https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، محکمہ حرب (61-69)

دفعہ نمبر 67: تعلیمی، آرمی کی علمی اور ثقافتی سطح

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 67: فوج کے لیے انتہا ئی اعلی سطح کی عسکری تعلیم کا بندوبست کر نا فر ض ہے اور جہاں تک ممکن ہو فوج کو فکر ی لحاظ سے بھی بلند رکھا جا ئے گا۔ فوج کے ہر ہر فرد کو اسلامی ثقا فت سے مزین کیا جائے گا تاکہ وہ اسلام کے با رے میں مکمل بیدار اور باشعور ہو اگرچہ اس کی سطح عام ہی کیوں نہ ہو۔

 

Article 67: It is obligatory to provide the Army with the highest level of military education and raise its intellectual level as far as possible. Every individual in the Army should be given Islamicculture that enables him to have an awareness of Islam, to at least a general level.

This article comes under the generality of the words of the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم

«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

“Seeking knowledge is a duty upon every Muslim” reported by Ibn Maja from Anas Bin Malik, and Al-Zarkashi said in Al-Tadhkirah: Al-Hafiz Jamal Al-Deen Al-Mizzi said: the chains of this report reach the level of Hasan. Al-Sakhawi said that it has a corroborating narration (Shahid) through Ibn Shahin with a chain whose men are all trustworthy. The word “knowledge” encompasses every type, including military, since military expertise has become a necessity for every army, and it is not possible to fight war and engage battles unless it has that expertise. Therefore, it has become obligatory due to the rule

(ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب)

“That, without which the obligation cannot be accomplished, is itself an obligation”.

As for the Islamic culture, it is a personal obligation for each person to learn whatever is required for them to undertake their actions, and anything else is an obligation of sufficiency, due to the words of the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم

«مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»

“When Allah wishes good for someone, He bestows upon him the understanding of Deen (Islam)” (agreed upon narration through Mu’awiyah, and reported by Al-Tirmidhi through Ibn ’Abbas). This applies to the Army that conquers countries to convey the call to Islam, as it does for every Muslim, though it is more important for the Army. Regarding raising its intellectual level, this is a kind of awarenesswhich is necessary to understand the Deen and life’s affairs. Perhaps the saying of the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم

«فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»

“it may be that the recipient of knowledge understands it better than the one who has heard it(agreed upon from the narration of Abu Bakrah and the wording is from Al-Bukhari), is an indication of encouragement to have awareness. Also the Quran says,

((لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ))

For people who reflect(TMQ 10:24), and He (swt) says,

((لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا))

They have hearts (minds) by which they understand.” (TMQ 22:46), which indicates the status of thought.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 80:…

دفعہ نمبر 80: کسی بھی عدالت کا ایک سے زیادہ ایسے قاضیوں پر مشتمل ہو نا جائز نہیں جس کے پاس مسئلوں کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو،ہاں قاضی کے ساتھ ایک یا زیادہ ایسے قاضی ہو سکتے ہیں جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو،ان کے پاس مشورہ اور رائے دینے کا اختیار ہو تا ہے اور ان کی رائے کا وہ پابند بھی نہیں ہو تا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 120:…

دفعہ نمبر 120: ازدواجی زندگی اطمینان کی زندگی ہو تی ہے،میاں بیوی کا رہن سہن(میل جول) ساتھیوں (دوستوں) کا ہو تا ہے۔ مرد کی بالادستی دیکھ بھا ل کے لحاظ سے ہو تی ہے حکمرانی کے لیے نہیں ۔ عورت پر اطاعت فرض ہے جبکہ مرد پر اس کے لیے رواج(عرف)کے مطابق نفقہ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر135:…

دفعہ نمبر135: زمین خواہ خراجی ہو یا عشری ،اسے اجرت لے کر زراعت کے لیے دینا ممنوع ہے (یعنی کرایہ پر دینا) ۔اسی طرح زمین کو مزارعت (یعنی ٹھیکے پر دینا ) بھی ممنوع ہے، تاہم مساقات مطلقاً جائز ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 39

دفعہ نمبر 39: خلیفہ کے لیے کوئی محدود مدت نہیں ،جب تک خلیفہ شریعت کی حفاظت اور اس کے احکامات کو نافذ کرتا ہے ، ریا ستی امور کی انجام دہی پر قادر ہے تب تک خلیفہ ہے اور اس وقت تک خلیفہ رہے گا جب تک اس کی حالت میں ایسی کوئی تبدیلی رونما ہو جائے جو اس کو خلافت کے منصب سے خارج کر دے ۔ جیسے ہی اس کی حالت بدل گئی تو فوراً اس کو بر طرف کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر146:…

دفعہ نمبر146: مسلمانوں سے وہ ٹیکس وصول کیا جائے گا جس کی شرع نے اجازت دی ہے اور جتنا بیت المال کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو۔ شرط یہ ہے کہ یہ ٹیکس اس مال پر وصول کیا جائے گا جو صاحبِ مال کے پاس معروف طریقے سے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد زائد ہواور یہ ٹیکس ریاست کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی بھی ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 167:…

دفعہ نمبر 167: ریاست کی نقدی (کرنسی) سونے اور چاندی کی ہوگی، خواہ اسے کرنسی کی شکل میں ڈھالا گیا ہو یا نہ ڈھالا گیا ہو۔ ریاست کے لیے سونے چاندی کے علاوہ کوئی نقدی جائز نہیں۔ تاہم ریاست کے لئے سونا چاندی کے بدل کے طور پر کوئی اورچیز جاری کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ کہ ریاست کے خزانے میں اتنی مالیت کا سونا چاندی موجود ہو۔ پس ریاست کے لیے پیتل، کانسی یا کاغذی نوٹ وغیرہ اپنے نام کی مہر لگا کرجاری کرنا جائز…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر147:…

دفعہ نمبر147: ہر وہ عمل (کام) جس کی انجام دہی کو شرع نے امت پر فرض قرار دیا ہے اگر بیت المال میں اتنا مال موجود نہ ہو جو اس فرض کام کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو تب یہ فرض امت کی طرف منتقل ہوگا۔ ایسی صورت میں ریاست کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ امت سے ٹیکس وصول کر کے اس ذمہ داری کو پورا کرے۔