https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 164: سب کے لئے مفت مہیا

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 164: ریاست اپنے عام شہریوں کو ہر قسم کی طبی سہولتیں مفت فراہم کرے گی۔ تاہم ڈاکٹروں کو فیس پر بلوانے یا ادویات کی خرید و فروخت پر پابندی نہیں لگائے گی۔

 

 

Article 164:The State provides free healthcare for all, but it does not prevent the use of private medical care or the sale of medicine.

Healthcare is part of the interests and utilities which the people cannot do without and so it is considered to be from the essentials. The Messenger صلى الله عليه وآله وسلم ordered people to take treatment:

«جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: نَعَمْ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ»

A Bedouin came and said: O Messenger of Allah, should I make use of medical treatment? He replied: Make use of medical treatment, for Allah has not made a disease without appointing a remedy for it, the one who knows it knows it and the one who is ignorant of it is ignorant of it” (reported by Ahmad from Usama Bin Shareek). And in another version from Al-Tabarani in Al-Mu’jam Al-Kabir, reported from Usamam b. Sharik:

«كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ فَسَأَلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً».

We were with the Messenger of Allah, when some desert Arabs came. They asked: Messenger of Allah, should we make use of medical treatment? He replied: Make use of medical treatment, for Allah has not made a disease without appointing a remedy for it.”. And in Al-Tirmidhi also from Usamah b. Sahrik with the wording:

«قَالَتْ الأَعْرَابُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: نَعَمْ، يَا عِبَادَ اللَّهِ تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، أَوْ قَالَ دَوَاءً إِلا دَاءً وَاحِدًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ: الْهَرَمُ»

Some Bedouins asked: 'O Messenger of Allah (s.a.w) shall we treat (our ill)?' He said: 'Yes, O worshipers of Allah! Use remedies. For indeed Allah did not make a disease but He made a cure for it' - or - 'a remedy. Except for one disease.' They said: 'O Messenger of Allah (s.a.w)! What is it?' He said: 'Old age.'”, and Al-Tirmidhi said this narration is Hasan Sahih. Al-Haram (Elderliness) is the end of life, which is usually followed by death.

This indicates the permissibility of seeking treatment. Through treatment, benefit is gained and harm is prevented, so it is considered to be an interest, and on top of that the clinics and hospitals are a utility which the Muslims use for the sake of seeking treatment and cure, and so healthcare is, therefore, part of the benefits and utilities. The State is obliged to provide the benefits and utilities, because it is part of what the State must practically manage due to the words of the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم:

«الإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

The Imam is a guardian and he is responsible for his subjects” (reported by Al-Bukhari from ‘Abd Allah Bin Umar). This is from the responsibilities of guardianship and for that reason it is obligatory upon the State to ensure it is provided to the people. From the evidences for that:

Muslim reported from Jabir who said:

«بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا، فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ»

The Messenger of Allah sent a physician to Ubayy b. Ka'b. He cut the vein and then cauterised it”.

Al-Hakim narrated in Al-Mustadrak from Zayd b. Aslam from his father who said: “I fell severely ill at the time of Omar Bin Al-Khattab, and so Omar called a physician for me, and so he warmed me up to the point I would suck on date pits due to the intense heat.”

Based upon this, it is obligatory upon the State to provide free medication and medical facilities, since it is part of the expenditures obligated upon the Bayt Al-Mal from the angle of being an interest and utility without recompense, and accordingly the State must provide all the health services without cost. This is the evidence that healthcare is part of what the State is obliged to provide to the people for free.

As for the permissibility of hiring a doctor, and paying him a fee, this is because seeking treatment is permitted (Mubah); as mentioned previously the Prophet said:

«يَا عِبَادَ اللَّهِ تَدَاوَوْا»

O Slaves of Allah seek treatment”, and since treatment is a service that the one paying for can achieve, therefore, the definition of hiring is applicable to it, and there has been no prohibition narrated regarding it. Above that, it is reported from Anas:

«احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، وَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ فَخَفَّفُوا عَنْهُ»

Allah's Prophet was cupped by `Abd Taiba, to whom he gave two Sa of food and interceded for him with his masters who consequently reduced what they used to charge him daily.(reported by Al-Bukhari from Anas), and what is intended by master was his owners since he was owned by a group, as indicated by the report in Muslim. It is reported by Ibn ‘Abbas:

«احْتَجَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أُجْرَةً، وَلَوْ كَانَ سُحْتاً لَمْ يُعْطِهِ»

The Prophet was cupped and he paid the wages to the one who had cupped him If it had been haraam, he would not have paid it.” (reported by Ahmad with this wording, and by Muslim and Al-Bukhari with a different wording). In those days Hijamah was part of the treatments that people would care for their health with, which indicates that to pay a fee for it is permitted. And similar to the fee for a doctor, is the selling of medicines since it is something permitted encompassed by the words of Allah (swt):

((وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ))

And Allah has permitted trade(TMQ 2:275), and there is no text narrated to forbid it.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 99:…

دفعہ نمبر 99: ہر مفاد (public interest) کے لیے عام ڈائریکٹر متعین کیا جائے گا۔ جبکہ ہر آفس اور ادارے کے کے لیے ایک ڈائریکٹر ہو گا جو اس کے انتظام کا نگران ہوگا اور اس کا براہ راست ذمہ دار ہو گا پھر یہ ڈائریکٹرزاپنے کام کے لحاظ سے ان مفادات کے اعلی اداروں کے آفسز یا اداروںکے ڈائریکٹرز کے سامنے جواب دہ ہو ںگے اسی طرح یہ احکام کی پابندی اور عا م نظام کے حوالے سے والی اور عامل کے سامنے بھی جواب دہ…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 163:…

دفعہ نمبر 163: افراد کو ایسی تجربہ گاہوں کے مالک بننے سے روک دیا جائے گا جو ایسا مواد تیار کریں جن کا افراد کی ملکیت میں ہونا امت یا ریاست کے لیے نقصان یا ضرر کا سبب ہوسکتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 170:…

دفعہ نمبر 170: تعلیمی نصاب کا اسلامی عقیدہ کی بنیاد پر استوار ہونا فرض ہے، چنانچہ تمام تدریسی مواد اور تدریسی طریقے کو اس طرح وضع کیا جائے گا کہ اس بنیاد سے روگردانی نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 80:…

دفعہ نمبر 80: کسی بھی عدالت کا ایک سے زیادہ ایسے قاضیوں پر مشتمل ہو نا جائز نہیں جس کے پاس مسئلوں کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو،ہاں قاضی کے ساتھ ایک یا زیادہ ایسے قاضی ہو سکتے ہیں جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو،ان کے پاس مشورہ اور رائے دینے کا اختیار ہو تا ہے اور ان کی رائے کا وہ پابند بھی نہیں ہو تا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 56:…

دفعہ نمبر 56: ہر ولایہ میں اہل ولایہ کی ایک منتخب اسمبلی ہوگی جس کے سربراہ خود والی ہوں گے اور اس اسمبلی کے پاس صرف انتظامی امور کے حوالے سے رائے دینے کا اختیار ہوگا حکمرانی کے معاملات میںاس کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ یہ اختیار بھی دو مقاصد کے لیے ہوگا۔ پہلامقصد: ولایہ کی زمینی حقائق اور ضروریات کے بارے میں والی کو ضروری معلومات مہیا کرنا اور اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا۔ دوسرا مقصد: والی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 121:…

دفعہ نمبر 121: گھر کے کا م کاج میں میاں بیوی مکمل تعاون کریں گے،گھر سے با ہر کے تمام کاموں کو انجام دینا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ گھر کے اندر کے تمام کام حسب استطاعت بیوی کے ذمہ ہیں۔جو گھریلو کام وہ نہیں کر سکتی اس کے لیے خادم مہیا کر نا شوہر کی ذمہ داری ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 190:…

دفعہ نمبر 190: عسکری معاہدات عسکری نوعیت کے دوسرے معاہدات یا عسکری معاملات سے ملتے جلتے معاہدات جیسا کہ سیاسی معاہدات اور فوجی اڈے یا ہوائی اڈے کرایہ پر دینے کے معاہدات بالکل ممنوع ہیں۔ تاہم ہمسائیگی ، اقتصادی ، تجارتی، مالیاتی ، ثقافتی اور عارضی جنگ بندی کے معاہدات جائز ہیں۔