https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، محکمہ حرب (61-69)

دفعہ نمبر 62: جہاد

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 62: جہاد مسلمانوں پر فرض ہے اور فوجی تربیت لازمی ہے، ہر مسلمان مرد جس وقت اس کی عمر پندرہ سال ہو جائے جہاد کی تیا ری کے لیے فوجی تربیت حاصل کرنا اس پر فرض ہو جائے گا، فوج میں با قاعدہ بھرتی ہونا فرض ِکفایہ ہے۔

 

Article 62: Jihad is obligatory upon the Muslims and military training is compulsory. Every male Muslim who has reached the age of 15 is obligated to undertake military training in order to prepare him for Jihad. Recruitment is an obligation of sufficiency.

The evidence for the article is from the Book and the Sunnah; Allah (swt) says

((وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ))

Fight them until there is no [more] fitnah and [until] worship is [acknowledged to be] for Allah.(TMQ 2:193), and He (swt) said

((فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ))

Fight the leaders of disbelief.(TMQ 9:12),and it is narrated from Anas that the Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم said

«جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ»

“Fight the polytheists ( idol worshippers) with your wealth, hands and tongues” (reported by Ahmad and Al- Nasa’i with the wording from Al-Nasa’i, and both Al- Nasa’i and Al-Hakim authenticated it and Al-Dhahabi confirmed it). And Mu’adh b. Jabal said that the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم said

«ذُرْوَةُ سَنَامِ الإِسْلاَمِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

“The peak of Islam is Jihad in the cause of Allah” (reported by Ahmad).

When modern warfare requires military training in order to undertake what is required by the Shari’ah in terms of defeating the enemy and liberating lands, then this training would be obligatory in the same manner that Jihad is, in accordance with the Shari’ah principle

(ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب)

“That, without which the obligation cannot be accomplished, is itself an obligation”.

This is because the order to fight encompasses training, since it is a general order

((وَقَاتِلُوهُمْ}

“and fight them”, which is an order to fight as well as an order to do whatever makes you capable of fighting. Above and beyond that, Allah (swt) said

((وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ))

And prepare against them whatever you are able of power.(TMQ 8:60), and training and expert military experience is preparation of power, since they are required in order to become capable of fighting. Accordingly, training is part of the power that must be prepared in the same way as military equipment, supplies and so on.

As for recruitment, in other words, to make people soldiers in the Army under military preparedness on a permanent basis, which means the creation of Mujahidin who practically undertake the Jihad and its requirements, then this is an obligation since undertaking the Jihad is a constant obligation which continues irrespective of whether the enemy attacks us or not. Accordingly, recruitment is an obligation of sufficiency.

As for Jihad being an obligation upon the Muslims and not upon the rest of the subjects of the State – this is because the type of Jihad which has been made obligatory in the verses regarding Jihad is the fighting against the disbelievers, and this does not come from the disbelievers, and so ,therefore, according to this meaning the Jihad cannot be obligatory upon the non-Muslims. However, it is permitted for the non-Muslim subjects of the State to fight the enemy alongside the Muslims, since Quzman who was an idol-worshipper went out and fought the idol-worshippers alongside the companions of the Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم on the day of Uhud and the Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم did not forbid him doing so.

With respect to it being an obligation upon the men and not women – this is due to what is reported from Ahmad and Ibn Maja through 'Aisha (ra) who said: O Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم , do women have to do Jihad? He  صلى الله عليه وآله وسلم said

«نَعَمْ عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لاَ قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ»

“Yes, they have to take part in Jihad in which no fighting takes place: Hajj and ’Umra”.

And as for limiting it to those fifteen and above, this is due to the narration reported by Al-Bukhari from Nafi’ who said

«حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ رضي الله عنهمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي، ثُمَّ عَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي»

“Ibn Umar told me that the Messenger of Allah called him to present himself in front of the Prophet  on the Day of Uhud, and he was fourteen at the time, and the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم did not allow him to take part in that battle, and then on the Day of Al-Khandaq when he was fifteen, he gave him permission to take part”. Nafi’ said I met Umar b. ’Abd Al-Aziz when he was the Khalifah and mentioned this narration to him, so he said: This is the limit between the young and adult, and he wrote to his workers to make it obligatory upon anyone who reached the age of fifteen. In other words, he ordered to prepare provisions for them in the army office.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 34:

دفعہ نمبر 34: خلیفہ کے تقرر کا طریقہ بیعت ہے خلیفہ کے تقرر اور اس کو بیعت دینے کے عملی اقدامات کچھ اس طرح ہوںگے: ا۔ محکمۃ المظالم خلافت کے منصب کے خالی ہونے کا اعلان کرے گا۔ ب۔ عبوری امیر اپنی ذمہ داری سنبھالے گا اور فوراََ نامزدگیاں شروع ہونے کا اعلان کرے گا۔ ج۔ شروط انعقاد کو پورا کرنے والے امیدوار وں کی نامزدگیاں قبول کی جا ئیں گی اورمحکمۃ المظالم کے مطابق ان شرائط پر پور نہ ا اترنے والوں کی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 67:…

دفعہ نمبر 67: فوج کے لیے انتہا ئی اعلی سطح کی عسکری تعلیم کا بندوبست کر نا فر ض ہے اور جہاں تک ممکن ہو فوج کو فکر ی لحاظ سے بھی بلند رکھا جا ئے گا۔ فوج کے ہر ہر فرد کو اسلامی ثقا فت سے مزین کیا جائے گا تاکہ وہ اسلام کے با رے میں مکمل بیدار اور باشعور ہو اگرچہ اس کی سطح عام ہی کیوں نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 97:…

دفعہ نمبر 97: مفادات (Public Interests)کی نگرانی اور محکموںکے انتظام کی پالیسی نظام میں سادگی،اعمال کو انجام دینے میں جلدی اورمحکموں کے لیے قابل ذمہ داران کے تقررکی بنیاد پر ہو گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 48:…

دفعہ نمبر 48: معاون تفویض کو کسی خاص انتظامی ادارے یا محکمے کے ساتھ خاص نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی نگرانی عام ہوگی۔ کیونکہ جو لوگ براہ راست انتظامی امور چلاتے ہیں وہ ملازم ہوتے ہیں حکمران نہیںجبکہ معاون تفویض حکمران ہے۔ اسی طرح اس کو کوئی خصوص کام یا ذمہ داری نہیں دی جائے گی کیونکہ اس کا منصب نیابت عمومی کا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 75:…

دفعہ نمبر 75: عدلیہ کسی معاملے پر فیصلہ صادر کرتی ہے تاکہ اسے نافذ کیا جائے ۔یہی ادارہ لوگو ں کے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے یا جماعت کو پہنچنے والے نقصان سے منع کرتا ہے یا لوگوں اور حکمرانوں کے درمیا ن پیدا ہونے والے تنازعات کو ختم کرتا ہے خواہ یہ حکمران کوئی بھی ہو ، خلیفہ ہو ، اداروں کے ملازمین ہوں یا خلیفہ کے ماتحت کوئی حکمران ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 95:…

دفعہ نمبر 95: وہ معاہدے ،معاملات اور فیصلے جو پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہوںاور خلافت کے قیام سے قبل ان کا نفاذ ہوچکا ہو تو خلافت کی قضائ(عدالت)ان کو کلعدم نہیں کرے گی اور نہ ہی نئے سرے سے ان کو دوبارہ کھولے گی سوائے اس کے کہ ان میں مندرجہ ذیل تین با تیں ہو: ا ) ان کا اسلام کے خلاف کوئی دائمی اورمسلسل اثر ہو تب ان کو نئے سرے سے کھولنا واجب ہے۔ ب) یا ان کا تعلق اسلام یا مسلمانوں کی ایذا رسانی سے ہو جن…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 79:…

دفعہ نمبر 79: قاضی ،محتسب اور قاضی مظالم کو تمام علاقوں میں تمام مسائل کے فیصلے کرنے کی عمومی ذمہ داری سونپ دینا بھی جائز ہے اور کسی مخصوص علاقے میں کچھ مخصوص قسم کے مسائل کے فیصلے کرنے کی خصوصی ذمہ داری سونپنا بھی جائز ہے۔