https://www.facebook.com/khilafah.net

nusr-khilafah-ur-8-70-575

قضاء (عدلیہ) (75-95)

دفعہ نمبر 93: قانونی چاره جوئی میں ایجنٹ

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور, دفعہ نمبر 93: ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خصومت(جھگڑے یا لڑائی) میںیا اپنے دفاع میںجس کو چاہے اپنا وکیل مقرر کرے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، مرد ہو یا عورت،اس میں وکیل اور موکل کے درمیان کوئی فرق نہیں اوروکیل کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اجرت لے کر وکالت کرے وہ اس اجرت کا حقدار ہے جو اس نے اپنے موکل کے ساتھ باہمی رضامندی سے طے کیا ہو۔

 

 

Article 93: Every person has the right to appoint whomsoever he wishes as a proxy (Wakeel) for oneself in the disputes and defence, irrespective of whether he is Muslim or not, male or female. There is no distinction in this matter between the commissioner and the proxy. The proxy is permitted to be appointed for a fee according to the terms agreed upon with the commissioner.

 This article explains the permission of proxy in disputes, and its evidence is the evidence for the granting of proxy, since it is general and encompasses every type of proxy. Proxy is confirmed by the Sunnah; it is narrated by Abu Dawud with its chain of narration that Jaber Bin Abdullah said:

«أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَـيْـبَرَ، فَقَالَ: إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِي فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا، فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ»

“I wanted to go out to Khaybar, so I went to the Messenger of Allah صلى الله عليه وآله وسلم and gave him a greeting and said: I am leaving. He said: ‘Go to my agent, and take fifteen loads from him. If he asks for a token from you, place your hand upon his collarbone.” (authenticated by Al-Hafiz in Al-Talkhis), and it is narrated from him صلى الله عليه وآله وسلمthat he صلى الله عليه وآله وسلمgave proxy to Abu Rafi’ regarding the acceptance of marriage to Maymunah; Ahmad reported in Al-Musnad from Abu Rafi’:

«أن رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة حلالا وبنى بها حلالا وكنت الرسول بينهما»

“The Messenger of Allah married Maymuna, and I was the messenger between them”. So, anything that the person’s free conduct in is considered valid, and can be deputised, can be given as a proxy, whether male or female, Muslim or disbeliever. Also, the issue of proxy in disputes is itself confirmed by the Ijma’ of the companions, since Ali (ra) gave a proxy to Uqayl before Abu Bakr (ra) and said:

ما قُضِيَ له فلي وما قُضِيَ عليه فعلَيَّ

“Whatever is ruled for him is for me, and whatever is ruled upon him is upon me”, and he appointed Abdullah Bin Jafar as a proxy to ‘Uthman (ra) and said disputes have perils (Quhms) and the devil attends them, and I hate to attend. This was mentioned by Ibn Qudamah in Al-Mughni and he said “these stories have spread since they are famous and no one mentioned anyone who rejected them”. The meaning of Quhm is destructive. Based upon this, proxy is permitted when requesting and establishing rights, whether the commissioner is present or absent at the judgement, healthy or sick, and the agreement of the disputing party is not required since it is a right in which deputising is permitted without any restrictions irrespective of whether the disputing party agreed or not.

It is permitted for the proxy to be appointed for a fee, since it is a permitted type of employment, as employment is general and encompasses every issue including deputising. Because the definition of employment is a contract upon an exchange of a service for compensation and this applies to the service of proxy and so the definition applies to it. So if the appointment of proxy is done for a fee, then the proxy is entitled to the fee from the commissioner according to the terms that they are both content with. However, it is imperative that a contract of employment is put into effect and that both of them agree upon it in order for him to be entitled to the fee, because the appointment of proxy itself is a contract which does not necessitate any fee, but an agreed fee upon the contract is what would necessitate it. Accordingly, it is imperative that there is a contract of employment upon the proxy along with the contract of appointing the proxy. Both appointment of proxy and taking fee are permitted without restriction, irrespective of whether the person takes it as a profession with which he makes his living out of or not, and due to this the work of what is known today as lawyers and barristers is considered valid in terms of being valid to take a fee for it, but their seeking judgement from Kufr laws to confirm the truth from the falsehood is what is not permitted. Rather the truth is what Islam confirmed as the truth, and the falsehood is what it made false, and there is no value for what is different from that even if the rules of Kufr confirmed it.

مقبول مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر133:…

دفعہ نمبر133: عشری زمین وہ ہے جہاں کے رہنے والے اس زمین پر رہتے ہوئے (بغیر کسی جنگ سے یا صلح کے ) ایمان لے آئے ،اسی طرح جزیرۃ العرب کی زمین ۔ جبکہ خراجی زمین وہ زمین ہے جو جنگ یا صلح کے ذریعے فتح کی گئی ہو ،سوائے جزیرۃ العرب کے۔ عشری زمین اور اس کے پیداوار کے مالک افراد ہوتے ہیں، جبکہ خراجی زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کی پیداوار افراد کی ملکیت ہوتی ہے، ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 1:…

دفعہ نمبر 1: اسلامی عقیدہ ہی ریا ست کی بنیا د ہے یعنی ریا ست کے وجود ، اس کی سا خت (ڈھانچہ)، اس کے محا سبے اور اس سے متعلق کسی بھی چیز کی بنیا د اسلامی عقیدہ ہی ہو گا۔ ساتھ ہی یہ عقیدہ دستور اور قوانین کے لیے ایسی اسا س ہو گا کہ ان دو نوں سے متعلق کسی بھی چیز کی اُس وقت تک اجازت نہیں ہو گی جب تک وہ اسلامی عقیدہ سے اخذ شدہ نہ ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 12:…

دفعہ نمبر 12: کتا ب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجما ع صحا بہؓ اور قیاس ہی شرعی احکاما ت کے لیے معتبر ادلہ ہیں۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 168:…

دفعہ نمبر 168: اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسیوں کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے، اگر کرنسی دو مختلف جنس کی ہوں تو کمی بیشی کے ساتھ بھی تبادلہ جائز ہے بشر طیکہ یہ تبادلہ دست بدست ہو۔ ادھار کی بنیاد پر یہ تبادلہ جائز نہیں۔ جب دونوں کرنسیاں مختلف جنس کی ہوں تو بغیر کسی قید کے شرح تبادلہ میں کمی بیشی جائز ہے۔ ریاست کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 131:…

دفعہ نمبر 131: اموالِ منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کی انفرادی ملکیت کے مندرجہ ذیل پانچ شرعی اسباب ہیں: ا) عمل (کام کاج یا تجارت وغیرہ) ب) میراث ج) جان بچانے کے لیے مال کی ضرورت د) ریاست کا اپنا مال عوام کو عطا کرنا۔ ھ) وہ اموال جو افراد کو بغیر بدل کے (مفت میں) یا بغیر جدو جہد کے حاصل ہو۔

دستور کے کچھ مضامین

خلافت ریاست کے دستور

خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 38

دفعہ نمبر 38: خلیفہ کو اپنی رائے اور اجتہا د کے مطا بق لو گو ں کے امو ار کی دیکھ بھا ل کا پو را حق حاصل ہے ۔ اس کو ان مبا حا ت میں بھی تبنی کا حق حا صل ہے جو ریا ستی امو ر کو چلا نے اور لوگو ں کی دیکھ بھا ل کیلئے ضر وری ہے ۔ تا ہم مصلحت کو دلیل بنا کر کسی حکم شر عی کی خلاف ورزی اس کے لیے بالکل جا ئز نہیں مثا ل کے طو ر پر غذائی قلت کو دلیل بنا کر وہ کسی ایک خاندان کو بھی کثرت اولا د سے منع نہیں کر…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 93:…

دفعہ نمبر 93: ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خصومت (جھگڑے یا لڑائی) میںیا اپنے دفاع میںجس کو چاہے اپنا وکیل مقرر کرے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، مرد ہو یا عورت،اس میں وکیل اور موکل کے درمیان کوئی فرق نہیں اوروکیل کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اجرت لے کر وکالت کرے وہ اس اجرت کا حقدار ہے جو اس نے اپنے موکل کے ساتھ باہمی رضامندی سے طے کیا ہو۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 71:…

دفعہ نمبر 71: پولیس دوقسم کی ہوتی ہے : ملٹری پولیس جوامیر جہاد یعنی شعبہ حرب کے ماتحت ہوتی ہے دوسرے قسم وہ پولیس ہے جوامن وامان برقرار رکھنے کے لیے حکمران کے پاس ہوتی ہے اور محکمہ داخلی امن کے تابع ہوتی ہے ۔پولیس کے دونوںقسموں کو خاص قسم کی تربیت ثقافت (تعلیم وتربیت) دی جاتی ہے تاکہ وہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریوں کو اداکرسکے۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

ادفعہ نمبر…

دفعہ نمبر 122: چھو ٹے بچوں کی کفالت عورت پر واجب اور اس کا حق ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم بشرطیکہ چھو ٹا بچہ اس کفالت کا محتاج ہو۔جس وقت اس کو اس کی ضرورت نہ رہے تو دیکھاجائے گا،اگر پرورش کرنے والا اور ولی دونوں مسلمان ہوں ،مرد ہو یا عورت تو چھوٹے لڑکا یا لڑکی کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے رہے۔ اگر ان دونوں میں سے ایک مسلمان ہو تو کوئی اختیار نہیں دیا جائے گابلکہ ان…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 117

دفعہ نمبر 117: عورت کی ایک خاص زندگی ہے اور ایک عام۔عام زندگی میں وہ خواتین،محرم مردوں اور غیر محرم مردوں کے ساتھ اس طرح رہ سکتی ہے کہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آنا چاہیے۔بے پردہ اور زینت کا ظہار بھی نہ ہو۔خاص زندگی میں صرف خواتین اور محرم مردوں کے ساتھ رہنا ہی اس کے لیے جائز ہے۔غیر محرم مردوں کے ساتھ رہنا اس کے لیے بالکل جائز نہیں۔دونوں حالتوں میں احکام شرعیہ کی پابندی لازمی…
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 61:…

دفعہ نمبر 61: محکمہ حرب، ملٹری فورسز یعنی فوج اور پولیس سے متعلق تمام امور کا ذمہ دار ہے جس میں معاہدات ، مہمات اور فوجی سازوسامان وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ملٹری کالجز فوجی معرکے اور فوج کے لئے ضروری اسلامی ثقافت ، عسکری تربیت اور جنگی تیاری سے متعلق ہر چیز کا ذمہ دار بھی، یہی محکمہ حرب ہے اور اس محکمے کے سربراہ کو امیر جہاد کہا جاتا ہے ۔
خلافت ریاست, نبوی طریقہ کار وسلم خلافت, خلافت ریاست کے دستور,

دفعہ نمبر 85:…

دفعہ نمبر 85: محتسب کسی بھی خلاف ورزی کے بارے میں معلوم ہو نے پر فوراً کسی بھی جگہ فیصلہ دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے لیے عدالتی نشست کی ضرورت نہیں۔اپنے حکامات کو نافذ کرنے کے لیے وہ پولیس بھی ساتھ رکھے گا ۔اس کا فیصلہ فورا نافذ العمل ہو تا ہے۔ـ