https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

معاشرتی نظام ( 112-122 )

دفعہ نمبر 119: اخلاقیات کو برقرار رکھنے

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 119: مرد اور عورت دونوں کو ایسے کسی بھی کام سے روکا جائے گاجواخلاقی لحاظ سے تباہ کن ہویا معاشرے میں فساد کا باعث ہو۔

 

Article 119: It is prohibited for any man or woman to undertake any work which could undermine the morals, or causes corruption in the society.

The evidence for this article is what was narrated from Rafi’ b. Rifa’ah who said

«وَنَهَانَا عَنْ كَسْبِ الأَمَةِ إِلاَّ مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا وَقَالَ هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخَـبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّـفْشِ»

“The Prophet صلى الله عليه وآله وسلم  forbade us from benefiting from the slave woman except that which she did with her hands, and said ‘in this manner’ with his fingers, such as bread-making, sewing, and inscribing” reported by Ahmad and authenticated by Al-Zayn, as well as Al-Hakim who also authenticate it; in other words, he صلى الله عليه وآله وسلم prohibited the woman from any work which took advantage of her femininity, while allowing any other type of work. This is understood from the part of the narration which mentions “except that which she did with her hands”, in other words, intended to benefit from her efforts, and its understanding is the prohibition of taking advantage of her femininity. Also, the Shari’ah principle The means to something forbidden is also forbidden prohibits any work that could lead to anything forbidden. And the Shari’ah principle If one type of a permitted thing leads to harm, only that one is prohibited, and the thing remains permitted prohibits every person, male or female, from working in a job originally permitted for men and women, if the work for that person specifically would lead to a Haram for him, or the Ummah, or the society, whatever type of Haram that may be.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 28:

دفعہ نمبر 28: صرف وہی شخص خلیفہ بن سکتا ہے جسے مسلما ن منتخب کریں ۔ کسی بھی شخص کو خلیفہ کے اختیارات اس وقت حاصل ہوں گے جب دوسرے شرعی عقود کی طرح اس کی بیعت کا عقد شرعی طور پر مکمل ہو جائے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 60: …

دفعہ نمبر 60: خلیفہ کا فرض ہے کہ وہ والیوں کے اعمال پر نظر رکھے اور ان کی کڑی نگرانی کرے۔ وہ ان پر نظر رکھنے کے لیے نائب بھی مقرر کر سکتا جو ان کے حالات سے خلیفہ کو باخبر رکھے اور ان کے بارے میںتفتیش کرتا رہے۔ کبھی کبھار ان سب والیوں کا اجتماعی یا پھر الگ الگ جلاس بلاتا رہے اور ان کے بارے میں رعایا کی شکایتوں سے ان کو باخبر کرتا رہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 63:…

دفعہ نمبر 63: فوج دوقسم کی ہوتی ہے :احتیاطی فوج (ریزرو) ، اس میں مسلمانوں میں اسلحہ استعمال کرنے کے قابل تمام لوگ شامل ہیں، دائمی اور مستقل فوج ، ان کو ریاستی بجٹ سے دوسرے ملازمین کی طرح تنخواہیں دی جائیں گی ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 190:…

دفعہ نمبر 190: عسکری معاہدات عسکری نوعیت کے دوسرے معاہدات یا عسکری معاملات سے ملتے جلتے معاہدات جیسا کہ سیاسی معاہدات اور فوجی اڈے یا ہوائی اڈے کرایہ پر دینے کے معاہدات بالکل ممنوع ہیں۔ تاہم ہمسائیگی ، اقتصادی ، تجارتی، مالیاتی ، ثقافتی اور عارضی جنگ بندی کے معاہدات جائز ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 99:…

دفعہ نمبر 99: ہر مفاد (public interest) کے لیے عام ڈائریکٹر متعین کیا جائے گا۔ جبکہ ہر آفس اور ادارے کے کے لیے ایک ڈائریکٹر ہو گا جو اس کے انتظام کا نگران ہوگا اور اس کا براہ راست ذمہ دار ہو گا پھر یہ ڈائریکٹرزاپنے کام کے لحاظ سے ان مفادات کے اعلی اداروں کے آفسز یا اداروںکے ڈائریکٹرز کے سامنے جواب دہ ہو ںگے اسی طرح یہ احکام کی پابندی اور عا م نظام کے حوالے سے والی اور عامل کے سامنے بھی جواب دہ…