https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

تعلیمی پالیسی (170-180)

دفعہ نمبر 174: آخباخت علوم اور ثقافتی علوم

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 174: تعلیم میں تجرباتی علوم یا ان سے ملحقہ علوم جیسے ریاضی اور ثقافتی علوم کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا لازمی ہے۔ تجرباتی اور اس سے ملحقہ علوم حسب ضرورت پڑھائے جائیں گے۔ تعلیمی مراحل میں سے کسی بھی مرحلے میں ان کو لازمی قرار نہیں دیا جائے گا ۔ جبکہ ثقافتی علوم کو ابتدائی مرحلے میں رکھا جائے گا، یعنی اعلیٰ تعلیم سے پہلے اور اس میں ایک خاصل حکمت عملی کی پیروی کی جائے گی جو اسلامی افکار و احکام کے مخالف نہ ہو۔ اعلیٰ مرحلے میں ان معارف و علوم کو اس شرط کے ساتھ پڑھایا جائے گا کہ کسی بھی طرح تعلیمی پالیسی اور اس کے مقصد سے دوری نہ ہو۔

 

Article 174: A distinction should be drawn between the empirical sciences such as mathematics on the one hand and the cultural sciences on the other. The empirical sciences and all that is related to them are taught according to the need and are not restricted to any stage of education. As for the cultural sciences, they are taught at the primary and secondary levels according to a specific policy which does not contradict Islamic thoughts and rules. In higher education, these cultural sciences are studied like other sciences provided they do not lead to a departure from the education policy and its goal.

Its evidence is the generality of the evidences which permit learning knowledge, since they encompass all knowledge, and so it is permitted for the Muslim to learn all knowledge. However, learning some knowledge leads to deviation of the beliefs, or weakness in the ‘Aqeedah and so these types of knowledge are forbidden from being taught as long as they result in that, and if they lost that effect then it would be permitted to learn it, applying the principle: “If one type of a permitted thing leads to a harm, only that one is prohibited, and the thing remains permitted”.

Accordingly, the general evidences which permit learning and the Shari’ah principle are the proof for this article.

Since learning what causes a deviation and weakness in the beliefs easily influences children, it is, therefore, prohibited to teach anything of these types of knowledge in the primary and secondary stages of education. As for higher education, then knowledge such as philosophy and anything similar are taught, in order to refute them and show their falsehood, and nothing from these subjects is taught without also teaching its refutation and invalidity alongside it. The noble Quran mentions the ideas and beliefs of others, but they are mentioned in order to explain their invalidity and to reject them. And in the same way, when the educational programme is drafted, these types of subjects are drafted in higher education in order to refute them and explain their falseness.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 179…

دفعہ نمبر 179 : اسکولوں اور یونیورسٹی کے علاوہ بھی ریاست لائبریریاں لیبارٹریاں اور علم حاصل کرنے کے تمام وسائل مہیا کرے گی۔ تا کہ ایسے لوگوں کو مواقع حاصل ہوں جو لوگ مختلف علوم و معارف جیسے فقہ ، اصول فقہہ ،حدیث، تفسیر یا دوسرے افکارجیسے میڈیکل ، انجینئرنگ، کمسٹری، وغیرہ میں بحث و تحقیق کرنا چا ہیں اور تجربات ، ایجادات اور انکشافات کرسکیں ۔ تا کہ امت کے اندر مجتہدین اور موجدین کی ایک بڑی تعداد ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 85:…

دفعہ نمبر 85: محتسب کسی بھی خلاف ورزی کے بارے میں معلوم ہو نے پر فوراً کسی بھی جگہ فیصلہ دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے لیے عدالتی نشست کی ضرورت نہیں۔اپنے حکامات کو نافذ کرنے کے لیے وہ پولیس بھی ساتھ رکھے گا ۔اس کا فیصلہ فورا نافذ العمل ہو تا ہے۔ـ
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 22:…

دفعہ نمبر 22: نظا مِ حکومت مندرجہ ذیل چا ر بنیا دوں پر قا ئم ہو تا ہے : ا۔ با لا دستی (حا کمیت اعلیٰ Sovereignity-) شرع کو حاصل ہے عوام کو نہیں ۔ ب ۔ اقتدار امت کا ہے ۔ ج۔ ایک ہی خلیفہ کا تقرر مسلما نو ں پر فرض ہے ۔ د۔ صر ف خلیفہ کو ہی احکا م شرعیہ کی تبنی کا حق حا صل ہے اور وہی دستور اور قوانین مرتب کر سکتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 157:…

دفعہ نمبر 157: ریاست ایسی تدابیراختیار کرے گی جس سے مال رعایا کے درمیان گردش کرتا رہے اور صرف خاص طبقے کے درمیا ن نہ رہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 39

دفعہ نمبر 39: خلیفہ کے لیے کوئی محدود مدت نہیں ،جب تک خلیفہ شریعت کی حفاظت اور اس کے احکامات کو نافذ کرتا ہے ، ریا ستی امور کی انجام دہی پر قادر ہے تب تک خلیفہ ہے اور اس وقت تک خلیفہ رہے گا جب تک اس کی حالت میں ایسی کوئی تبدیلی رونما ہو جائے جو اس کو خلافت کے منصب سے خارج کر دے ۔ جیسے ہی اس کی حالت بدل گئی تو فوراً اس کو بر طرف کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 88:…

دفعہ نمبر 88: قاضی مظالم کی تقرری خلیفہ یا قاضی القضاء کی طرف سے ہوتی ہے، تاہم اس کا محاسبہ، اس کو تنبیہ یا اس کی بر طرفی خلیفہ کی طرف سے ہوتی ہے یا پھر قاضی القضاء کی جانب سے بشرطیکہ خلیفہ کی طرف سے اس کو اس کا اختیار دیا گیا ہو۔مگر اس کی برطرفی اس حالت میںدرست نہیں ہو تی جس وقت وہ خلیفہ یا معاون تفویض یا پھرمذکورہ قاضی القضاء کی طرف سے کیے گیے کسی زیادتی کے با رے میں چھان بین کر رہا ہو،اس حالت…