https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

خارجہ پالیسی (181-191)

دفعہ نمبر 183: سیاسی سرگرمیوں کے قواعد

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 183: مقصد کا نیک ہونا(اس مقصد کے حصول کے) ذریعے کو جائز نہیں بناتا، کیونکہ طریقہ بھی فکر کی جنس سے ہے اس وجہ سے حرام ذریعہ اختیار کر کے واجب (فرض) کو ادا نہیں کیا جائے گااورنہ ہی مباح کام کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ سیاست کے ذرائع کاسیاست کے طریقے سے متناقض ہوناجائز نہیں۔

 

 

Article 183: Ends do not justify means, because the method is integral to the thought. Thus, the obligation and the permitted cannot be attained by performing a forbidden action. Political means must not contradict the political methods.

 

Allah (swt) set rules in order to treat the problems of man, such as trade, renting, partnerships and so on, and set other rules in order to implement these treatments between the people, such as the discretionary (Ta’zir) punishment for the one who cheats in trade and cutting the hand of the thief as a prescribed punishment (Hadd). And in the same manner, He (swt) set rules to treat the problems that occur between the Islamic State and the disbelieving states, such as the rules regarding the one who is covered by a treaty and the one who takes amnesty, and the rules regarding the Dar Al-Harb and the rules regarding conveying the call to Islam to them in a way that attracts attention, and so on. And He (swt) set other rules in order to implement these rules, such as the protection of the blood and property of someone who has amnesty being equivalent to the blood and property of the Muslim, and the prohibition of fighting the disbeliever before they have been called to Islam in a manner which attracts attention, and so on. Therefore, the method in Islam is the Shari’ah rules, and so victory is not achieved through betrayal and conquest is not achieved through breaking a treaty. So in the same way that the goal must be defined by the Shari’ah, what is used to reach that goal must be from what the Shari’ah permitted, since the goal and the means are both part of the actions of the worshipper, and what makes the action permitted or forbidden is the Shari’ah evidence, and not the results which are produced by it, nor the goal which is sought by it since Allah (swt) says:

((وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ))

And judge, [O Muhammad], between them by what Allah has revealed.(TMQ 5:49), not by what results the actions produce, or these actions are used to reach, and so the rule regarding the means is the Shari’ah evidence just like the rule regarding the goal. In other words, the fact that the Shari’ah evidence is what establishes the permissibility or impermissibility of the goal is evidence that the goal does not justify the means, in other words, does not make it permitted if there is Shari’ah evidence which has forbidden it. Accordingly the means are not permitted because its intended goal was permitted, or obligatory, or recommended, or because its goal had benefit or good or a victory; rather the means would be permitted if the Shari’ah permitted it and would be forbidden if the Shari’ah forbade it. In other words, it must be in accordance with the rules of the Shari’ah, because every action of the Muslim must be directed by the Shari’ah, and agree with the Shari’ah rule, because the definition of the Shari’ah rule is the address of the Legislator (swt) connected to the actions of the worshippers, and so it is obligatory that all the actions of the Muslim are in accordance with the Shari’ahh rule.

Based upon this, the Muslims reject and disapprove of the principle that the ends justify the means. It is correct that Islam has principles deduced from its evidences that give the means used to reach the goal the rule of the goal, such as the principle: “The means to something forbidden is also forbidden, and such as the principle: “If one type of a permitted thing leads to a harm, only that one is prohibited, and the thing remains permitted”, and the principle: “That, without which the obligation cannot be accomplished, is itself an obligation, however this is if the means is permitted or obligatory. If, on the other hand, the means are forbidden, then the goal does not make it permitted, whether it was obligatory or permitted; rather the means would remain forbidden. From this understanding, the goal does not justify the means, or in other words, the obligatory or permitted goal does not make the forbidden means permitted. The article was drafted in accordance with this.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 111:…

دفعہ نمبر 111: مجلس امت کے پاس پانچ اختیارات ہیں: .1(ا): خلیفہ کی جانب مجلس امت سے مشورہ لینا اورمجلس امت کی طرف سے خلیفہ کواعمال،داخلی سیاست کے ایسے علمی امور کے بارے میں مشورہ دینا جن کا تعلق معاملات کی دیکھ بھال سے ہو، جو گہری فکری تحقیق اور باریک بینی کے محتاج نہ ہوں جیسے حکمرانی کے معاملات،تعلیم،صحت،اقتصاد ، تجارت ،صنعت،زراعت وغیرہ جن میں مجلس امت کی رائے کی اختیار کرنا خلیفہ پر لازم ہے۔…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 96:…

دفعہ نمبر 96: ریا ستی امور(معاملات) کو چلانے اور لوگوں کے مفادات کی نگرانی کے لیے ڈپارٹمنٹس (محکمے) اور ادارے ہو تے ہیں جو ریاست کی ترقی اور لو گوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 30:

دفعہ نمبر 30: خلیفہ کے طور پر جس شخص کی بیعت کی جارہی ہو اس کے اندرا نعقاد خلافت کی تمام شرائط کا ہونا لازمی ہے اگر چہ اس کے اندر افضلیت کے شرائط نہ ہوں کیونکہ اعتبار شروط انعقاد کا ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 154:…

دفعہ نمبر 154: حقوق اور فرائض کے لحاظ سے افراد اور کمپنیوں کے ملازمین ریاستی ملازمین کی طرح ہیں۔ ہر وہ شخص ملازم ہے جو اجرت پر کام کرتا ہے خواہ کام یا کام کرنے والا کوئی بھی ہو۔ جب آجر (ملازم) اور مستاجر (کام کروانے والا) کے درمیان اجرت پر اختلاف ہو جائے تو اجرت مثل کے مطابق فیصلہ کیا جائیگا۔ اجر ت کے علاوہ اگر کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تواس کا فیصلہ احکام شرعیہ کے مطابق ملازمت کے معاہدے کو…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 132:…

دفعہ نمبر 132: ملکیت میں تصرف شارع کی اجازت سے مشروط ہے، خواہ یہ تصرف خرچ کرنے سے متعلق ہو یا ملکیت کی نشوونما کے حوالے سے ہو۔ چنانچہ اسراف، نمودو نمائش ، کنجوسی، سرمایہ دار کمپنیاں، کو آپریٹو سو سائٹیز اور تمام خلاف ِ شرع معاملات ممنوع ہیں۔ اسی طرح سود، غبن فاحش(ٹھگی)،ذخیرہ اندوزی ، جوا اور اس جیسی دیگر چیزیں سبھی ممنوع ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 61:…

دفعہ نمبر 61: محکمہ حرب، ملٹری فورسز یعنی فوج اور پولیس سے متعلق تمام امور کا ذمہ دار ہے جس میں معاہدات ، مہمات اور فوجی سازوسامان وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ملٹری کالجز فوجی معرکے اور فوج کے لئے ضروری اسلامی ثقافت ، عسکری تربیت اور جنگی تیاری سے متعلق ہر چیز کا ذمہ دار بھی، یہی محکمہ حرب ہے اور اس محکمے کے سربراہ کو امیر جہاد کہا جاتا ہے ۔