https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 144: جزیہ

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 144: ذمیوں سے جزیہ لیا جائے گا اور یہ ان کے بالغ مردوں سے ان کی استطاعت کے مطابق لیا جائے گا۔ عورتوں اور بچوں پر جزیہ عائد نہیں ہو گا۔

 

 

Article 144:Jizya is collected from non-Muslims (people of Dhimma). It is to be taken from the adult men if they are capable of paying it, and it is not taken from women or children.

 

Its evidence is from the Quran and the Sunnah. As for the Book, Allah (swt) said:

(( حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ (29) ))

Until they give the Jizyah willingly while they are humbled. (TMQ 9:29). As for the Sunnah then:

«كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَى مَجُوسِ هَجَرٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، فَمَنْ أَسْلَمَ قُبِلَ مِنْهُ، وَإِلاَّ ضُرِبَتْ عَلَيْهِ الجِّزْيَةُ فِي أَنْ لاَ تُؤْكَلَ لَهُ ذَبِيحَةٌ وَلاَ تُنْكَحَ لَهُ امْرَأَةٌ»

The Messenger of Allah wrote to the fire-worshippers of Hajar, calling them to Islam, whoever becomes Muslim, it is accepted from him, otherwise the Jizya is imposed upon him and that his slaughtered meat is not eaten and is not married to a woman” (reported by Abu ‘Ubayd in Al-Amwal, Abu Yusuf in Al-Kharaj and others). It is only taken from the one capable due to His (swt) words: “Out of hand, in other words, from the one capable. It is taken from the men, not the women or children, due to the words of the Prophet صلى الله عليه وآله وسلم to Mu’adh:

«خُذْ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَاراً»

Take one Dinar from everyone who has reached the age of puberty (Halim)” (reported and authenticated by Al-Hakim). And Al-Bayhaqi reported in his Sunan Al-Kubra from ‘Amru b. Shu’ayb from his father from his grandfather that the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم:

«فَرَضَ الجِّزْيَةَ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ مِنْ أَهْلِ اليَمَنِ دِينَاراً دِينَاراً»

imposed one-Dinar Jizya upon every male adult (Muhtalim) in Yemen.” and the use of the words halim and Muhtalim with the masculine form indicates that it is not taken from women nor those who have not reached puberty, and similarly Umar (ra) wrote to the leaders of the army:

«أن يضربوا الجزية، ولا يضربوها على النساء والصبيان، ولا يضربوها إلا على من جرت عليه الموسى»

Impose the Jizya, and do not impose it upon the women and children, and do not impose it except upon the one who uses the blade”, and it is not known that anyone rebuked him over that and so it is considered to be an Ijma’. In the same manner it is not taken from the insane as he is analogous with the child.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 176:…

دفعہ نمبر 176: فنون اور صنعت ایک لحاظ سے سائنس ہیں جیسے تجارتی فنون، فن جہاز رانی یا فنون زراعت۔ اس قسم (سائنسی نوعیت )کے فنون کو بغیر کسی قید و شرط کے اختیار کیا جائے گا۔ دوسرے پہلو سے یہ فنون جب زندگی کے بارے میں نقطہ نظر سے متاثر ہوتے ہیں تو ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں جیسے تصویر سازی اور آرٹس (پینٹنگ)۔اس صورت میں اگر یہ اسلام کے نقطہ نظر سے مخالفت رکھتے ہوں تو ان علوم کو ہرگز حاصل نہیں کیا جائے…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر166:…

دفعہ نمبر166: ریاست اپنی ایک خاص کرنسی،آزادانہ طور پر جاری کرے گی اور اس کو کسی غیر ملکی کرنسی سے منسلک کرنا جائز نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 66:…

دفعہ نمبر 66: فوج کو ایک ہی فوج بنایا جا ئے گا اور اسے خا ص چھا ئو نیوں میں رکھا جا ئے گا،تاہم یہ چھائو نیاں مختلف صوبوں میں ہوں گی اور ان میں سے بعض کو اسٹریٹیجک ( جنگی اہمیت کے حا مل ) علاقوں میں بنایا جا ئے گا ۔ اسی طر ح کچھ فوجی اڈے ہمیشہ متحرک رہیں گے اور یہ بے پنا ہ جنگی قوت کے حا مل ہوں گے ۔ ان فوجی چھائو نیوں یا اڈوں کوکئی ایک مجموعوں کی شکل میں منظم کیاجائے گا اور ہر مجموعے کو جیش (فوج)…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 53:…

دفعہ نمبر 53: خلیفہ کی جانب سے ہی والیوں کا تقررہوتاہے اور عمال کا تقرر بھی خلیفہ ہی کرتاہے یا اگر وہ والیوں کو یہ ذمہ داری دے تو وہ بھی عمال مقررکرسکتے ہیں۔ والیوں اور عمال کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو معاونین کے لیے ہیں اس لئے ان کا مسلمان ، مرد ، آ زاد، بالغ، عاقل، عادل ، اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کی صلاحیت رکھنے والا ہونا ضروری ہے۔ ان کا انتخاب متقی اور طاقتور شخصیت والوں میں سے ہوگا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 6:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 172:…

دفعہ نمبر 172: تعلیم کا مقصد اسلامی شخصیت پیدا کرنا اور لوگوں کو زندگی کے معاملات سے متعلق علوم و معارف سے لیس کرنا ہے۔چنانچہ طریقہ تعلیم کو اس طرح بنایا جائے گا کہ جس سے یہ مقصد حاصل ہو اور ہر وہ طریقہ ممنوع ہو گا جو اس مقصد سے ہٹاتا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 62:…

دفعہ نمبر 62: جہاد مسلمانوں پر فرض ہے اور فوجی تربیت لازمی ہے، ہر مسلمان مرد جس وقت اس کی عمر پندرہ سال ہو جائے جہاد کی تیا ری کے لیے فوجی تربیت حاصل کرنا اس پر فرض ہو جائے گا، فوج میں با قاعدہ بھرتی ہونا فرض ِکفایہ ہے۔