https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خارجہ پالیسی (181-191)

دفعہ نمبر 186: اسلامی افکار کی عظمت

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 186: افراد ، امتوں اور ریاستوں کے معاملات کی دیکھ بھال کے حوالے سے اسلامی افکار کی عظمت کو نمایاں کرنا،خارجہ سیاست کا اعلیٰ طریقہ ہے ۔

 

Article 186: One of the most important political methods is the manifestation of the greatness of the Islamic thoughts in governing the affairs of individuals, nations and states.

 

This article is part of what the Islamic State must undertake since it is obligatory and not simply permissible. That is because it is the duty of the State to carry the call to Islam in a manner which attracts attention, because Allah (swt) said:

((وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (54)))

And there is not upon the Messenger except [the duty of] clear notification.(TMQ 24:54), and the word Mubeen is a description indicative of relation to the Hukm (Wasf Mufhim), and consequently it is a restriction for the conveyance. Conveying the call to Islam in a manner which attracts attention cannot be achieved except through the manifestation of the greatness of the Islamic thoughts. Amongst the great Islamic thoughts are the way that the Islamic State deals with the Dhimmi, the one given amnesty, and the one who has a covenant, and the fact that the ruler is an implementer of the Shari’ah and not a dictator over them, and the fact that the Ummah accounts the ruler with complete discipline. So in the same manner that it is obligatory upon the Ummah to account the ruler, it is obligatory to obey him even if oppressed, and it is forbidden for it to obey him in a sin, and it has the full right to revolt against him, and it is obligatory to revolt if he showed clear disbelief. And the ruler and the ruled are equal in all affairs, and the Ummah can complain against him as they would against any other individual regarding any right in front of any judge, and they can complain about him to the judge of Madhalim if he contradicts the Shari’ah while ruling. And there are other Islamic thoughts of such nature, so accordingly it is obligatory to manifest them and accentuate their greatness until the greatness of Islam is displayed and until the call to Islam is conveyed in a manner which attracts attention. The manifestation of these thoughts is not from the political style rather they are from the political methods.

In addition to that, the Shari’ah rule is that practically fighting the disbelievers is not permitted until after the call to Islam has been conveyed to them: Al-Tabarani reported in Al-Kabir from Farwah b. Mosaik who said:

«أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ  صلى الله عليه وآله وسلم ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُ بِمَنْ أَقْبَلَ مِنْ قَوْمِي مَنْ أَدْبَرَ مِنْهُمْ؟ قَالَ:«"نَعَمْ", فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلامِ فَإِنْ أَبَوْا فَقَاتِلْهُمْ»

I said O Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم ; Shall I fight with those (of my people) who accepted Islam the others who refused it? He said Yes. After I turned around he called me and said: Do not fight them until you have called them to Islam”. And Al-Tirmidhi reported something similar. And from Ibn ‘Abbas:

«مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللهِ  صلى الله عليه وآله وسلم قَوْماً حَتَّى دَعَاهُمْ»

The Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم did not fight any people until he called them” (reported by Al-Darimi, Ahmad and Al-Hakim). This is evidence for the obligation of the call to Islam before fighting. And for the call to Islam to be complete, it is imperative that the conveyance of the call to Islam to them be done in a way that attracts attention. From this, the issue of presenting the greatness of the Islamic thoughts is an obligation, because the conveyance in a manner which attracts attention is achieved through it. Therefore, it is from the rules regarding the method, and not from the styles.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 70:…

دفعہ نمبر 70: داخلی امن کا محکمہ ہی امن وامان کے انتظاما ت کا ذمہ دار ہوتاہے اور ہر قسم کے داخلی خطرات سے نمٹتاہے اور پولیس کے ذریعے ریا ست کے امن وامان کو برقرار رکھتاہے۔ یہ محکمہ فوج سے مداخلت کی درخواست صرف خلیفہ کے حکم کے بعد ہی کرسکتاہے۔ اس محکمے کا سر براہ ڈائریکٹر برائے داخلی امن وسلامتی کہلاتا ہے۔ ہر صوبے میں اس محکمے کی شاخیں ہوتی ہیں جوکہ داخلی امن کے ادارے ہوتے ہیں اور ہر صوبے کے ادارے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 185:…

دفعہ نمبر 185: ریاستوں کے جرائم کو بے نقاب کرنے میںجرأ ت و بہادری کا مظاہرہ کرنا ، جھوٹی پالیسیوں کے خطرے کو بیان کرنا ،خبیث سازشوں کو طشت ازبام کرنا،گمراہ کن شخصیات کو زمیں بوس کرنا؛یہ سب سیاست کے اہم اسالیب میں سے ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 111:…

دفعہ نمبر 111: مجلس امت کے پاس پانچ اختیارات ہیں: .1(ا): خلیفہ کی جانب مجلس امت سے مشورہ لینا اورمجلس امت کی طرف سے خلیفہ کواعمال،داخلی سیاست کے ایسے علمی امور کے بارے میں مشورہ دینا جن کا تعلق معاملات کی دیکھ بھال سے ہو، جو گہری فکری تحقیق اور باریک بینی کے محتاج نہ ہوں جیسے حکمرانی کے معاملات،تعلیم،صحت،اقتصاد ، تجارت ،صنعت،زراعت وغیرہ جن میں مجلس امت کی رائے کی اختیار کرنا خلیفہ پر لازم ہے۔…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 4:…

دفعہ نمبر 4: خلیفہ عبا دات میں سے سوائے زکوٰ ۃ ، جہا د اور اس چیز کے جو مسلمانوں کی وحدت کی حفاظت کے لیے ضروری ہو کسی اور عبا دت میں کسی خا ص شرعی حکم کی تبنی نہیں کرے گا ۔ اور اسلامی عقیدے سے متعلقہ افکا ر میں سے بھی کس خا ص فکر کی تبنی نہیں کر ے گا ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 167:…

دفعہ نمبر 167: ریاست کی نقدی (کرنسی) سونے اور چاندی کی ہوگی، خواہ اسے کرنسی کی شکل میں ڈھالا گیا ہو یا نہ ڈھالا گیا ہو۔ ریاست کے لیے سونے چاندی کے علاوہ کوئی نقدی جائز نہیں۔ تاہم ریاست کے لئے سونا چاندی کے بدل کے طور پر کوئی اورچیز جاری کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ کہ ریاست کے خزانے میں اتنی مالیت کا سونا چاندی موجود ہو۔ پس ریاست کے لیے پیتل، کانسی یا کاغذی نوٹ وغیرہ اپنے نام کی مہر لگا کرجاری کرنا جائز…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 48:…

دفعہ نمبر 48: معاون تفویض کو کسی خاص انتظامی ادارے یا محکمے کے ساتھ خاص نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی نگرانی عام ہوگی۔ کیونکہ جو لوگ براہ راست انتظامی امور چلاتے ہیں وہ ملازم ہوتے ہیں حکمران نہیںجبکہ معاون تفویض حکمران ہے۔ اسی طرح اس کو کوئی خصوص کام یا ذمہ داری نہیں دی جائے گی کیونکہ اس کا منصب نیابت عمومی کا ہے۔