https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 168: تبادلہ اور کرنسی کی تجارت

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی بھی داخلی یا خارجی کرنسی جب چاہے خرید سکتا ہے۔ پھر اس کرنسی کے ذریعے بغیر کسی اجازت کے خرید و فروخت کر سکتا ہے۔

 

 

Article 168: It is permissible to have exchange between the State currency and the currency of other states like the exchange between the State’s own coinages. It is permissible for the exchange rate between two currencies to differ provided the currencies are different from each other. However, such transactions must be undertaken in a hand-to-hand manner and constitute a direct transaction with no delay involved. The exchange rate can fluctuate without any restriction as long as it is between two different currencies. All citizens can buy whatever currency they require from within or outside the State, and they can purchase the required currency without obtaining prior permission or the like.

Its evidence are the words of the Prophet  صلى الله عليه وآله وسلم :

«وَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ»

and sell gold for silver and silver for gold as you please” (reported by Al-Bukhari from Abu Bakra), and it is reported from Malik b. Aws Al-Hadathan that he said: “I came saying who was prepared to exchange Dirhams (for my gold), whereupon Talha b. Ubaidullah (as he was sitting with 'Umar b. Khattib) said: Show us your gold and then come to us (at a later time). When our servant would come we would give you your silver. Thereupon 'Umar b. Al-Khattib (ra) said: Not at all. By Allah, either give him his silver, or return his gold to him, for Allah's Messenger  صلى الله عليه وآله وسلم said:

«الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ»

Exchange of silver for gold is interest (usury) except when (it is exchanged) on the spot (hand to hand).(reported by Muslim).

It is reported that Al-Bara’ b. ‘Azib and Zayd Bin Arqam used to be partners, and so they bought silver for money and a deferred payment, and when the Messenger of Allah  صلى الله عليه وآله وسلم heard about this he  صلى الله عليه وآله وسلم ordered them with the words:

«أَنَّ مَا كَانَ بِنَقْدٍ فَأَجِيزُوهُ، وَمَا كَانَ بِنَسِيئَةٍ فَرُدُّوهُ»

Whatever is paid by money is permitted, and whatever is a deferred payment must be returned (rejected).” reported by Ahmad from Abu Al-Minhal, and Al-Bukhari reported from Sulaiman Bin Abi Muslim who said: “I asked Abu Al-Minhal about money exchange from hand to hand. He said: “I and a partner of mine bought something partly in cash and partly on credit.” Al-Bara’ b. ‘Azib passed by us and we asked about it. He replied: “I and my partner Zayd Bin Al-Arqam did the same and then went to the Prophet and asked him about it. He said:

«أَنَّ مَا كَانَ بِنَقْدٍ فَأَجِيزُوهُ، وَمَا كَانَ ِنَسِيئَةً فَرُدُّوهُ»

“Whatever is paid by money is permitted, and whatever is a deferred payment must be returned (rejected). ””; in other words, they were currency traders. These narrations are evidence for the permissibility of currency exchange, and this can take place in domestic transactions as well as foreign transactions, so just as the gold of a currency can be exchanged for its silver and vice versa, in the same way foreign money can be exchanged for local money, irrespective of whether that was done domestically or outside the country, and when two different currencies are exchanged there is a difference between them called the exchange rate. The exchange rate is the proportion between the weight of pure gold in the currency of a state and the weight of pure gold in the currency of another state. For this reason, the exchange rate will change according to the change in this proportion and according to the change of price of gold in the countries.

The rules of exchange between silver and gold apply to contemporary paper money because the Illah (money and value) are present in it due to law of the State binding monetary transactions with it. That is because the narrations regarding exchange are reported to do with minted gold and silver as names of a genus, which has no understanding derived from it nor is any analogy made to it, and in the same manner the reports came to do with Dinar and Dirham coinage, and from this the Illah of money can be derived, in other words, its use for prices and wages, and so analogy can be made from that. So in the narration of Malik b. Aws mentioned previously he used to exchange Dirhams, and Dirhams is a word which is understood as money. And so accordingly whatever is applied to the exchange between gold and silver in terms of what is permitted and prohibited is applied to exchange between fiat currency according to the contemporary laws of states, in other words, the exchange between one genus must be exchanged on the spot and in equal amounts, and exchange between two different types must be done on the spot, but the price between the two can be as you please.

The Shari’ah rule regarding exchange rate is that it is permitted, and is not restricted by anything, since currency exchange is permitted, and so accordingly the price of exchange (exchange rate) is permitted. Hence, anyone can buy a currency which he wants according to the price which he desires, and all of that falls under the permissibility of exchange.

This is the proof of this article for the permissibility of currency exchange, and the permissibility for its price to fluctuate.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 107:…

دفعہ نمبر 107: ریاست کے ہر اس شہری کو جو بالغ اور عاقل ہو ، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم، مجلس امت اور مجلس ولایہ کا رکن بننے کاحق حاصل ہے،مگرغیر مسلم کی رکنیت حکمرانوں کے ظلم یااسلام کو برے طریقے سے نافذ کر نے کی شکایت کے اظہار تک محدودہو گی۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ 124:…

دفعہ 124: اقتصادی مسئلہ اموال اور منافع کورعایا کے تمام افراد کے درمیان تقسیم کرنا ہے، اسی طرح اس مال سے نفع اٹھانے یعنی دولت کو اکٹھا کرنے اور اس کیلئے کوشش کرنے کو ان کے لیے آسان بنانا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 132:…

دفعہ نمبر 132: ملکیت میں تصرف شارع کی اجازت سے مشروط ہے، خواہ یہ تصرف خرچ کرنے سے متعلق ہو یا ملکیت کی نشوونما کے حوالے سے ہو۔ چنانچہ اسراف، نمودو نمائش ، کنجوسی، سرمایہ دار کمپنیاں، کو آپریٹو سو سائٹیز اور تمام خلاف ِ شرع معاملات ممنوع ہیں۔ اسی طرح سود، غبن فاحش(ٹھگی)،ذخیرہ اندوزی ، جوا اور اس جیسی دیگر چیزیں سبھی ممنوع ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 23:…

دفعہ نمبر 23: ریا ست خلافت کے تیر ہ ادارے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ خلیفہ (ریاست کا سربراہ) معاونین (وزراء تغویض) وزراء تنقید والی (گورنرز) امیر جہاد اندرونی سلامی (داخلی سیکورٹی) خارجہ (خارجہ امور) صنعت قضاء (عدلیہ) مفادعامہ(انتظامی ادارہ) بیت المال میڈیا مجلسِ امت (شوریٰ اور محاسبہ)
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 16:…

دفعہ نمبر 16: نظامِ حکومت وحدت کا نظام ہے اتحاد کا نہیں ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

ادفعہ نمبر…

دفعہ نمبر 122: چھو ٹے بچوں کی کفالت عورت پر واجب اور اس کا حق ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم بشرطیکہ چھو ٹا بچہ اس کفالت کا محتاج ہو۔جس وقت اس کو اس کی ضرورت نہ رہے تو دیکھاجائے گا،اگر پرورش کرنے والا اور ولی دونوں مسلمان ہوں ،مرد ہو یا عورت تو چھوٹے لڑکا یا لڑکی کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے رہے۔ اگر ان دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو کوئی اختیار نہیں دیا جائے گابلکہ ان…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 57:…

دفعہ نمبر 57: ایک ولایہ پر ایک ہی شخص کا طویل مدت تک والی رہنا مناسب نہیں ۔خاص طور پرکسی ایک ولایہ میں وہ مرکزی شخصیت بن جائے یا اس کی وجہ سے لوگوں کے فتنے میں پڑنے کا خطرہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 174:…

دفعہ نمبر 174: تعلیم میں تجرباتی علوم یا ان سے ملحقہ علوم جیسے ریاضی اور ثقافتی علوم کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا لازمی ہے۔ تجرباتی اور اس سے ملحقہ علوم حسب ضرورت پڑھائے جائیں گے۔ تعلیمی مراحل میں سے کسی بھی مرحلے میں ان کو لازمی قرار نہیں دیا جائے گا ۔ جبکہ ثقافتی علوم کو ابتدائی مرحلے میں رکھا جائے گا، یعنی اعلیٰ تعلیم سے پہلے اور اس میں ایک خاصل حکمت عملی کی پیروی کی جائے گی جو اسلامی افکار و…