https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 130: ریاستی ملکیت

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 130: ہر وہ مال جسے خرچ کرنا خلیفہ کی رائے اور اجتہاد پر موقوف ہے وہ ریاست کی ملکیت سمجھی جائے گی مثلاً ٹیکس، خراج اور جزیہ۔

 

 

Article 130: State property is every wealth whose expenditure is determined by the opinion and Ijtihadof the Caliph (Khalifah), such as the wealth derived from taxes, land tax and Jizya.

Its evidence is that the Shari’ah evidences indicated that the definition of State property is the permission of the Legislator (swt) for the Caliph (Khalifah) to spend the wealth according to his opinion and Ijtihad. The Messenger صلى الله عليه وآله وسلم used to spend the wealth from the war booty according to his opinion and Ijtihad, and likewise the wealth from the Jizya and land taxes which were collected from the different lands. There is a Shari’ah text which shows that it was left to the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم to spend it according to how he صلى الله عليه وآله وسلم saw fit, which is an evidence that the Imam can spend this wealth according to his opinion and Ijtihad, since the action of the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم is a Shari’ah evidence and so it is a permission for the Imam to spend this wealth as he sees fit according to his opinion and Ijtihad. Therefore, that is the definition of State property.

For this reason, the expenditure of the Zakah has not been left to the Caliph (Khalifah)to decide according to his opinion and Ijtihad, rather the categories it can be spent upon have been specified and the State is the guardian over spending it in those areas, and so the Khalifah cannot increase the categories according to his opinion and Ijtihad.

Based upon this, if there is a Shari’ah text reported that permits the Imam to spend specific wealth according to his opinion and Ijtihad, then that wealth is considered to be the State’s wealth, and the text of the Legislator (swt) is a permission for the Imam to spend it according to his opinion and Ijtihad. Accordingly, the wealth of war booty, land taxes, Jizya and anything similar from taxes, and the returns from the State properties, is all State wealth. The definition which was deduced from the actions of the Messenger صلى الله عليه وآله وسلم , and the generality of the texts which came ordering the utilisation of this wealth, apply upon all of the aforementioned issues. This article was drafted upon this basis.

This is the definition for every category of property, and these are the evidences that each of these definitions was deduced from. By examining these definitions which were drafted regarding ownership, and the evidences which they were deduced from, it becomes clear that property falls under one of the following three categories: private property, public property and State property. As for the wealth from Zakah, this is not possessed by any specific person, rather it is possessed by specific sections, and so it is considered to be from the category of private property, since the Legislator (swt) permitted those sections to possess it through the conveyance of the one giving it, irrespective of whether that was the one giving the Zakah directly or the Imam, and for that reason it is not considered to be a fourth category of property. Accordingly, property is categorised according to these three categories, and the details of the Shari’ah evidence for article 127 have been made clear.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 174:…

دفعہ نمبر 174: تعلیم میں تجرباتی علوم یا ان سے ملحقہ علوم جیسے ریاضی اور ثقافتی علوم کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا لازمی ہے۔ تجرباتی اور اس سے ملحقہ علوم حسب ضرورت پڑھائے جائیں گے۔ تعلیمی مراحل میں سے کسی بھی مرحلے میں ان کو لازمی قرار نہیں دیا جائے گا ۔ جبکہ ثقافتی علوم کو ابتدائی مرحلے میں رکھا جائے گا، یعنی اعلیٰ تعلیم سے پہلے اور اس میں ایک خاصل حکمت عملی کی پیروی کی جائے گی جو اسلامی افکار و…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 22:…

دفعہ نمبر 22: نظا مِ حکومت مندرجہ ذیل چا ر بنیا دوں پر قا ئم ہو تا ہے : ا۔ با لا دستی (حا کمیت اعلیٰ Sovereignity-) شرع کو حاصل ہے عوام کو نہیں ۔ ب ۔ اقتدار امت کا ہے ۔ ج۔ ایک ہی خلیفہ کا تقرر مسلما نو ں پر فرض ہے ۔ د۔ صر ف خلیفہ کو ہی احکا م شرعیہ کی تبنی کا حق حا صل ہے اور وہی دستور اور قوانین مرتب کر سکتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 19:…

دفعہ نمبر 19: حکمرانی یا حکمرانی میں داخل کو ئی بھی کا م کی ذمہ داری صرف اور صرف مر د، آزاد ، با لغ، عاقل ،قا در اور با صلا حیت شخص اٹھائے گا اور اس کا مسلما ن ہو نا بھی لا زمی شرط ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 56:…

دفعہ نمبر 56: ہر ولایہ میں اہل ولایہ کی ایک منتخب اسمبلی ہوگی جس کے سربراہ خود والی ہوں گے اور اس اسمبلی کے پاس صرف انتظامی امور کے حوالے سے رائے دینے کا اختیار ہوگا حکمرانی کے معاملات میںاس کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ یہ اختیار بھی دو مقاصد کے لیے ہوگا۔ پہلامقصد: ولایہ کی زمینی حقائق اور ضروریات کے بارے میں والی کو ضروری معلومات مہیا کرنا اور اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا۔ دوسرا مقصد: والی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 82:…

دفعہ نمبر 82: کیسوں کی اقسام کے اعتبار سے عدالتوں کے متعدد درجات ہو نا جائز ہے،اس لیے بعض قاضیوں کو متعین کیسوں میں ایک حد تک مخصوص کرنا جائز ہے،ان کیسوں کے علاوہ دوسرے کیسوں کو دوسری عدالتوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 121:…

دفعہ نمبر 121: گھر کے کا م کاج میں میاں بیوی مکمل تعاون کریں گے،گھر سے با ہر کے تمام کاموں کو انجام دینا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ گھر کے اندر کے تمام کام حسب استطاعت بیوی کے ذمہ ہیں۔جو گھریلو کام وہ نہیں کر سکتی اس کے لیے خادم مہیا کر نا شوہر کی ذمہ داری ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 183:…

دفعہ نمبر 183: مقصد کا نیک ہونا(اس مقصد کے حصول کے) ذریعے کو جائز نہیں بناتا، کیونکہ طریقہ بھی فکر کی جنس سے ہے اس وجہ سے حرام ذریعہ اختیار کر کے واجب (فرض) کو ادا نہیں کیا جائے گااورنہ ہی مباح کام کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ سیاست کے ذرائع کاسیاست کے طریقے سے متناقض ہوناجائز نہیں۔