https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 94: نجی اور عوامی معاملات میں اٹارنی کی طاقت

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 94: اس شخص کے لیے جو خاص اعمال میں سے کسی عمل جیسے وصیت یاولایت پر زمہ دار ہو یا عام اعمال جیسے خلیفہ، حکمران ،ملازم،قاضی مظام یامحتسب کے حوالے سے صاحبِ اختیار ہو اپنے اختیارات میںقائم مقام بنا کر جھگڑے اوردفاع کے اعتبار سے اپنا وکیل بنا سکتا ہے۔اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ مدعی ہے یا مدعی علیہ۔

 

Article 94: It is permitted for the one who has been vested with a specific responsibility, like a custodian or guardian, or general responsibility such as the Khalifah, ruler, civil servant, Muhtasib, or judge of the Court of Injustice Acts (Madhalim), to appoint a person to his position as a proxy - within the bounds of his authority – in disputes and defence alone, and there is no difference whether they were the plaintiff or defendant.

Its evidence is the evidence for the giving of proxy, since as it is valid for a person to deputise another person to act on their behalf in the issue they have control over such as buying, selling, and disputes, in the same manner it is valid to deputise another person to act on their behalf in the issues they are acting on, on behalf of someone else. So the proxy, if given the right to deputise in the issue that they were given the proxy in, can deputise someone for themselves in that which they have control over as a result of being given the proxy. Accordingly, the guardian can deputise someone else to act on their behalf with the wealth of the one they are guardian over, and in the same manner the custodian of the Waqf is permitted to deputise whomever they please in all the affairs that he has the power of control over from the leasing of the Waqf and so on. Similar to them is the ruler, who is permitted to deputise whomever he pleases in any of the issues he has control over. Unless the ruler is the Khalifah, in which case it is permitted for him to deputise whomever he pleases because he possesses control over every matter, and so he is like the one who deputises on his own behalf, whereas anyone other than the Khalifah, from those who are his delegates such as the assistants, governors, and department managers, do not have the power to deputise on their behalf in that which they have been deputised control over unless the Khalifah gave them the right to do so. This is because they are the delegates of the Khalifah, and so they are similar to the deputies, and the deputy has no right to deputise his duty unless he was given that right. So if his deputation gave him that power, then he would have the right of deputation irrespective of whether he was a plaintiff or defendant, since the right to deputise is general and encompasses every issue that he acts in. Based upon that, what is known today as the attorney general (lawyer of the government), and the public prosecutor and prosecution, or anything else similar, then from the angle of the rules of proxy the work is valid according to the Shari’ah, since the Shari’ah permitted this type of deputation.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 14:…

دفعہ نمبر 14: افعا ل میں اصل حکم ِ شرعی کی پا بند ی ہے ، اس لیے حکم شرعی معلو م کر کے ہی کو ئی کام کیا جائے گا ، جبکہ اشیا ء میں اصل ابا حہ (مبا ح ہو نا ) ہے جب تک کسی شے کے حرا م ہونے کی دلیل وار دنہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 7:…

دفعہ نمبر 7: ریاست ان تمام افراد پر جو اسلامی ریاست کے شہری ہوں مسلم ہوں یا غیر مسلم حسب ذیل طریقے سے اسلامی شریعت نافذکرے گی : (ا) مسلمانوں پر بغیر کسی استثناء کے تما م اسلامی احکامات نافذکرے گی۔ (ب) غیر مسلموں کو ایک عام نظام کے تحت ان کے عقیدے اور عبادت کی آزادی دی جائے گی۔ (ج) مرتدین اگر خود مرتد ہوئے ہیں ان پر مرتد کے احکامات نافذ کیے جائیں گے ،اگر وہ مرتد کی اولاد ہوں اور پیدائشی غیرمسلم…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 5:…

دفعہ نمبر 5: وہ تمام افراد جو اسلامی ریاست کے شہری ہیں ان کو تمام شرعی حقوق حاصل ہوں گے۔ دفعہ نمبر 6: ریاست کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات عدالتی فیصلوں ، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے،بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 72:…

دفعہ نمبر 72: داخلی امن و سلامتی کے لیے بنیادی خطرات ،جن کی شعبۂ داخلی امن و سلامتی روک تھام کرے گا، وہ یہ ہیں: ارتداد، بغاوت اور حرابہ ، لوگوں کی مال ودولت پر حملہ،لوگوں کی جان اور عزت پر دست درازی اوران مشتبہ لوگوں سے نبٹنا، جوحربی کفار کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 77:…

دفعہ نمبر 77: قاضی تین ہیں:ایک قاضی عام، یہ لوگوں کے درمیان معاملات اور عقوبات میںفیصلے کا ذمہ دار ہو تا ہے،دوسرا محتسب ،یہ ان خلاف ورزیوں کے فیصلوں کو نمٹانے کا ذمہ دار ہو تا ہے جو جماعت کے حق میں ضرر رساں ہو تے ہیں،تیسرا قاضی المظالم ،یہ ریاست اور عوام کے ما بین پیدا ہو نے والے تنازعات کو ختم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 80:…

دفعہ نمبر 80: کسی بھی عدالت کا ایک سے زیادہ ایسے قاضیوں پر مشتمل ہو نا جائز نہیں جس کے پاس مسئلوں کے فیصلے کرنے کا اختیار ہو،ہاں قاضی کے ساتھ ایک یا زیادہ ایسے قاضی ہو سکتے ہیں جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہ ہو،ان کے پاس مشورہ اور رائے دینے کا اختیار ہو تا ہے اور ان کی رائے کا وہ پابند بھی نہیں ہو تا۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 102:…

دفعہ نمبر 102: بیت المال وہ محکمہ ہے جو احکام شرعیہ کے مطابق آمدن اور اخراجات کو اکٹھا کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور خرچ کرنے کی نگرانی کرتا ہے۔ بیت المال کے محکمے کے سربراہ کو ’بیت المال کا خازن‘ کہا جا تاہے۔ پھر ہر صوبے میںاس محکمے کے ذیلی دفاتر (ادارے) ہو تے ہیں اور ان میں سے ہر ادارے کے سربراہ کو’صاحبِ بیت المال‘ کہا جاتا ہے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 104:…

دفعہ نمبر 104: نشرو اشاعت کے ایسے ادارے (میڈیا) کے لیے لائسنس (این او سی) کی کوئی ضرورت نہیں، جس کا مالک ریاست کا شہری ہو، بلکہ صرف متعلقہ ریاستی ادارے کے آفس کو خبر کرنا اور اس کے علم میں لانا کافی ہے کہ کس قسم میڈیا بنایا جارہا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کے مالکان اورلکھنے والے (صحافی) اپنے ہر رپورٹ اور مواد کے بارے میںذمہ دار ہوںگے، کسی قسم کے خلاف شرع مواد پر ان کا محاسبہ ہوگاجیسا کہ ریاست کے کسی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 117

دفعہ نمبر 117: عورت کی ایک خاص زندگی ہے اور ایک عام۔عام زندگی میں وہ خواتین،محرم مردوں اور غیر محرم مردوں کے ساتھ اس طرح رہ سکتی ہے کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آنا چاہیے۔بے پردہ اور زینت کا ظہار بھی نہ ہو۔خاص زندگی میں صرف خواتین اور محرم مردوں کے ساتھ رہنا ہی اس کے لیے جائز ہے۔غیر محرم مردوں کے ساتھ رہنا اس کے لیے بالکل جائز نہیں۔دونوں حالتوں میں احکام شرعیہ کی پابندی لازمی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 150:…

دفعہ نمبر 150: بیت المال کی دائمی آمدنی اگر ریاست کے اخراجات کے لیے ناکافی ہو تب ریاست مسلمانوں سے ٹیکس وصول کرے گی اور یہ ٹیکس وصولی ان امور کے لیے ہے: ۱۔ فقرائ، مساکین، مسافر اور فریضہ جہاد کی ادائیگی کے لیے بیت المال کے اوپر واجب نفقات کو پورا کرنے کے لیے۔ ب۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے جنہیں پورا کرنا بیت المال پر بطورِ بدل واجب ہے جیسے ملازمت کے اخراجات، فوجیوں کا راشن اور حکام کے…