https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

اقتصادی نظام ( 123-169 )

دفعہ نمبر 126: ملکیت

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 126: مال صرف اللہ تعالیٰ کا ہے اسی نے بنی نوع انسان کو اس مال میں اپنا جانشین بنایا ہے اور اسی عمومی جانشینی کی وجہ سے انسان کو ملکیت کا حق حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہی نے فرد کو اس مال کا مالک بننے کی اجازت دی ہے، اسی خاص اجازت کی وجہ سے انسان بالفعل(عملی طور پر) مال کا مالک بن گیا۔

 

 

 

Article 126: The wealth belongs to Allah (swt) alone, and He (swt) has made human beings the trustees of it. Through this general trust they have been given the right to ownership of wealth. Allah (swt) has permitted for the individual to possess the wealth; so through this specific permission, he managed to possess it practically.

 

The evidences for this article are His (swt) words:

((وَآَتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آَتَاكُمْ))

And give them from the wealth of Allah which He has given you. (TMQ 24:33); so the wealth is ascribed to Allah (swt). And His (swt) words:

((وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ))

And give you increase in wealth and children.” (TMQ 71:12); so the increase in the wealth for people is ascribed to Allah (swt). Also, His (swt) words:

((وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ))

And spend out of that in which He has made you successors.(TMQ 57:7), and so accordingly He (swt) made man the trustees of Allah (swt) in the wealth, as it was Allah (swt) who made them the inheritors, so the wealth in origin belongs to Allah (swt). Therefore, the ownership of the wealth is with Allah (swt), but He (swt) has made the people the trustees of it, which has given them the right to its ownership. For this reason the verse regarding the entrustment is not an evidence for private ownership, but rather it is evidence that the human being from the aspect of being human, has the right of ownership of wealth.

As for practical private ownership, or in other words, the fact that it is permitted for him to actually possess wealth, this comes from another evidence, which is the cause which permitted the individual to practically come into possession. For example his صلى الله عليه وآله وسلم words:

«مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ»

If anyone surrounds a land with a wall, it belongs to him. (reported by Ahmad and Abu Dawud with a chain authenticated by Al-Jarwad and Al-Zayn), and his صلى الله عليه وآله وسلم words:

«مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ»

whoever revives dead land, then it is his” reported by Al-Bukhari for Umar as a Ta’liq (title heading without chain mentioned) and also reported by Ahmad and Al-Tirmidhi with an authentic chain from Jabir, and the words of Allah (swt):

((لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ)) [النساء 7] ومن مثل قوله تعالى: ((أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ))

For men is a share of what the parents and close relatives leave, and for women is a share of what the parents and close relatives leave.” (TMQ 4:7) and: “Lawful to you is game from the sea.” (TMQ 5:96), amongst other texts.

Accordingly, the right of ownership of whatever Allah (swt) created is confirmed for every human, and practical ownership requires permission from the Legislator (swt) regarding how it can be achieved and which wealth can be sought. In other words, evidence from the Shari’ah is required which permits this possession to practically take place. Therefore, the article comprises of three elements.

Firstly, that ownership is for Allah (swt):

((وَآَتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ ))

And give them from the wealth of Allah which He has given you.(TMQ 71:12).

Secondly, that the person has the right to own wealth, the evidence being the verse regarding entrustment/succession:

((وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيه))

And spend out of that in which He has made you successors.(TMQ 57:7).

Thirdly, that the practical taking of ownership of the wealth by the individual requires permission from the Legislator (swt) - in other words, evidence which permits the ownership of it in practical terms, and the evidence for this are the texts regarding the permission of practically taking ownership.

Accordingly the evidences for this article have been made clear.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر147:…

دفعہ نمبر147: ہر وہ عمل (کام) جس کی انجام دہی کو شرع نے امت پر فرض قرار دیا ہے اگر بیت المال میں اتنا مال موجود نہ ہو جو اس فرض کام کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو تب یہ فرض امت کی طرف منتقل ہوگا۔ ایسی صورت میں ریاست کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ امت سے ٹیکس وصول کر کے اس ذمہ داری کو پورا کرے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 93:…

دفعہ نمبر 93: ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خصومت (جھگڑے یا لڑائی) میںیا اپنے دفاع میںجس کو چاہے اپنا وکیل مقرر کرے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، مرد ہو یا عورت،اس میں وکیل اور موکل کے درمیان کوئی فرق نہیں اوروکیل کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اجرت لے کر وکالت کرے وہ اس اجرت کا حقدار ہے جو اس نے اپنے موکل کے ساتھ باہمی رضامندی سے طے کیا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 23:…

دفعہ نمبر 23: ریا ست خلافت کے تیر ہ ادارے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ خلیفہ (ریاست کا سربراہ) معاونین (وزراء تغویض) وزراء تنقید والی (گورنرز) امیر جہاد اندرونی سلامی (داخلی سیکورٹی) خارجہ (خارجہ امور) صنعت قضاء (عدلیہ) مفادعامہ(انتظامی ادارہ) بیت المال میڈیا مجلسِ امت (شوریٰ اور محاسبہ)
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 154:…

دفعہ نمبر 154: حقوق اور فرائض کے لحاظ سے افراد اور کمپنیوں کے ملازمین ریاستی ملازمین کی طرح ہیں۔ ہر وہ شخص ملازم ہے جو اجرت پر کام کرتا ہے خواہ کام یا کام کرنے والا کوئی بھی ہو۔ جب آجر (ملازم) اور مستاجر (کام کروانے والا) کے درمیان اجرت پر اختلاف ہو جائے تو اجرت مثل کے مطابق فیصلہ کیا جائیگا۔ اجر ت کے علاوہ اگر کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تواس کا فیصلہ احکام شرعیہ کے مطابق ملازمت کے معاہدے کو…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 15:…

دفعہ نمبر 15: حرام کا وسیلہ (ذریعہ ) بھی حرام ہے بشر طیکہ غا لب گمان ہو کہ یہ حرا م کا وسیلہ ہے ، اگر صرف خدشہ ہو کہ یہ حرا م تک پہنچا ئے گا تب اسے حرا م نہیں کہا جاسکتا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 104:…

دفعہ نمبر 104: نشرو اشاعت کے ایسے ادارے (میڈیا) کے لیے لائسنس (این او سی) کی کوئی ضرورت نہیں، جس کا مالک ریاست کا شہری ہو، بلکہ صرف متعلقہ ریاستی ادارے کے آفس کو خبر کرنا اور اس کے علم میں لانا کافی ہے کہ کس قسم میڈیا بنایا جارہا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کے مالکان اورلکھنے والے (صحافی) اپنے ہر رپورٹ اور مواد کے بارے میںذمہ دار ہوںگے، کسی قسم کے خلاف شرع مواد پر ان کا محاسبہ ہوگاجیسا کہ ریاست کے کسی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 130:…

دفعہ نمبر 130: ہر وہ مال جسے خرچ کرنا خلیفہ کی رائے اور اجتہاد پر موقوف ہے وہ ریاست کی ملکیت سمجھی جائے گی مثلاً ٹیکس، خراج اور جزیہ۔