https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، انتظامی مشینری (96-101), بیت المال (102), میڈیا (103-104)

دفعہ نمبر 104: میڈیا کے لئے لائسنس

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 104: نشرو اشاعت کے ایسے ادارے (میڈیا) کے لیے لائسنس (این او سی) کی کوئی ضرورت نہیں، جس کا مالک ریاست کا شہری ہو، بلکہ صرف متعلقہ ریاستی ادارے کے آفس کو خبر کرنا اور اس کے علم میں لانا کافی ہے کہ کس قسم میڈیا بنایا جارہا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کے مالکان اورلکھنے والے (صحافی) اپنے ہر رپورٹ اور مواد کے بارے میںذمہ دار ہوںگے، کسی قسم کے خلاف شرع مواد پر ان کا محاسبہ ہوگاجیسا کہ ریاست کے کسی بھی شہری کا ہوتاہے۔

 

Article 104: The media owned by any citizen of the State does not require a permit; rather they are simply required to inform the media office, such that the office knows about the media means that are being established. The owner and the editors of any media means are responsible for every article they publish and are accounted for anything which contradicts the Shari’ah in the same manner as any other citizen.

 Sources of media do not require any permission for work. Rather, every citizen in the Islamic State is allowed to set up a source of media, whether written, audio or visual. He must only inform the media institution about the media outlet he wishes to establish.

He also needs permission for publishing the news connected with the State, as mentioned above. With regards to the other news, he can publish it without prior permission.

In all cases, the owner of the media outlet is responsible for the information he publishes, and he will be accounted for any violation of the Shari’ah like any other citizen.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 191:…

دفعہ نمبر 191: ریاست کے لیے ان تنظیموں (آرگنائزیشنز) میں شمولیت جائز نہیں جن کی بنیاد اسلام نہیں یا وہ غیر اسلامی احکامات کو نافذ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی ادارے جیسا کہ اقوامِ متحدہ، عالمی عدالت انصاف، عالمی مالیاتی فنڈ (ای۔ ایم۔ایف) عالمی بنک (ورڈبینک) یا علاقائی تنظیمیں جیسے عرب لیگ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 144:…

دفعہ نمبر 144: ذمیوں سے جزیہ لیا جائے گا اور یہ ان کے بالغ مردوں سے ان کی استطاعت کے مطابق لیا جائے گا۔ عورتوں اور بچوں پر جزیہ عائد نہیں ہو گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر136:…

دفعہ نمبر136: ہر زمیندار کو زمین سے فائدہ اٹھانے ( کاشت کرنے) پر مجبور کیا جائے گا۔ زمین سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہوتو بیت المال سے ہر ممکن طریقے سے اس کی مدد کی جائے گی۔ہر وہ شخص جو زمین سے تین سال تک کوئی فائدہ اٹھائے بغیر اسے بیکار چھوڑ رکھے تو زمین اس سے لے کر کسی اور کو دے دی جائے گی۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 190:…

دفعہ نمبر 190: عسکری معاہدات عسکری نوعیت کے دوسرے معاہدات یا عسکری معاملات سے ملتے جلتے معاہدات جیسا کہ سیاسی معاہدات اور فوجی اڈے یا ہوائی اڈے کرایہ پر دینے کے معاہدات بالکل ممنوع ہیں۔ تاہم ہمسائیگی ، اقتصادی ، تجارتی، مالیاتی ، ثقافتی اور عارضی جنگ بندی کے معاہدات جائز ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 79:…

دفعہ نمبر 79: قاضی ،محتسب اور قاضی مظالم کو تمام علاقوں میں تمام مسائل کے فیصلے کرنے کی عمومی ذمہ داری سونپ دینا بھی جائز ہے اور کسی مخصوص علاقے میں کچھ مخصوص قسم کے مسائل کے فیصلے کرنے کی خصوصی ذمہ داری سونپنا بھی جائز ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 35:

دفعہ نمبر 35: امت ہی خلیفہ کا تقرر کرتی ہے ۔لیکن جس وقت شرعی طریقے سے خلیفہ کو بیعت انعقاد دے دی جائے اس کے بعد امت کو اُس خلیفہ کو معزول کرنے کا اختیار نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 183:…

دفعہ نمبر 183: مقصد کا نیک ہونا(اس مقصد کے حصول کے) ذریعے کو جائز نہیں بناتا، کیونکہ طریقہ بھی فکر کی جنس سے ہے اس وجہ سے حرام ذریعہ اختیار کر کے واجب (فرض) کو ادا نہیں کیا جائے گااورنہ ہی مباح کام کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ سیاست کے ذرائع کاسیاست کے طریقے سے متناقض ہوناجائز نہیں۔