https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، معاون تفویض (42-48)

دفعہ نمبر 45: معاون تفویض کاموں

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 45: معاون تفویض پرلازم ہے کہ وہ اپنی تدبیر اور احکامات کے نفاذ کے بارے میں خلیفہ کو با خبر رکھے تا کہ وہ اپنے اختیارات کی وجہ سے خلیفہ کی طرح نہ بن جائے بلکہ برابر خلیفہ کو اطلاع دیتا رہے اور خلیفہ اس کو جو حکم دے وہ اسی کو نا فذ کرے۔

 

Article 45 :The work of the assistant is to report to the Khalifah after whatever he has executed of the actions of management, and whatever he implemented of government and guardianship, in order that his powers do not become like that of the Khalifah. Therefore, his work is to raise his reports and to implement whatever he is ordered to.

The evidence for this is also the reality of the assistant, since he is the authorised representative of the Khalifah, and the representative only carries out the work as a representative of the one who authorised him. Therefore, he is not independent from the Khalifah, rather he reports every action, totally as Umar (ra) used to do with Abu Bakr (ra) when he was his minister. So he used to inform Abu Bakr (ra) about his opinion and would implement according to what he thought.

The meaning of reporting to the Khalifah is not to seek his permission in every individual part of the various actions, since this contradicts the reality of the assistant; rather the meaning of reporting to him is to confer with him in the issue, such as the need for a particular governorate to have a capable governor empowered, or to eliminate what the people complain about regarding the lack of food in the markets, or other than that from all of the issues of the State, or to present these issues simply as a report which can be looked over, and be informed about what concerns him. Accordingly, these reports are enough in order to carry out everything that is mentioned in them with all of his details without the need for the issuance of permission to act. However, if the order not to implement these reports is issued, then it is not correct for him to implement them. Therefore, these reports are simply the presentation of the issues, or consultation regarding them, and not seeking permission to undertake them and the assistant may implement the reports as long as the Khalifah does not stop him from implementation.

With respect to the last part of the article “and to implement whatever he was ordered to”, this is because the assistant does not take the powers of ruling in himself like the Khalifah, rather he takes them based upon his ministry from the Khalifah, and upon that if the Khalifah orders him to do something, then it is upon him to implement it, and it is not permitted for him not to implement it. Giving the assistant the capability to manage the affairs through his opinion and Ijtihad is in those issues which the Khalifah did not order him, whereas if he was ordered to implement an issue, it is obligatory upon the assistant to implement it in the manner that the Khalifah ordered, and he may not implement it in another way.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 43:…

دفعہ نمبر 43: معاون کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو خلیفہ کے لیے ہیں یعنی وہ مرد ہو ، آ زاد ہو ، مسلمان ہو ، با لغ ہو ، عاقل ہو، عادل ہو ، قادر ہو اور اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 36:…

دفعہ نمبر 36: خلیفہ کے پاس درجہ ذیل اختیارات ہوتے ہیں : ا) خلیفہ ہی ان احکامات کی تبنی کرتا ہے جو لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کے لیے ضروری ہیں اور یہ تبنی کتاب و سُنت سے صحیح اجتہا د کے ذریعے مستنبط کردہ احکامات کی ہو تی ہے تا کہ یہ احکامات قوانین بن جائیں پھر ان پر عمل کرنا فرض ہو جاتا ہے اور ان کی مخالفت جائز نہیں۔ ب) خلیفہ ہی ریا ست کی داخلی اور خارجی پالیسی کے بارے میں جو اب دہ ہے، وہی فوج کا…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 39

دفعہ نمبر 39: خلیفہ کے لیے کوئی محدود مدت نہیں ،جب تک خلیفہ شریعت کی حفاظت اور اس کے احکامات کو نافذ کرتا ہے ، ریا ستی امور کی انجام دہی پر قادر ہے تب تک خلیفہ ہے اور اس وقت تک خلیفہ رہے گا جب تک اس کی حالت میں ایسی کوئی تبدیلی رونما ہو جائے جو اس کو خلافت کے منصب سے خارج کر دے ۔ جیسے ہی اس کی حالت بدل گئی تو فوراً اس کو بر طرف کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 27: …

دفعہ نمبر 27: جن لوگوں کی بیعت سے خلافت کا انعقاد ہوتاہے اگر وہ لوگ بطورِ خلیفہ کسی ایک شخص کی بیعت کرلیں تو باقی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی بیعت، بیعتِ اطاعت ہوگی اور یہ بیعتِ انعقاد نہیں ہوگی۔ چنانچہ جس شخص کے اندر سرکشی کے امکانات نظر آئیں اور وہ مسلمانوں کی وحدت کو توڑنے کی کوشش کرے ،تو اسے بیعت پر مجبور کیا جائے گا
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 127:…

دفعہ نمبر 127: ملکیت کی تین قسمیں ہیں: انفرادی ملکیت ، عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 143:…

دفعہ نمبر 143 : مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی۔ زکوٰۃ ان اموال پر لی جائے گی جن پر زکوٰۃ لینے کو شریعت نے متعین کر دیا ہے جیسا کہ نقد ی،تجارتی مال ، مویشی اور غلہ۔ جن اموال پرزکوۃ لینے کی کوئی شرعی دلیل نہیں ،ان پر زکو ۃ نہیں لی جائے گی۔ زکوٰۃ ہرصاحب نصاب شخص سے لی جائے گی خواہ و ہ مکلف ہو جیسا کہ ایک عاقل بالغ مسلمان یا وہ غیر مکلف ہو جیسا کہ بچہ اور مجنون۔ زکوٰۃ کو بیت المال کی ایک خاص باب (…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 111:…

دفعہ نمبر 111: مجلس امت کے پاس پانچ اختیارات ہیں: .1(ا): خلیفہ کی جانب مجلس امت سے مشورہ لینا اورمجلس امت کی طرف سے خلیفہ کواعمال،داخلی سیاست کے ایسے علمی امور کے بارے میں مشورہ دینا جن کا تعلق معاملات کی دیکھ بھال سے ہو، جو گہری فکری تحقیق اور باریک بینی کے محتاج نہ ہوں جیسے حکمرانی کے معاملات،تعلیم،صحت،اقتصاد ، تجارت ،صنعت،زراعت وغیرہ جن میں مجلس امت کی رائے کی اختیار کرنا خلیفہ پر لازم ہے۔…