https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 160: صنعتی امور کی نگرانی

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 160: ریاست صنعت کے شعبے کی تمام معاملات کی نگرانی کرے گی اور عوامی ملکیت سے تعلق رکھنے والی صنعتوں کی براہ راست نگرانی اور دیکھ بھال کرے گی۔

 

Article 160: The State supervises the whole affairs of industry. It directly undertakes those industries which are connected to whatever is part of the public property.

This article has two halves: firstly, supervision over the whole of industry; secondly, directly undertaking some of the industrial affairs. As for the first half its evidence is that the Messenger SL-16pt consented to private ownership of factories such as those for shoes, swords, clothes and other things:

«أَنَّ النَّبِيَّ SL-16pt اصْطَنَعَ خَاتَمًا»

The Prophet SL-16pt had a ring made for him” (reported by Al-Bukhari from ‘Abd Allah Bin Umar) and:

«أَنَّهُ SL-16pt اسْتَصْنَعَ المِنْبَرَ»

He SL-16pt had a pulpit made” (reported by Al-Bukhari from Sahl Bin Sa’d Al-Sa’idi). This indicates that factories are run by private individuals and not the State. Therefore, it is not different to agriculture. However, it is part of the managing of the affairs that Allah (swt) obligated upon the State with the words of the Prophet SL-16pt

«الإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

The Imam is a guardian and he is responsible for his subjects” (reported by Al-Bukhari from ‘Abd Allah Bin Umar), and so the State has to generally supervise the industrial issues by organising what is permitted according to the various styles which would assist the advancement of production, and by opening markets for it, and making sure raw materials are available, and so on.

As for the second half, the evidence for it is the Shari’ah principle: “The factory takes the rule of what it produces”; it is reported from Anas that:

«لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ»

Allah has cursed wine, its drinker, its server, its seller, its buyer, its presser, the one for whom it is pressed, the one who conveys it, and the one to whom it is conveyed.(reported by Abu Dawud from Ibn Umar and authenticated by Ibn Al-Sakn). And so the production of pressing the grapes for alcohol was prohibited by the Messenger SL-16pt because it produces alcohol, even though pressing is permitted; so the production took the rule of the material that it produced, and this is general. Based upon this, the factory takes the rule of the material it produces, and so the factories that produce anything considered part of public property are part of public property, since they take the rule of what they produce.

Public property belongs to all the Muslims, and it is not allowed for an individual or group of individuals to independently own it such that others are prevented from its ownership. From this understanding, the Khalifah is the one who manages these factories and prevents private ownership of them, since private ownership would prevent others from being able to gain ownership, and, therefore, the State has to directly manage the factories which are part of public property, such as those for oil extraction, steel and gold mining and so on. However, it is treated as a specific interest in terms of its income, expenditure and the rest of its affairs, and its profits are placed in the Bayt Al-Mal in a section specified for it, since it is not considered to be part of the State property, but rather part of public property.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 54:…

دفعہ نمبر 54: والی کوخلیفہ کے نائب ہونے کی وجہ سے اپنے ولایہ میںحکمرانی اور ولایہ کے محکموں کی نگرانی کااختیا ر حاصل ہے ۔اس کواپنے ولایہ میں محکمہ مالیات ،قضاء ( عدلیہ) اور فوج کوچھوڑکر باقی تمام محکموں کے بارے میں تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔ وہ اہل ولایہ کاامیر ہے اور ولایہ سے متعلق تمام امور کا نگران ہے تاہم پولیس بحیثیت ادارہ اس کے ماتحت نہیں ہوگی لیکن احکامات کی تنفیذ کے لیے اس کے ماتحت ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 82:…

دفعہ نمبر 82: کیسوں کی اقسام کے اعتبار سے عدالتوں کے متعدد درجات ہو نا جائز ہے،اس لیے بعض قاضیوں کو متعین کیسوں میں ایک حد تک مخصوص کرنا جائز ہے،ان کیسوں کے علاوہ دوسرے کیسوں کو دوسری عدالتوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 50:…

دفعہ نمبر 50: معاون تنفیذ مسلمان مرد ہوتا ہے کیونکہ وہ خلیفہ کا دست راست ہوتا ہے اور راز دان ہوتا ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 88:…

دفعہ نمبر 88: قاضی مظالم کی تقرری خلیفہ یا قاضی القضاء کی طرف سے ہوتی ہے، تاہم اس کا محاسبہ، اس کو تنبیہ یا اس کی بر طرفی خلیفہ کی طرف سے ہوتی ہے یا پھر قاضی القضاء کی جانب سے بشرطیکہ خلیفہ کی طرف سے اس کو اس کا اختیار دیا گیا ہو۔مگر اس کی برطرفی اس حالت میںدرست نہیں ہو تی جس وقت وہ خلیفہ یا معاون تفویض یا پھرمذکورہ قاضی القضاء کی طرف سے کیے گیے کسی زیادتی کے با رے میں چھان بین کر رہا ہو،اس حالت…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 176:…

دفعہ نمبر 176: فنون اور صنعت ایک لحاظ سے سائنس ہیں جیسے تجارتی فنون، فن جہاز رانی یا فنون زراعت۔ اس قسم (سائنسی نوعیت )کے فنون کو بغیر کسی قید و شرط کے اختیار کیا جائے گا۔ دوسرے پہلو سے یہ فنون جب زندگی کے بارے میں نقطہ نظر سے متاثر ہوتے ہیں تو ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں جیسے تصویر سازی اور آرٹس (پینٹنگ)۔اس صورت میں اگر یہ اسلام کے نقطہ نظر سے مخالفت رکھتے ہوں تو ان علوم کو ہرگز حاصل نہیں کیا جائے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 159:…

دفعہ نمبر 159: ریاست زرعی معاملات اور زرعی پیدوار کی نگرانی اُس زرعی پالیسی کے مطابق کرے گی جس کی رو سے زمین سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے جو کہ اعلیٰ درجہ کی پیداوار کی صورت میں حاصل ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 58:…

دفعہ نمبر 58: والی کا ایک ولایہ سے دوسرے ولایہ میں تبادلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی ولایت ایک خاص جگہ کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کی اس کو برطرف کرکے دوبارہ کسی دوسرے صوبے کا و الی مقرر کیا جائے ۔