https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، محکمہ حرب (61-69)

دفعہ نمبر 65: فوج اور فوجی صفوں کے کمانڈر

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 65: خلیفہ ہی فوج کاسپہ سالارِ ا علی ہے وہی فوج کے لیے کمانڈر انچیف کا تقرر کرے گا اور وہی ہر بر یگیڈکے لیے کما نڈر مقر ر کرے گااور ہر بٹا لین کے لیے بھی کمانڈر مقرر کرے گا، فوج کی باقی ترتیب وتنظیم خود فوجی کمانڈر کر یں گے ، کسی شخص کو اسٹا ف کما نڈر مقررکر نے لیے اس کی جنگی مہارت او ر قا بلیت کو دیکھا جا ئے گا اور اس کا تقرر کما نڈر انچیف کر ے گا ۔

 

Article 65:The Khalifah is the Commander of the Army and he appoints the Chief of General Staff, a general for each brigade, and a commander for every division. The remaining ranks in the Army are appointed by the brigadiers and commanders. The appointment of a person in the General Staff is according to his level of military expertise and is carried out by the Chief of General Staff.

The Khalifah is the general leader for all of the Muslims in this world, in order to establish the rules of the Shari’ah and carry the Islam to the rest of the people. The main method to carry Islam to the rest of the world is Jihad, and so it is imperative that he undertakes Jihad, since the contract of the Khalifah is upon him personally, and ,therefore, it is not permitted for anyone else to undertake it. Accordingly, the management of the issue of Jihad is specific to the Khalifah and it is not permitted for anyone else to undertake it. Even though every Muslim undertakes Jihad, the undertaking of Jihad and the management of Jihad are two different things. Jihad is obligatory upon every Muslim, but the management of Jihad is for the Khalifah alone, and not anyone else. The Khalifah can appoint someone to carry out on his behalf what has been obligated upon him as long as he is under his observation and supervision, while it is not permitted to give him complete independence without his monitoring and supervision. The monitoring that the Khalifah undertakes here is not like the type of reporting that the assistant gives him; rather the one who he has delegated remains directly under his orders and direct supervision. The leadership of the Army can be given to whomever he pleases with the condition that they are under the control of the Khalifah and his direct supervision. It is not permitted for him to appoint someone without retaining direct supervision and control over him, which must not be simply symbolic. This is because the contract of the Khilafah is upon him personally and so it is obligatory for him to manage the affairs of Jihad. Accordingly, what is said in other non-Islamic systems that the Head of State is the Commander and Chief of the Army, and this leadership is symbolic while another independent commander is appointed to the Head of the Army, is considered invalid according to the Islamic viewpoint, and is something that the Shari’ah does not agree to. Rather, the Shari’ah obligates that the Khalifah should be the practical Commander of the Army.

As for non-leadership positions in the technical, administrative or other matters, the Khalifah may appoint others to act independently on his behalf in the same manner as the governors, and it is not necessary for them to be under his direct control or for him to supervise them. Additionally, the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم used to personally undertake the practical leadership of the Army and the leadership during the battles, and would appoint commanders over sections of the Army that would go out for battle expeditions without him. He  صلى الله عليه وآله وسلم used to appoint a commander for each expedition, and sometimes would take the precaution of appointing someone else to succeed them if they were killed, as happened with the battle of Mu’tah. Al-Bukhari reported from ’Abd Allah b. Umar (ra) who said:

«أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ»

“The Messenger of Allah appointed Zaid Bin Haritha a leader in Mu’tah expedition. He  صلى الله عليه وآله وسلم said: if Zaid is killed, then Ja’far Bin Abi Talib takes the flag, and if Ja’far is killed, then ’Abdullah Bin Rawahah takes it”. Therefore, the Khalifah is the one who appoints the commander of the Army, appoints the brigadiers and gives them the banners and appoints the leaders of the divisions. The Army which was sent to Al-Sham like the Army of Mu’tah and the Army of Usamah was a single brigade, with the evidence being that the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم had tied the banner for Usamah. The expeditions that fought in theArabian Peninsula and returned back to Madinah, such as the expedition of Sa’d Bin Waqqas which he  صلى الله عليه وآله وسلم sent towards Makkah, were all in the form of divisions. This indicates that the brigadiers and the commanders of the divisions are appointed by the Khalifah. It is not confirmed that the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم appointed anyone other than leaders of the Armies and the commanders of the expeditions, which indicates that their appointment in the battlefield was left to their leaders.

With regards to the Chief of Staff who is responsible for the technical matters, he is similar to the Commander of the Army in terms of being appointed by the Head of State and he can be made independent and carry out his duties without being directly supervised by the Khalifah, although he has to be under his command.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 107:…

دفعہ نمبر 107: ریاست کے ہر اس شہری کو جو بالغ اور عاقل ہو ، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم، مجلس امت اور مجلس ولایہ کا رکن بننے کاحق حاصل ہے،مگرغیر مسلم کی رکنیت حکمرانوں کے ظلم یااسلام کو برے طریقے سے نافذ کر نے کی شکایت کے اظہار تک محدودہو گی۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 91:…

دفعہ نمبر 91: محکمہ مظالم کو کسی بھی قسم کے مظالم کو دیکھنے کا اختیار حاصل ہے خواہ اس کا تعلق ریاستی اداروں کے افراد سے ہویاریاست کے سربراہ کی جانب سے احکام شرعیہ کی خلاف ورزی سے ہو یا پھر ریاست کے سربراہ کی جانب سے تبنی کے ضمن میں دستور ،قانون اور سارے احکام شرعیہ کی تشریع کے اندر نصوص میں سے کسی نص کے معنی سے متعلق ہویا کسی قسم کے ٹیکس وغیرہ لگا نے کے حوالے سے ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 29:

دفعہ نمبر 29: وہ ملک یا خطہ جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت انعقاد کرے، کے لیے شرط ہے کہ اس ملک کا اقتدار اس کا اپنا ہو، جس کا انحصار صرف مسلمانوں پر ہو اور کسی کافر ریاست کا اقتدار میں کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس ملک کی داخلی وخارجی امان اور مسلمانوں کی امن و سلامتی اسلام کی وجہ سے ہو نہ کہ کفار کے بل بوتے پر۔ جو علاقے صرف خلیفہ کی اطاعت کی بیعت کریں ان کے لیے یہ شرط لازم نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 153:…

دفعہ نمبر 153: ریاست اپنے ہر شہری کے لیے روزگار کی ضمانت دے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 186:…

دفعہ نمبر 186: افراد ، امتوں اور ریاستوں کے معاملات کی دیکھ بھال کے حوالے سے اسلامی افکار کی عظمت کو نمایاں کرنا،خارجہ سیاست کا اعلیٰ طریقہ ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 33:

دفعہ نمبر 33: (نئے خلیفہ کے تقرر کے سلسلے میں) ایک عبوری (وقتی ) امیر مقرر کیا جائے گا جو مسلمانوں کے امور کی دیکھ بھال کرے اورمنصب خلافت کے خالی ہونے کے بعدنئے خلیفہ کے تقرر کے عمل کا آغاز کرے، جو یہ ہو گا: ا) سابق خلیفہ جب یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے یا وہ سبکدوش ہونے کا ارادہ کرے تو اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ایک عبوری امیر مقرر کرے۔ ب) اگر عبوری امیر کے تقرر سے قبل خلیفہ کا انتقال ہو…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر135:…

دفعہ نمبر135: زمین خواہ خراجی ہو یا عشری ،اسے اجرت لے کر زراعت کے لیے دینا ممنوع ہے (یعنی کرایہ پر دینا) ۔اسی طرح زمین کو مزارعت (یعنی ٹھیکے پر دینا ) بھی ممنوع ہے، تاہم مساقات مطلقاً جائز ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 54:…

دفعہ نمبر 54: والی کوخلیفہ کے نائب ہونے کی وجہ سے اپنے ولایہ میںحکمرانی اور ولایہ کے محکموں کی نگرانی کااختیا ر حاصل ہے ۔اس کواپنے ولایہ میں محکمہ مالیات ،قضاء ( عدلیہ) اور فوج کوچھوڑکر باقی تمام محکموں کے بارے میں تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔ وہ اہل ولایہ کاامیر ہے اور ولایہ سے متعلق تمام امور کا نگران ہے تاہم پولیس بحیثیت ادارہ اس کے ماتحت نہیں ہوگی لیکن احکامات کی تنفیذ کے لیے اس کے ماتحت ہے ۔