https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

تعلیمی پالیسی (170-180)

دفعہ نمبر 171: تعلیمی پالیسی

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 171: تعلیمی پالیسی کا مقصد اسلامی عقلیہ اور اسلامی نفسیہ کی تعمیر ہے، اسی حکمت عملی کی بنیاد پر تمام تدریسی مواد وضع کیا جائے گا۔

دفعہ نمبر 172: تعلیم کا مقصد اسلامی شخصیت پیدا کرنا اور لوگوں کو زندگی کے معاملات سے متعلق علوم و معارف سے لیس کرنا ہے۔چنانچہ طریقہ تعلیم کو اس طرح بنایا جائے گا کہ جس سے یہ مقصد حاصل ہو اور ہر وہ طریقہ ممنوع ہو گا جو اس مقصد سے ہٹاتا ہو۔

 

 

Article 171:The education policy is to form the Islamic mentality and disposition. Therefore, all subjects in the curriculum must be chosen on this basis.

Article 172: The goal of education is to produce the Islamic personality and to increase peoples’ knowledge connected with life’s affairs. Teaching methods are established to achieve this goal; any method that leads to other than this goal is prevented.

The reality of these two articles is that the meaning of the educational policy is the principle, or principles, upon which information is given. As for the goal of the education, this is the objective which the provision of that information is aiming for. So the education policy is the basis which is built upon and the goal of education is the intention which is intended by establishing it.

Therefore, the education policy is connected to the subjects taught, and the goal of the education is connected to the methods of teaching. And the reality of man is that he comprehends things and actions, and so makes a judgement about them, and comprehends things and actions and so inclines towards them, and there is nothing which is outside of these two issues. The reality of information is that it is either information which develops the mentality in order to judge upon actions and things, and information about those actual actions and things in order to utilise them, and there is nothing which is outside of these two issues. Islam made the Islamic ‘Aqeedah the basis for the Muslim’s life, and the basis for his thoughts, and in the same manner the basis for his inclinations. The verses of the Quran, and the narrations of the Prophet SL-16pt which provoke thought, such as His (swt) words:

((وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ))

And give thought to the creation of the heavens and the earth.” (TMQ 3:191), and the words of the Messenger SL-16pt :

«تَفَكُّرْ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سَنَةٍ»

Contemplation for an hour is better than a year of worship” (reported by Al-Qurtubi in his Tafsir), are only because they provoke him to believe in Allah (swt). The verses and narrations which mention inclinations, such as His (swt) words:

((قُلْ إِنْ كَانَ آَبَاؤُكُمْ)) [التوبة 24] إلى قوله: ((أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ))

Say, [O Muhammad], "If your fathers"until His (swt) words: “Are dearer to you than Allah, or His Messenger.” (TMQ 9:24), and the Messenger’s SL-16pt words:

«لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»

None of you is a believer till I am dearer to him than his father, his child, and the whole of mankind.(agreed upon from the narration of Anas), are only mentioned as inclinations restricted by the Islamic ‘Aqeedah. Therefore, it is imperative that the judgement of a Muslim upon actions and things is built upon the basis of the Islamic ‘Aqeedah, and in the same manner it is imperative that his inclinations towards actions and things are built upon the ‘Aqeedah.

When it is the information which forms his mentality, from the angle of the judgement upon things, and forms his disposition from the angle of the inclinations towards things, accordingly it is imperative that all of this information is built upon the Islamic ‘Aqeedah, irrespective of whether it is information to develop the mentality, or information which is adopted in order to utilise actions and things. In other words, it is imperative that the information which forms the mentality of the Muslim be built upon the Islamic ‘Aqeedah, and in the same manner it is imperative that the information which forms his disposition is built upon the ‘Aqeedah. And upon this basis, it is imperative that the education policy forms the Islamic mentality and disposition. The education policy has been deduced from the reality of information from its aspect of being information, and from the collection of verses connected to thought and inclinations, and linking them to the reality of information, and Article 171 was drafted upon this basis.

Article 172 has been taken from the action of the Messenger SL-16pt in his SL-16pt teaching of the Muslims, irrespective of whether that was in Makkah before the emigration, or in Madinah afterwards, since he SL-16pt intended from teaching them that each one of them becomes an Islamic personality in his mentality and disposition - in other words, in their judgement upon actions and things and their inclinations towards them. So on top of teaching them the rules which treated their life’s issues, he SL-16pt used to teach them the noble values, such as how to seek the Pleasure of Allah (swt), such as honour and such as how to carry the responsibility of spreading the guidance to mankind, and guiding them to Islam, with an influential method, and productive styles. Allah (swt) said:

((ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ))

Invite to the way of your Lord with wisdom and good instruction, and argue with them in a way that is best.” (TMQ 16:125), and he SL-16pt used to make them memorise the Quran, and teach them the rules of Islam and enjoin them to follow the orders and avoid the prohibitions, and alongside that he SL-16pt would permit them to learn what they required for their livelihood, from trade and agriculture and industry. And so these actions of the Messenger SL-16pt were what formed the Islamic personality, and these are the evidences for this article.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 2:…

دفعہ نمبر 2: دارالاسلام وہ ملک ہے جہاں اسلا می احکامات نافذ ہوں اور اُس کی امان اسلام کی امان کی وجہ سے ہو ۔ دار الکفر وہ ہے جہاں کفریہ قوانین نافذ ہوں یا اس کی امان اسلام کی امان کے بغیر ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 57:…

دفعہ نمبر 57: ایک ولایہ پر ایک ہی شخص کا طویل مدت تک والی رہنا مناسب نہیں ۔خاص طور پرکسی ایک ولایہ میں وہ مرکزی شخصیت بن جائے یا اس کی وجہ سے لوگوں کے فتنے میں پڑنے کا خطرہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 127:…

دفعہ نمبر 127: ملکیت کی تین قسمیں ہیں: انفرادی ملکیت ، عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 32:

دفعہ نمبر 32: خلافت کا منصب خلیفہ کی موت، سبکدوشی یا اس کو معزول کیے جانے سے خالی ہو جائے تو تین دن (بشمول انکی راتوں کے) کے اندر اندردوسرا خلیفہ مقرر کرنا فرض ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 102:…

دفعہ نمبر 102: بیت المال وہ محکمہ ہے جو احکام شرعیہ کے مطابق آمدن اور اخراجات کو اکٹھا کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور خرچ کرنے کی نگرانی کرتا ہے۔ بیت المال کے محکمے کے سربراہ کو ’بیت المال کا خازن‘ کہا جا تاہے۔ پھر ہر صوبے میںاس محکمے کے ذیلی دفاتر (ادارے) ہو تے ہیں اور ان میں سے ہر ادارے کے سربراہ کو’صاحبِ بیت المال‘ کہا جاتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 13:…

دفعہ نمبر 13: بر ی الذمہ ہونا اصل ہے ،عدالتی حکم کے بغیر کسی شخص کو سزا نہیں دی جا سکتی ، کسی بھی شخص پر کسی بھی قسم کا تشدد جا ئز نہیں ، جو اس کا ارتکا ب کر ے گا اس کو سزادی جا ئے گی۔