https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 137 : عوامی ملکیت کی اقسام

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 137 : تین طرح کی اشیاء عوام کی ملکیت ہوتی ہیں

  • ا) ہر وہ چیز جو اجتماعی ضرورت ہو جیسے شہر کے میدان۔
  • ب) ختم نہ ہونے والی معدنیات جیسے تیل کے کنوئیں۔
  • ج) وہ اشیاء جو طبعی طور پر افراد کے قبضے میں نہیں ہوتی جیسے نہریں۔

 

 

Article 137: There are three categories of Public Ownership:

a. Public utilities, such as the open spaces in the towns.

b. Vast mineral resources, like oil fields.

c. Things which, by their nature, preclude ownership by individuals, such as rivers.

 

The evidence of the article is the evidence for article 129, and so the evidence for clause: “c” is the affirmation of the Messengerصلى الله عليه وآله وسلمupon the people sharing the ownership of the public pathways, and his words:

«مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ»

Mina is a resting place for whoever arrives first” reported by Al-Tirmidhi from Aisha(ra), and he said it is Hasan Sahih, and Ibn Khuzaymah who authenticated it; in other words, Mina, which is the famous place in the Peninsula, is a public property for all the people. So whoever gets there first and rests there, they have the right to it.

As for clause: “b”, its evidence is what was reported from ‘Amru b. Qays from his father from Abyad bin Hammal who said:

«اسْتَقْطَعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم مَعْدِنَ المِلْحِ بِمَأْرِبَ فَأَقْطَعَنِيهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْمَاءِ الْعَدِّ -يعني أنه لا ينقطع- فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم : فَلاَ إِذَنْ»

I asked the Messenger of Allahصلى الله عليه وآله وسلمto assign me a salt laden land as a fief and so he granted it to me. It was said: O Messenger of Allahصلى الله عليه وآله وسلم, it is comparable to a countless water – in other words, it does not deplete – and so the Messenger of Allahصلى الله عليه وآله وسلمsaid: “In such a case: no”” (reported by Al-Nasa’i), and the groundwater is that which is not depleted, and so the salt laden land was compared to the groundwater which is not depleted. The intention here is not the salt but rather the minerals, the evidence being that when heصلى الله عليه وآله وسلمknew that it was non-depleting heصلى الله عليه وآله وسلمprohibited it, though heصلى الله عليه وآله وسلمinitially knew that it was salt, and granted the land initially, and so the prohibition is due to it being a vast mineral resource. Abu ‘Ubayd said:

«فَلَمَّا تَبَيَّنَ لِلْنَبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ مَاءٌ عَدٌ ارْتَجَعَهُ مِنْهُ، لأَنَّ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم فِي الكَلأِ وَالنَّارِ وَالْمَاءِ أَنَّ النَّاسَ جَمِيعاً فِيهِ شُرَكَاءُ، فَكَرِهَ أَنْ يَجْعَلَهُ لِرَجُلٍ يَحُوزُهُ دُونَ سِواهُ»

When the Prophetصلى الله عليه وآله وسلمrealised it included ground water (does not deplete), he revoked it, it is the Sunnah of the Messenger of Allahصلى الله عليه وآله وسلمin relation to pasture, fire and water, to make all the people partners in their possession. So he disliked limiting possession to one person at the exclusion of others”. Accordingly, every mineral which is non-depleting, i.e. its size is not evaluated as a small quantity, is considered to be a public property. Had it been limited to a small amount then it is not considered to be a public property, as evidenced by the narration.

As for clause: “a”, its evidence is the words reported by one of the companions of the Prophetصلى الله عليه وآله وسلمAbu Kharras who said: the Messengerصلى الله عليه وآله وسلمsaid:

«الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلاَثٍ: الْمَاءِ وَالْكَلإِ وَالنَّارِ»

Muslims have common share in three: water, pastures and fire” (reported by Ahmad), and hisصلى الله عليه وآله وسلمwords:

«ثَلاثٌ لا يُمْنَعْنَ: الْمَاءُ وَالْكَلأُ وَالنَّارُ»

Three can not be denied (to anyone): water, fire and pastures” (reported by Ibn Maja from Abu Hurayrah). This narration has an Illah that its prevention is because they are from the public utilities. So the Messengerصلى الله عليه وآله وسلمpermitted individual ownership of water in Al-Ta’if and Khaybar, and they owned it at the expense of others in order to irrigate their crops and gardens, and so if there was absolute partnership in water, heصلى الله عليه وآله وسلمwould not have allowed individuals to own it. Therefore, from the words of the Messengerصلى الله عليه وآله وسلمMuslims have common share in three: water…”, and: “three are not denied” along with hisصلى الله عليه وآله وسلمpermission for individuals to own water, an Illah can be deduced that the partnership in water, pastures and fire, is due to the fact that they are public utilities that the public cannot live without, and so anything that is considered to be a public utility such as the open space in the towns, the areas for wood and the grazing pastures are all public property.

This is the evidence for public ownership.

As for the fact that these three alone constitute publicly owned property, this is from examination. Through the examination of the evidences regarding public ownership, it was found that they were limited to these categories, and so subsequently the evidence for this article has been made clear.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر147:…

دفعہ نمبر147: ہر وہ عمل (کام) جس کی انجام دہی کو شرع نے امت پر فرض قرار دیا ہے اگر بیت المال میں اتنا مال موجود نہ ہو جو اس فرض کام کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو تب یہ فرض امت کی طرف منتقل ہوگا۔ ایسی صورت میں ریاست کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ امت سے ٹیکس وصول کر کے اس ذمہ داری کو پورا کرے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 183:…

دفعہ نمبر 183: مقصد کا نیک ہونا(اس مقصد کے حصول کے) ذریعے کو جائز نہیں بناتا، کیونکہ طریقہ بھی فکر کی جنس سے ہے اس وجہ سے حرام ذریعہ اختیار کر کے واجب (فرض) کو ادا نہیں کیا جائے گااورنہ ہی مباح کام کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ سیاست کے ذرائع کاسیاست کے طریقے سے متناقض ہوناجائز نہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 62:…

دفعہ نمبر 62: جہاد مسلمانوں پر فرض ہے اور فوجی تربیت لازمی ہے، ہر مسلمان مرد جس وقت اس کی عمر پندرہ سال ہو جائے جہاد کی تیا ری کے لیے فوجی تربیت حاصل کرنا اس پر فرض ہو جائے گا، فوج میں با قاعدہ بھرتی ہونا فرض ِکفایہ ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ 124:…

دفعہ 124: اقتصادی مسئلہ اموال اور منافع کورعایا کے تمام افراد کے درمیان تقسیم کرنا ہے، اسی طرح اس مال سے نفع اٹھانے یعنی دولت کو اکٹھا کرنے اور اس کیلئے کوشش کرنے کو ان کے لیے آسان بنانا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 100:…

دفعہ نمبر 100: تمام مفادات، دفاتر اور محکموں کے مدیران کو کسی سبب سے انتظامی نظام کے ضمن میںہی معزول کیا جا سکتا ہے، تا ہم ان کو ایک کام سے دوسرے کام کی طرف منتقل کرنا جائز ہے۔ ان کو کام سے روکنا بھی جائز ہے، ان کی تعیناتی ،منتقلی، کام سے روکنا ،تادیب اوران کو معزول کرنا ان مفادات، محکموں اور اداروں کے اعلیٰ انتظامی ذمہ داران کی طرف سے ہی ہو گا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 162:…

دفعہ نمبر 162: رعایا کے تمام افراد کو زندگی کے ہر مسئلے سے متعلق علمی تجربہ گاہیں بنانے کا حق حاصل ہے اور ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ لیبارٹریاں قائم کرے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 61:…

دفعہ نمبر 61: محکمہ حرب، ملٹری فورسز یعنی فوج اور پولیس سے متعلق تمام امور کا ذمہ دار ہے جس میں معاہدات ، مہمات اور فوجی سازوسامان وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ملٹری کالجز فوجی معرکے اور فوج کے لئے ضروری اسلامی ثقافت ، عسکری تربیت اور جنگی تیاری سے متعلق ہر چیز کا ذمہ دار بھی، یہی محکمہ حرب ہے اور اس محکمے کے سربراہ کو امیر جہاد کہا جاتا ہے ۔