https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

تعلیمی پالیسی (170-180)

دفعہ نمبر 179 : تعلیم اور علم کے لئے استعمال کی اشیاء اور اسباب

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 179 : اسکولوں اور یونیورسٹی کے علاوہ بھی ریاست لائبریریاں لیبارٹریاں اور علم حاصل کرنے کے تمام وسائل مہیا کرے گی۔ تا کہ ایسے لوگوں کو مواقع حاصل ہوں جو لوگ مختلف علوم و معارف جیسے فقہ ، اصول فقہہ ،حدیث، تفسیر یا دوسرے افکارجیسے میڈیکل ، انجینئرنگ، کمسٹری، وغیرہ میں بحث و تحقیق کرنا چا ہیں اور تجربات ، ایجادات اور انکشافات کرسکیں ۔ تا کہ امت کے اندر مجتہدین اور موجدین کی ایک بڑی تعداد ہو۔

 

 

Article 179: The State ought to provide the means of developing knowledge, such as libraries and laboratories, in addition to schools and universities, to enable those who want to continue their research in the various fields of knowledge, like jurisprudence, narrations and Tafsir, and thought, medicine, engineering and chemistry, and such as inventions and discoveries and so on. This is done to create an abundance of Mujtahidun, outstanding scientists and inventors.

 

The evidence for the article are the words of the Prophet (saw) SL-16pt:

«الإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

The Imam (ruler) is a guardian and he is responsible for his subjects” (reported by Al-Bukhari from Abdullah Bin Umar), and the principle: “That, without which the obligation cannot be accomplished, is itself an obligation. Libraries, laboratories and the rest of the means of developing knowledge are part of the affairs of the Ummah which the Imam must govern, and if he falls short he is accounted over it. If the Ijtihad in jurisprudence and the creation of inventions which are necessary for the sake of military preparations, are not possible without these means of developing knowledge, then to provide these means becomes an obligation upon the Khalifah in accordance with the principle: “That, without which the obligation cannot be accomplished, is itself an obligation. If they help to achieve these goals, and simplify the issue of Ijtihad and invention, then they are part of the governing of the affairs which achieve benefits; in which case they would not be obligatory, and so if the State had the finances it would establish them and otherwise not. Due to all of this, the provision of libraries, laboratories and the remaining means to develop knowledge fall under what the Imam must provide, or in other words, what falls upon the State to provide.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 3:…

دفعہ نمبر 3: خلیفہ کچھ معین شرعی احکامات کی تبنی کر کے ان کو دستور اور قوانین قرار دے گا ، خلیفہ نے جب کسی حکمِ شر عی کی تبنی کر دی اور اس کو قا نون بنا دیا تب صرف یہی (تبنی شدہ ) حکم وا جب العمل شرعی حکم ہو گا ، اوریہ ایک نا فذ شدہ قا نون بن جا ئے گا ۔ رعا یا کے ہر فرد پر اس حکم پر عمل کرنا ظا ہراً اور باطنا ً فرض ہو گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 49:…

دفعہ نمبر 49: خلیفہ معاون تنفیذ مقرر کرے گا اور اس کا کام انتظامی ہوگا حکومتی نہیں۔ اس کا محکمہ خلیفہ کی جانب سے داخلی اور خارجی امور سے متعلق صادر ہونے والے احکامات کو نافذ کرنے کا ادارہ ہوتا ہے اور داخلی و خارجی پہلوؤں سے اٹھنے والے معاہدات کو خلیفہ تک پہنچاتاہے گو یا وہ خلیفہ اور دوسروں کے درمیان واسطہ ہوتاہے، خلیفہ کے احکامات لوگوں تک پہنچاتا ہے اور لوگوں کے مسائل خلیفہ تک پہنچاتا ہے۔ وہ…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 176:…

دفعہ نمبر 176: فنون اور صنعت ایک لحاظ سے سائنس ہیں جیسے تجارتی فنون، فن جہاز رانی یا فنون زراعت۔ اس قسم (سائنسی نوعیت )کے فنون کو بغیر کسی قید و شرط کے اختیار کیا جائے گا۔ دوسرے پہلو سے یہ فنون جب زندگی کے بارے میں نقطہ نظر سے متاثر ہوتے ہیں تو ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں جیسے تصویر سازی اور آرٹس (پینٹنگ)۔اس صورت میں اگر یہ اسلام کے نقطہ نظر سے مخالفت رکھتے ہوں تو ان علوم کو ہرگز حاصل نہیں کیا جائے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 4:…

دفعہ نمبر 4: خلیفہ عبا دات میں سے سوائے زکوٰ ۃ ، جہا د اور اس چیز کے جو مسلمانوں کی وحدت کی حفاظت کے لیے ضروری ہو کسی اور عبا دت میں کسی خا ص شرعی حکم کی تبنی نہیں کرے گا ۔ اور اسلامی عقیدے سے متعلقہ افکا ر میں سے بھی کس خا ص فکر کی تبنی نہیں کر ے گا ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 42:…

دفعہ نمبر 42: خلیفہ اپنے لیے ایک یا ایک سے زیادہ معاون تفویض مقرر کرے گا جو حکمرانی کی ذمہ داری اٹھائیں گے ۔ خلیفہ اس کو اپنی رائے اور اجتہادکے مطابق امور کی تدبیر کا اختیار دے گا ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 87:…

دفعہ نمبر 87: قاضی مظالم و ہ قاضی ہے جس کوریاست کی جانب سے ہر اس شخص کے ساتھ ہو نے والے ظلم یازیادتی کا ازلہ کر نے کے لیے مقررکیا جا تا ہے،جوریا ست کے زیر سایہ رہتا ہو چاہے وہ شخص ریاست کا شہری ہو یا نہ ہواورخواہ یہ ظلم خلیفہ کی جانب سے ہویااس کے کسی ماتحت حکمران یا ملازم کی طرف سے ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 83:…

دفعہ نمبر 83: اپیل کورٹس اور خصوصی عدالت کا کوئی وجود نہیں،کیس کے فیصلے کا ایک ہی قطعی درجہ ہے،قاضی جس وقت فیصلہ سنادے تو اس کا فیصلہ اسی وقت نافذ ہو تا ہے،کسی اور قاضی کا فیصلہ کسی بھی حالت میں اس کے فیصلے کو کالعدم نہیں کر سکتا سوائے اس صورت کے کہ اس نے غیر اسلامی فیصلہ دیا ہو،یا اس نے کتاب،سنت یا اجماع صحابہ کی کسی قطعی نص کی خلاف ورزی کی ہو ،یا یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے حقائق کے بر خلاف فیصلہ…