https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، محکمہ حرب (61-69)

دفعہ نمبر 66: ساخت اور فارمیشنوں اور فوجی کیمپوں

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 66: فوج کو ایک ہی فوج بنایا جا ئے گا اور اسے خا ص چھا ئو نیوں میں رکھا جا ئے گا،تاہم یہ چھائو نیاں مختلف صوبوں میں ہوں گی اور ان میں سے بعض کو اسٹریٹیجک ( جنگی اہمیت کے حا مل ) علاقوں میں بنایا جا ئے گا ۔ اسی طر ح کچھ فوجی اڈے ہمیشہ متحرک رہیں گے اور یہ بے پنا ہ جنگی قوت کے حا مل ہوں گے ۔ ان فوجی چھائو نیوں یا اڈوں کوکئی ایک مجموعوں کی شکل میں منظم کیاجائے گا اور ہر مجموعے کو جیش (فوج) کہاجائے گاپھر ہر ایک کااپنا نمبر ہوگامثال کے طور پر 1 نمبر یا 2 نمبر یا پھر صوبوں اور عمالہ ( ضلع) کے نا م پر اس کا نام رکھا جا ئے گا۔

 

Article 66: The Army is a unified entity which has specific bases. However, it is necessary that some of these bases are placed in different provinces and others in strategic locations. Some of the bases should be permanently mobile fighting forces. These bases are organised in numerous groups, with each group being given a number as a name, such as the first Army, the third Army, or they can be named after a province or district.

The Islamic Army is a single entity composed from several Armies, and each one is given a number: so it is said: the first Army, the third Army, or they are named according to the province or district, and it is said: the Army of Ash-Sham, the Army of Misr, and the Army of San’a’ for example.

The Islamic Army is placed in specific bases, and in each base there is a group of soldiers, either a single Army, or division, or numerous Armies. However, it is obligatory to place these bases in different provinces, and some of them in military bases, and some of them in permanently mobile bases to be strike forces. Each base is given a specific name, such as Al-Habanya Base, and each has a specific flag.

These arrangements, are either from permitted issues and ,therefore, left to the opinion of the Khalifah and his Ijtihad, such as naming every Army according to its province or district, or to assign a specific number for each of them, or they could be from the issues of

(ما لا يتم الواجب إلا به ...)

Whatever is required to complete an obligation”

if they were necessary to protect the land, such as the arrangements of the Armies on the borders, and placing and putting the bases across various strategic locations to protect the land and so on.

Umar bin Al-Khattab (ra) used to divide the Army bases amongst the provinces, and so soldiers were assigned for Palestine and another for Moosel, and another in the centre of the State, and he used to have an Army with him prepared to fight upon the first indication.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 111:…

دفعہ نمبر 111: مجلس امت کے پاس پانچ اختیارات ہیں: .1(ا): خلیفہ کی جانب مجلس امت سے مشورہ لینا اورمجلس امت کی طرف سے خلیفہ کواعمال،داخلی سیاست کے ایسے علمی امور کے بارے میں مشورہ دینا جن کا تعلق معاملات کی دیکھ بھال سے ہو، جو گہری فکری تحقیق اور باریک بینی کے محتاج نہ ہوں جیسے حکمرانی کے معاملات،تعلیم،صحت،اقتصاد ، تجارت ،صنعت،زراعت وغیرہ جن میں مجلس امت کی رائے کی اختیار کرنا خلیفہ پر لازم ہے۔…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 34:

دفعہ نمبر 34: خلیفہ کے تقرر کا طریقہ بیعت ہے خلیفہ کے تقرر اور اس کو بیعت دینے کے عملی اقدامات کچھ اس طرح ہوںگے: ا۔ محکمۃ المظالم خلافت کے منصب کے خالی ہونے کا اعلان کرے گا۔ ب۔ عبوری امیر اپنی ذمہ داری سنبھالے گا اور فوراََ نامزدگیاں شروع ہونے کا اعلان کرے گا۔ ج۔ شروط انعقاد کو پورا کرنے والے امیدوار وں کی نامزدگیاں قبول کی جا ئیں گی اورمحکمۃ المظالم کے مطابق ان شرائط پر پور نہ ا اترنے والوں کی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 82:…

دفعہ نمبر 82: کیسوں کی اقسام کے اعتبار سے عدالتوں کے متعدد درجات ہو نا جائز ہے،اس لیے بعض قاضیوں کو متعین کیسوں میں ایک حد تک مخصوص کرنا جائز ہے،ان کیسوں کے علاوہ دوسرے کیسوں کو دوسری عدالتوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 116

دفعہ نمبر 116: عورت کا حکمران بننا جائز نہیں۔ اس لیے وہ خلیفہ،معاون،والی اور عامل نہیں بن سکتی اور نہ ہی ایسا کوئی بھی عہدہ لی سکتی ہے جو براہِ راست حکمرانی میںآتا ہے۔ وہ قاضی القضاء ، محکمہ مظالم میں قاضی اور امیر جہاد نہیں بن سکتی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 127:…

دفعہ نمبر 127: ملکیت کی تین قسمیں ہیں: انفرادی ملکیت ، عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 150:…

دفعہ نمبر 150: بیت المال کی دائمی آمدنی اگر ریاست کے اخراجات کے لیے ناکافی ہو تب ریاست مسلمانوں سے ٹیکس وصول کرے گی اور یہ ٹیکس وصولی ان امور کے لیے ہے: ۱۔ فقرائ، مساکین، مسافر اور فریضہ جہاد کی ادائیگی کے لیے بیت المال کے اوپر واجب نفقات کو پورا کرنے کے لیے۔ ب۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے جنہیں پورا کرنا بیت المال پر بطورِ بدل واجب ہے جیسے ملازمت کے اخراجات، فوجیوں کا راشن اور حکام کے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 63:…

دفعہ نمبر 63: فوج دوقسم کی ہوتی ہے :احتیاطی فوج (ریزرو) ، اس میں مسلمانوں میں اسلحہ استعمال کرنے کے قابل تمام لوگ شامل ہیں، دائمی اور مستقل فوج ، ان کو ریاستی بجٹ سے دوسرے ملازمین کی طرح تنخواہیں دی جائیں گی ۔