https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 158: بااختیار شہریوں کو ان کی ضروریات کو حاصل

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 158: ریاست رعایا کے افراد کے لیے اس بات کو آسان اور ممکن بنائے گی کہ وہ اپنی آسائشوں Luxuries کو جہاں تک ممکن ہوپورا کرسکیں اور درجہ ذیل طریقے سے معاشرے میںدولت کاتوازن پیدا کریگی۔

  • (الف) بیت المال میں موجود منقول اور غیر منقول اموال اور مال فئے وغیرہ رعایامیں بانٹے گی۔
  • (ب) جن لوگوں کے پاس زمین نہ ہو، ان کو آباد اور غیر آباد زمین دے گی البتہ جن کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا رہے ہوں ان کوزمین نہیں دی جائے گی اورایسے کاشتکار وں کو مالی مددفراہم کرے گی جن کے پاس کاشتکاری کے لئے مناسب رقم نہ ہو۔
  • (ج) ایسے قرض داروں کا قرض زکوۃ اور مال فئے وغیرہ سے چکائے گی جو اپنا قرض ادا کرنے کے قابل نہ ہوں۔

 

Article 158: The State makes it easier for all the citizens to be able to satisfy their extra (non-essential) needs, and to achieve equality in society in the following way:

  1. By giving out liquid and fixed assets from the funds of the Bayt Al-Mal, and from the war booties, and anything similar.
  2. Donating some of its cultivated land to those who have insufficient land. Those who possess land but do not use it are not given more. Those who are unable to cultivate their land are given financial assistance to enable them to cultivate it.
  3. Giving help to those unable to repay their debts by providing funds from the Zakah, and the war booty, and anything similar.

The evidence for clause: “a” is that Allah (swt) gave the wealth of the Bani Al-Nadir to the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم in order for him to give it to whom he wished, and the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم gave it specifically to the emigrants rather than the Ansar, and did not give any of the Ansar anything apart from two men from amongst them. The wealth of Bani Al-Nadir was part of the booty, and similar to the booty is the rest of the wealth which is derived from fixed sources such as the land tax, because its expenditure has been placed under the responsibility of the Imam to spend according to his opinion and Ijtihad, except for if the text came explaining where it should be spent such as the expenditures of Zakah, in which case it would not be allowed to spend it except upon whatever the text mentioned. This is only with respect to the fixed sources of income, but as for the wealth collected from the taxes upon the Muslims, it cannot be given out because the text was regarding the booty and analogy upon it is made with anything similar, which are the fixed sources of income for the Bayt Al-Mal.

As for clause: “b” its evidence is the action of the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم when dividing the land; it is reported fromAmrf Bin Hareeth who said:

«خَطَّ لِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم دَارًا بِالْمَدِينَةِ بِقَوْسٍ وَقَالَ: أَزِيدُكَ أَزِيدُكَ»

The Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلمdemarcated a house with a bow at Medina for me. He said: I shall give you more. I shall give you more.(reported by Abu Dawud and he considered it Hasan), and in a narration reported by Ahmad and authenticated by Al-Zayd and also reported by Al-Bayhaqi, with both of them through ‘Alqamah b. Wa’il from his father:

«أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم أَقْطَعَهُ أَرْضًا، قَالَ: فَأَرْسَلَ مَعِي مُعَاوِيَةَ أَنْ أَعْطِهَا إِيَّاهُ، أَوْ قَالَ أَعْلِمْهَا إِيَّاهُ». وقد «سَأَلَ تَمِيمُ الدَّارِيُّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم أَنْ يُقْطِعْهُ عَيْنُونَ، البَلَدِ الَّذِي كَانَ مِنْهُ بِالشَّامِ قَبْلَ فَتْحِهِ، وَهُوَ مَدِينَةُ الْخَلِيلِ، فَأَقْطَعَهُ إِيَّاهَا صلى الله عليه وآله وسلم »

That the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم assigned him some land in Hadramout as fief, He said: he sent Mu’awiyah in order to give it to him”. And: “Tamim Al-Dari asked the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم  to assign him parts of the land that used to belong to him in Al-Sham before it was conquered, which was the city of Al-Khalil, and so the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم granted it to him” (reported by Abu ‘Ubayd in Al-Amwal and Abu Yusuf in Al-Kharaj). Another evidence is what Umar Bin Al-Khattab (ra) did in giving the farmers of Iraq some money from the Bayt Al-Mal in order for them to cultivate their land, and the companions remained silent over it, and so it is considered an Ijma’.

As for clause: “c”, its evidence is what Allah (swt) mentioned regarding the Zakah wealth with His (swt) words:

t(( والْغَارِمِينَ ))

And for those in debt(TMQ 9:60), and the words of the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم:

«أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْناً فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ»

I am nearer to every believer than himself, If he leaves a debt,it is upon me. However, if he leaves an estate, it belongs to his heirs.(reported by Muslim from Jabir), and the Shari’ah ordained that the wealth from the booty can be spent by the Imam according to his opinion and Ijtihad, which could include repaying the debts.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر134:…

دفعہ نمبر134: آباد کاری اور حد بندی (پتھر وغیرہ رکھ کر)بنجر زمین کا مالک بنا جا سکتا ہے۔ جبکہ آباد زمین کا مالک کسی شرعی سبب سے بنا جا سکتا ہے جیسے میراث، خریداری یا ریاست کی جانب سے عطا کرنے سے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 27: …

دفعہ نمبر 27: جن لوگوں کی بیعت سے خلافت کا انعقاد ہوتاہے اگر وہ لوگ بطورِ خلیفہ کسی ایک شخص کی بیعت کرلیں تو باقی لوگوں کی طرف سے دی جانے والی بیعت، بیعتِ اطاعت ہوگی اور یہ بیعتِ انعقاد نہیں ہوگی۔ چنانچہ جس شخص کے اندر سرکشی کے امکانات نظر آئیں اور وہ مسلمانوں کی وحدت کو توڑنے کی کوشش کرے ،تو اسے بیعت پر مجبور کیا جائے گا
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 171:…

دفعہ نمبر 171: تعلیمی پالیسی کا مقصد اسلامی عقلیہ اور اسلامی نفسیہ کی تعمیر ہے، اسی حکمت عملی کی بنیاد پر تمام تدریسی مواد وضع کیا جائے گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 80:…

دفعہ نمبر 80: کسی بھی عدالت کا ایک سے زیادہ ایسے قاضیوں پر مشتمل ہو نا جائز نہیں جس کے پاس مسئلوں کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو،ہاں قاضی کے ساتھ ایک یا زیادہ ایسے قاضی ہو سکتے ہیں جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو،ان کے پاس مشورہ اور رائے دینے کا اختیار ہو تا ہے اور ان کی رائے کا وہ پابند بھی نہیں ہو تا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 106:…

دفعہ نمبر 106: مجلس ولایہ کے اراکین کو معین ولایہ(صوبہ) کے لو گوں کی جانب سے براہِ راست انتخاب کے ذریعے سے منتخب کیا جائے گا اور مجلس ولایات (صوبوں) کے اراکین کی تعدادریاست کی ہر ولایہ کی آبادی (افراد)کی تعدادکی نسبت سے ہو گی۔ مجلسِ امت کے اراکین کو مجلس ولایات کے براہِ راست انتخابات کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔ مجلس امت کی ابتدا اور انتہا کی مدت وہی ہو گی جو مجلس ولایہ کی ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 182:…

دفعہ نمبر 182: کسی فرد، حزب گروہ یا جماعت کے لئے جائز نہیں کہ اس کے کسی بھی اجنبی ریاست سے کسی بھی قسم کے تعلقات ہوں۔ریاستوںکے ساتھ تعلقات صرف اور صرف ریاست کا کام ہے۔ کیو نکہ صرف ریاست کوہی عملی طور پر امت کے معاملات کی دیکھ بھال کا حق حاصل ہے۔ امت اور پارٹیوں( جماعتوں) کا کام ان خارجہ تعلقات کے حوالے سے ریاست کا محاسبہ کرنا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 108:…

دفعہ نمبر 108: شوریٰ اور مشورہ مطلقاً رائے لینا ہے۔ یہ تشریع(قانون سازی)،تعریف،فکری امور جیسے حقائق کے انکشاف،فنی اور علمی امور میں لازمی نہیں۔ جب خلیفہ عملی امور میں سے کسی امر میں مشورہ طلب کرے تب لازمی ہو جاتاہے اور وہ اعمال بھی تحقیق اور باریک بینی محتاج نہ ہوں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 103:…

دفعہ نمبر 103: میڈیا وہ محکمہ یا ادارہ ہے جو ریاست کے نشرواشاعت کے احوال کا ذمہ دار ہو تا ہے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کی نمائندگی کرے اور ان کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ داخلی طور پر ایک مضبوط اور مربوط اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے جوخباثت کو باہر کرے اور پاک چیزوں کو اپنے اندر سموئے، اورخارجی طور پرحالتِ امن اور حالتِ جنگ میںاسلام کی عظمت، اس کے عدل اور اس کی عسکری قوت…