https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر148: ریاستی بجٹ

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر148: ریاستی بجٹ کے دائمی ابواب (مدات) ہیں جن کو شرع نے متعین کیا ہے۔ جہاں تک بجٹ سیکشنز کا تعلق ہے یا ہر سیکشن میں کتنا مال ہوتا ہے یا ہونا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر سیکشن میں موجود مال سے متعلقہ امور کا تعلق خلیفہ کی رائے اور اجتہاد پر منحصر ہے۔

 

 

Article 148: The budget of the State has permanent chapters determined by Shari’ah rules. As for the sections of the budget, the amounts allocated for each section, and the issues of each sectioncovered by these amounts are left to the opinion of the Khalifah and his Ijtihad.

The word budget is a Western term, and its meaning is the explanation of the income that the State takes, and an explanation of its chapters, which are the aspects that are gathered in the budget, and an explanation of its sections, which are the branches of these aspects, and an explanation of the amounts which are incoming. Alongside that, there is a draft of the explanation of the expenditure that the State will spend, by explaining its chapters which are the aspects upon which the expenditure will be used, and an explanation of its sections, in other words, the branches of these aspects, and an explanation of the amounts that will be spent upon every one of the issues mentioned in each section. This is the reality of the budget. This reality was not known to the Muslims; rather they knew the Bayt Al-Mal, and the income was sent there and the expenditure was spent from it. However, the presence of income for the Bayt Al-Mal and the fact that the expenditure comes from it, embodies the reality of the budget even if it was not named with that term, and there is nothing to prevent the use of this term according to its terminological meaning, which is the collection of the chapters of income and expenditure, with sections for each of these. Built upon this, the State has a budget, and the Bayt Al-Mal is responsible for this budget.

As for the preparation of this budget in terms of its chapters, sections and amounts which are drafted, these have been decided by the Shari’ah laws. So the Shari’ah laws introduced and decided income such as land taxes and booty, and expenditures were introduced and decided how it should be spent, and it was confirmed what must be spent upon and what needs to be spent upon if the money is found to do so. The income and expenditure were introduced and decided by the Shari’ah rules, and therefore the chapters of the budget are permanently based upon that, since the Shari’ah decided them and the Shari’ah rule is permanent and does not change.

As for the sections, which are the branches which branch off from them such as the land tax upon the land with a natural water supply, and the land tax upon irrigated land, or anything similar, the Khalifah can draft them, since they are part of the management of the affairs which have been left to his opinion and Ijtihad. In the same manner, the amounts which are drafted are done so according to his opinion and Ijtihad, such as how much the Jizya and land tax would be, and anything similar, since it is part of what he is responsible for. Accordingly, the evidences for the Shari’ah rules are regarding the income and expenditure of the Bayt Al-Mal, and the control over whatever is in the Bayt Al-Mal that the Shari’ah did not specify is left to the opinion and Ijtihad of the Khalifah.

These three evidences: the evidences regarding the income, those regarding the expenditures, and the evidence that the Imam is responsible for governing the affairs, are the evidences for this article. As long as the Khalifah has the right to draft the sections of the incomes and amounts which are drafted in each section according to his opinion and Ijtihad, then there is nothing to prevent the drafting of an annual budget for the State including its sections and the amounts for each section, whether that is for the income or expenditure. What would be prohibited is drafting an annual budget for the sake of new chapters, and not its income and expenditure, since these chapters have been decided by the Shari’ah rules and so they are permanent.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 33:

دفعہ نمبر 33: (نئے خلیفہ کے تقرر کے سلسلے میں) ایک عبوری (وقتی ) امیر مقرر کیا جائے گا جو مسلمانوں کے امور کی دیکھ بھال کرے اورمنصب خلافت کے خالی ہونے کے بعدنئے خلیفہ کے تقرر کے عمل کا آغاز کرے، جو یہ ہو گا: ا) سابق خلیفہ جب یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے یا وہ سبکدوش ہونے کا ارادہ کرے تو اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ایک عبوری امیر مقرر کرے۔ ب) اگر عبوری امیر کے تقرر سے قبل خلیفہ کا انتقال ہو…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 182:…

دفعہ نمبر 182: کسی فرد، حزب گروہ یا جماعت کے لئے جائز نہیں کہ اس کے کسی بھی اجنبی ریاست سے کسی بھی قسم کے تعلقات ہوں۔ریاستوںکے ساتھ تعلقات صرف اور صرف ریاست کا کام ہے۔ کیو نکہ صرف ریاست کوہی عملی طور پر امت کے معاملات کی دیکھ بھال کا حق حاصل ہے۔ امت اور پارٹیوں( جماعتوں) کا کام ان خارجہ تعلقات کے حوالے سے ریاست کا محاسبہ کرنا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

ادفعہ نمبر…

دفعہ نمبر 122: چھو ٹے بچوں کی کفالت عورت پر واجب اور اس کا حق ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم بشرطیکہ چھو ٹا بچہ اس کفالت کا محتاج ہو۔جس وقت اس کو اس کی ضرورت نہ رہے تو دیکھاجائے گا،اگر پرورش کرنے والا اور ولی دونوں مسلمان ہوں ،مرد ہو یا عورت تو چھوٹے لڑکا یا لڑکی کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے رہے۔ اگر ان دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو کوئی اختیار نہیں دیا جائے گابلکہ ان…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 47:…

دفعہ نمبر 47: جب معاون ِ تفویض کسی معاملے کی تدبیر کرے اور خلیفہ اس کو برقرار رکھے تو معاون کو چاہیے کہ جس طرح خلیفہ نے اس کا م کو بر قرار رکھا تھا اسی طرح اس کو نافذ بھی کرے اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے ، اس کے بعد اگر خلیفہ اس کا دوبارہ جائزہ لے کر اپنی رائے بدلے اور معاون کی مخالفت کرے اور اس نے جو کچھ نافذ کیا تھا اس کو مسترد کرے تو دیکھا جائے گا کہ اگر معاون نے اس کو خلیفہ کے حکم کے عین مطابق…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 63:…

دفعہ نمبر 63: فوج دوقسم کی ہوتی ہے :احتیاطی فوج (ریزرو) ، اس میں مسلمانوں میں اسلحہ استعمال کرنے کے قابل تمام لوگ شامل ہیں، دائمی اور مستقل فوج ، ان کو ریاستی بجٹ سے دوسرے ملازمین کی طرح تنخواہیں دی جائیں گی ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 30:

دفعہ نمبر 30: خلیفہ کے طور پر جس شخص کی بیعت کی جارہی ہو اس کے اندرا نعقاد خلافت کی تمام شرائط کا ہونا لازمی ہے اگر چہ اس کے اندر افضلیت کے شرائط نہ ہوں کیونکہ اعتبار شروط انعقاد کا ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 99:…

دفعہ نمبر 99: ہر مفاد (public interest) کے لیے عام ڈائریکٹر متعین کیا جائے گا۔ جبکہ ہر آفس اور ادارے کے کے لیے ایک ڈائریکٹر ہو گا جو اس کے انتظام کا نگران ہوگا اور اس کا براہ راست ذمہ دار ہو گا پھر یہ ڈائریکٹرزاپنے کام کے لحاظ سے ان مفادات کے اعلی اداروں کے آفسز یا اداروںکے ڈائریکٹرز کے سامنے جواب دہ ہو ںگے اسی طرح یہ احکام کی پابندی اور عا م نظام کے حوالے سے والی اور عامل کے سامنے بھی جواب دہ…