https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، معاون تفویض (42-48)

دفعہ نمبر 43: معاون تفويض کی تقرری کی شرائط

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 43: معاون کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو خلیفہ کے لیے ہیں یعنی وہ مرد ہو ، آ زاد ہو ، مسلمان ہو ، با لغ ہو ، عاقل ہو، عادل ہو ، قادر ہو اور اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

 

Article 43: The conditions for the assistant are the same as the conditions for the Khalifah; in other words, to be male, free, Muslim, adult, sane, just; and he is from the people of the capability in whatever actions were delegated to him.

The evidence here is the evidence for the Khalifah, so it is obligatory for him to be a male due to words of the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم

«لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً»

“Never will succeed such a nation that makes a woman their ruler.” (reported by Al-Bukhari from Abu Bakrah).

He must be a Muslim due to His words

((وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا (141)))

And never will Allah give the disbelievers over the believers a way [to overcome them]. (TMQ 4:141); therefore, it is forbidden for a non-Muslim to be a ruler over the Muslims, since ruling is the greatest way over the Muslims.

He is to be free since the slave does not have control over his own issues and so he cannot undertake the control of other peoples’ affairs.

He should be an adult, due to the words of the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم

«أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يُفِيقَ»

“The Messenger of Allah said, “The Pen has been lifted from three (their actions are not recorded) : from the sleeping person until he awakens, from the minor until he grows up, and from the insane person until he comes to his senses.and in a narration

«وَعَنْ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ»

“and from the afflicted person until he recovers” (reported by Ibn Maja and Al-Hakim from ’Aishah, and the wording is from Ibn Maja). Al-Tirmidhi and Ibn Khuzaima reported the same from Ali.

From the raising of the pen is that his actions in his own affairs are not valid, and so it is not valid for him to act in the affairs of others. In addition, the narration of Abu ’Uqayl Zuhra Bin Ma’bad from his father ’Abd Allah b. Hisham who was at the time of the Prophet when his mother Zaynab Bin Humayd took him to the Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم and said: O Messenger of Allah, take Bay’a from him. He  صلى الله عليه وآله وسلم replied

«هُوَ صَغِيرٌ، فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ»

“He is a little child, and he passed his hand over his head and invoked Allah for him.” as reported in Al-Bukhari. So as long as the child is not permitted to give the Bay’a, then by greater reasoning, he cannot accept it.

As for being sane, this is due to the narration just mentioned

«رفع القلم عن ثلاثة ...»

“The pen is lifted from three (their actions are not recorded)” until it was mentioned

« وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يُفِيقَ »

“and from the insane person until he comes to his senses” and in a report

«وَعَنْ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ»

“and from the afflicted person till he recovers”. From the raising of the pen is that his actions in his own affairs are not valid and so it is not valid for him to act in the affairs of others.

He should be just, since Allah (swt) made it a condition for the witnessing, saying

 ((وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ))

And take for witness two persons from among you.(TMQ 65:2), and so it is a condition for the assistant by greater reasoning.

It is a condition for the assistant to be from the people of sufficiency in the actions of ruling since that is necessitated from undertaking ruling, since the one who was not capable would not be able to carry it out. And also due to the evidence mentioned, including: Muslim reported through Abu Dharr:

«قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلاَ تَسْـتَـعْمِلُنِي؟ قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّهَا أَمَانَةُ، وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ، إِلاَّ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا»

“I said: O Messenger of Allah, will you not use me? He placed his hand upon my shoulder and then said O Abu Dharr, you are weak, and it is an Amanah (trust), and on the Day of Judgement, it will be a disgrace and a regret except (for those) who take it by its right and perform its duties correctly.

The Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم considered taking it without its right, in other words, if the person was not suitable for it, would be a disgrace and regret, which is an indication upon the decisiveness of the order.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 38

دفعہ نمبر 38: خلیفہ کو اپنی رائے اور اجتہا د کے مطا بق لو گو ں کے امو ار کی دیکھ بھا ل کا پو را حق حاصل ہے ۔ اس کو ان مبا حا ت میں بھی تبنی کا حق حا صل ہے جو ریا ستی امو ر کو چلا نے اور لوگو ں کی دیکھ بھا ل کیلئے ضر وری ہے ۔ تا ہم مصلحت کو دلیل بنا کر کسی حکم شر عی کی خلاف ورزی اس کے لیے بالکل جا ئز نہیں مثا ل کے طو ر پر غذائی قلت کو دلیل بنا کر وہ کسی ایک خاندان کو بھی کثرت اولا د سے منع نہیں کر…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 115

دفعہ نمبر 115: عورت کو ریاست میں ملازم مقرر کرنا جائز ہے۔ وہ قاضی مظالم کے علاوہ قضاء کے دوسرے مناصب پر فائز ہو سکتی ہے۔ وہ مجلسِ امت کے اراکین کو منتخب کر سکتی ہے ،خود بھی اس کی رکن بن سکتی ہے ، خلیفہ کے انتخابات میں شریک ہو سکتی ہے اور خلیفہ کی بیعت کر سکتی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 99:…

دفعہ نمبر 99: ہر مفاد (public interest) کے لیے عام ڈائریکٹر متعین کیا جائے گا۔ جبکہ ہر آفس اور ادارے کے کے لیے ایک ڈائریکٹر ہو گا جو اس کے انتظام کا نگران ہوگا اور اس کا براہ راست ذمہ دار ہو گا پھر یہ ڈائریکٹرزاپنے کام کے لحاظ سے ان مفادات کے اعلی اداروں کے آفسز یا اداروںکے ڈائریکٹرز کے سامنے جواب دہ ہو ںگے اسی طرح یہ احکام کی پابندی اور عا م نظام کے حوالے سے والی اور عامل کے سامنے بھی جواب دہ…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 120:…

دفعہ نمبر 120: ازدواجی زندگی اطمینان کی زندگی ہو تی ہے،میاں بیوی کا رہن سہن(میل جول) ساتھیوں (دوستوں) کا ہو تا ہے۔ مرد کی بالادستی دیکھ بھا ل کے لحاظ سے ہو تی ہے حکمرانی کے لیے نہیں ۔ عورت پر اطاعت فرض ہے جبکہ مرد پر اس کے لیے رواج(عرف)کے مطابق نفقہ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 187:…

دفعہ نمبر 187: امت کا سیاسی مسئلہ یہ ہے کہ اسلام اس امت کی ریاست کی قوت ہے، اور یہ کہ اسلامی احکامات کابہترین طریقے سے نفاذ کیا جائے اور دنیا کے سامنے اسلامی دعوت کو پیہم طریقے سے پہنچایا جائے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 56:…

دفعہ نمبر 56: ہر ولایہ میں اہل ولایہ کی ایک منتخب اسمبلی ہوگی جس کے سربراہ خود والی ہوں گے اور اس اسمبلی کے پاس صرف انتظامی امور کے حوالے سے رائے دینے کا اختیار ہوگا حکمرانی کے معاملات میںاس کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ یہ اختیار بھی دو مقاصد کے لیے ہوگا۔ پہلامقصد: ولایہ کی زمینی حقائق اور ضروریات کے بارے میں والی کو ضروری معلومات مہیا کرنا اور اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا۔ دوسرا مقصد: والی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 101:…

دفعہ نمبر 101: مدیران کے علاوہ جتنے ملازمین ہیں ان کی تعیناتی ، ان کی منتقلی،ان کو کام سے روکنا، ان کو سزا دینا اور ان کو برطرف کرنا ان ہی کے مفادات (اداروں) ان کے دفاتر اور محکموں کے اعلیٰ ذمہ داران کی جانب سے ہو گا۔