہ نمبر 127: ملکیت کی تین قسمیں ہیں: انفرادی ملکیت ، عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 180…

دفعہ نمبر 180 : تعلیم کے تمام مراحل میں تا لیف سے فائدہ اٹھانے (کاپی رائٹ) کی اجازت نہیںہوگی۔ کوئی بھی شخص جس نے کتاب لکھ کر شائع کی اس کے بعد اس کو کاپی رائٹ کے حقوق حا صل نہیں ہو ںگے خواہ یہ شخص مولف ہو یا کوئی اور ۔ہاں جب تک افکار اس کے ذہن میں ہیں ان کی نشرو اشاعت نہیں ہوئی تو وہ ایسے افکار لوگوں کودے کر اس پر اجرت لے سکتا ہے جیسا کہ پڑھا کر اجرت لی جاتی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 77:…

دفعہ نمبر 77: قاضی تین ہیں:ایک قاضی عام، یہ لوگوں کے درمیان معاملات اور عقوبات میںفیصلے کا ذمہ دار ہو تا ہے،دوسرا محتسب ،یہ ان خلاف ورزیوں کے فیصلوں کو نمٹانے کا ذمہ دار ہو تا ہے جو جماعت کے حق میں ضرر رساں ہو تے ہیں،تیسرا قاضی المظالم ،یہ ریاست اور عوام کے ما بین پیدا ہو نے والے تنازعات کو ختم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 143:…

دفعہ نمبر 143 : مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔ زکوٰۃ ان اموال پر لی جائے گی جن پر زکوٰۃ لینے کو شریعت نے متعین کر دیا ہے جیسا کہ نقد ی،تجارتی مال ، مویشی اور غلہ۔ جن اموال پرزکوۃ لینے کی کوئی شرعی دلیل نہیں ،ان پر زکو ۃ نہیں لی جائے گی۔ زکوٰۃ ہرصاحب نصاب شخص سے لی جائے گی خواہ و ہ مکلف ہو جیسا کہ ایک عاقل بالغ مسلمان یا وہ غیر مکلف ہو جیسا کہ بچہ اور مجنون۔ زکوٰۃ کو بیت المال کی ایک خاص باب (…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ 124:…

دفعہ 124: اقتصادی مسئلہ اموال اور منافع کورعایا کے تمام افراد کے درمیان تقسیم کرنا ہے، اسی طرح اس مال سے نفع اٹھانے یعنی دولت کو اکٹھا کرنے اور اس کیلئے کوشش کرنے کو ان کے لیے آسان بنانا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 177:…

دفعہ نمبر 177: ریاست میں منہج تعلیم (نصاب اور طریقہ تدریس) ایک ہی ہو گا۔ ریاست کے منہج کے علاوہ کسی دوسرے منہج کی اجازت نہیں ہو گی۔ پرائیویٹ اسکول کی اجازت صرف اس صورت میں ہوگی جب تک وہ ریاستی منہج پر کاربندرہے ، تعلیمی پالیسی کی بنیاد(یعنی عقیدہ) پررکھے، تعلیم کے مقصد اور حکمت عملی کو ملحوظ خاطر رکھے اوران میں طلباء اور اساتذہ دونوںکے لحاظ سے مردو زن کا اختلاط نہ ہو اور ان مدارس کا تعلق کسی خاص…