https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خلافت ریاست کے دستور، انتظامی مشینری (96-101), بیت المال (102), میڈیا (103-104)

دفعہ نمبر 98: انتظامی مشینری میں روزگار

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 98: ہر وہ شخص جو ریاست کا شہری ہو اور باصلاحیت ہو، کو کسی بھی مفاد،محکمہ یا ڈپارٹمنٹ کاملازم یا اس کامدیر (ڈائریکٹر) مقرر کیا جا سکتا ہے،خواہ وہ مرد ہو یا عورت،مسلمان ہو یا غیر مسلم۔

 

Article 98: Anyone who carries citizenship, and is competent, whether male or female, Muslim or non-Muslim, can be appointed as a manager for an administration, a department, or a division, and to be a civil servant in it.

This has been taken from the rules regarding employment, since it is permitted to employ any employee, irrespective of being Muslim or non-Muslim, due to the generality of the evidences of employment; Allah (swt) said

((فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآَتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ))

And if they breastfeed for you, then give them their payment.(TMQ 65:6)which is general, and it is reported in Al-Bukhari from Abu Hurayrah that the Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم said

«قَالَ اللَّهُ: ثَلاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... وَرَجُلٌ اسْـتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْـتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ»

“Allah said: I am against three on the Day of Judgement…and a man who employed a worker and gets the full work out of him, but does not pay him his wage.” which is general and not specific to the wage of Muslims. The Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم employed a man from Bani Al-Dayl who was upon the religion of his people, which indicates the permissibility of employing a non-Muslim in the same way as a Muslim. And in the same manner it is permitted to employ a woman in the same way that it is permitted to employ a man due to the generality of the evidences as well. Accordingly, it is permitted for a woman to be the manager of a department in a state department, and to be a civil servant in them, and it is permitted for a non-Muslim to be a manager of a department from the state departments as well as to be a civil servant, since they are employees, and the evidences for employment are general.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 182:…

دفعہ نمبر 182: کسی فرد، حزب گروہ یا جماعت کے لئے جائز نہیں کہ اس کے کسی بھی اجنبی ریاست سے کسی بھی قسم کے تعلقات ہوں۔ریاستوںکے ساتھ تعلقات صرف اور صرف ریاست کا کام ہے۔ کیو نکہ صرف ریاست کوہی عملی طور پر امت کے معاملات کی دیکھ بھال کا حق حاصل ہے۔ امت اور پارٹیوں( جماعتوں) کا کام ان خارجہ تعلقات کے حوالے سے ریاست کا محاسبہ کرنا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 26:…

دفعہ نمبر 26: ہر مسلمان با لغ عا قل مرد ہویا عورت کو ریا ست کا سربراہ منتخب کرنے اوراس کی بیعت کرنے کا حق حا صل ہے، غیر مسلم ذمی کو یہ حق حا صل نہیں ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 24:…

دفعہ نمبر 24: خلیفہ ہی اختیار اور شریعت کے نفاذ میں امت کا نمائندہ ہوتا ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 75:…

دفعہ نمبر 75: عدلیہ کسی معاملے پر فیصلہ صادر کرتی ہے تاکہ اسے نافذ کیا جائے ۔یہی ادارہ لوگو ں کے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے یا جماعت کو پہنچنے والے نقصان سے منع کرتا ہے یا لوگوں اور حکمرانوں کے درمیا ن پیدا ہونے والے تنازعات کو ختم کرتا ہے خواہ یہ حکمران کوئی بھی ہو ، خلیفہ ہو ، اداروں کے ملازمین ہوں یا خلیفہ کے ماتحت کوئی حکمران ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 4:…

دفعہ نمبر 4: خلیفہ عبا دات میں سے سوائے زکوٰ ۃ ، جہا د اور اس چیز کے جو مسلمانوں کی وحدت کی حفاظت کے لیے ضروری ہو کسی اور عبا دت میں کسی خا ص شرعی حکم کی تبنی نہیں کرے گا ۔ اور اسلامی عقیدے سے متعلقہ افکا ر میں سے بھی کس خا ص فکر کی تبنی نہیں کر ے گا ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 129:…

دفعہ نمبر 129: عوامی ملکیت سے مراد عوام کو مشترکہ طور پر کسی عین سے فائدہ اٹھانے کی شرع کی طرف سے اجازت ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 35:

دفعہ نمبر 35: امت ہی خلیفہ کا تقرر کرتی ہے ۔لیکن جس وقت شرعی طریقے سے خلیفہ کو بیعت انعقاد دے دی جائے اس کے بعد امت کو اُس خلیفہ کو معزول کرنے کا اختیار نہیں۔